ڈیسک

TT Monitoring Desk

Reports from The Thursday Times' in-house monitoring desk.

امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، روئٹرز

مریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہوا، پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے وفود ایک بار پھر پاکستان آنے پر غور کر رہے ہیں۔ فریقین ہفتے کے اختتام تک اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

United States and Iran may return to Islamabad within days, suggesting that the diplomatic channel opened in Pakistan has not closed despite the absence of a breakthrough. — FILE/THE THURSDAY TIMES

پاکستان کو عالمی سفارتی افق پر ایک بار پھر مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، وال سٹریٹ جرنل

پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

Field Marshal Syed Asim Munir has emerged as a key backchannel figure in efforts to ease US-Iran tensions, underscoring Pakistan’s renewed diplomatic relevance and growing access to Washington. — FILE/THE THURSDAY TIMES

مذاکرات تقریباً مُردَہ ہو چکے تھے، پاکستان نے آخری لمحات میں امریکا و ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کر لیا، رائٹرز

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں آخری لمحوں میں تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں، مگر پاکستان نے رات بھر کی سفارت کاری سے نہ صرف جنگ بندی بچانے میں مدد دی بلکہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔

Pakistan launched a last-ditch overnight diplomatic push to rescue a collapsing Iran war truce, secure a temporary ceasefire, and bring Washington and Tehran towards direct negotiations after regional tensions nearly spiralled out of control. — FILE/THE THURSDAY TIMES

امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے، رائٹرز

امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔

Pakistan has presented a two-phase ceasefire framework 'Islamabad Accords' to Iran and the United States that could take effect on Monday, reopen the Strait of Hormuz, reduce regional tensions, and pave the way for final in-person negotiations in Islamabad. — FILE/THE THURSDAY TIMES

ڈونلڈ ٹرمپ کا تہران کو آخری انتباہ؛ آبنائے ہرمز کھولو ورنہ ایران پر تباہ کُن حملے ہوں گے

پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔

Trump says a U.S.-Iran deal is still possible before Tuesday, but as Axios reports he has also threatened major strikes on Iranian infrastructure if talks fail while Pakistan, Egypt and Türkiye continue last-minute mediation to avert a wider regional crisis. — FILE/THE THURSDAY TIMES

پاکستان کی امن کوششیں اور بڑھتی سفارتی اہمیت، ایران جنگ میں ثالثی بھارت کے لیے سفارتی دھچکا، جریدہ فارن پالیسی

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔

Pakistan’s emerging role as a mediator in the US-Iran crisis has increased its diplomatic relevance, challenged India’s effort to sideline it, and reshaped regional perceptions of power and utility. — FILE/THE THURSDAY TIMES

پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے، رائٹرز

پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔

Pakistan has moved from diplomatic isolation to becoming a key regional mediator, driven by active diplomacy, civil-military coordination and renewed ties with major powers. — FILE/MOFA

فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، ڈیفینس سیکیورٹی ایشیاء

فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔

France’s reported refusal to give India access to Rafale core software and sensitive source codes has raised serious questions over India’s air-power sovereignty, indigenous weapons integration, and long-term defence self-reliance, turning a technical restriction into a much wider strategic dilemma. — FILE/THE THURSDAY TIMES

امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

Pakistan, once distrusted by Washington, is now emerging as a crucial back channel in efforts to bring the United States and Iran closer to talks, with Islamabad using diplomacy, geography and revived ties with Donald Trump’s circle to return to the centre of regional strategy. — FILE/THE WHITE HOUSE

پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے رابطہ کار کی حیثیت اختیار کر رہا ہے، فنانشل ٹائمز

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران تنازع میں رابطہ کاری کردار واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ رکھنے والا پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے خود کو ثالث کے طور بھی پیش کر رہا ہے۔

Pakistan is stepping up its diplomatic role in the Iran-US war, seeking to support de-escalation while safeguarding its economy, internal stability and broader regional interests. — FILE/THE THURSDAY TIMES