spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Opinionہمیں ایک معمولی واقعے کا انتظار ہے
spot_img

ہمیں ایک معمولی واقعے کا انتظار ہے

Ammar Masood
Ammar Masood
Ammar Masood is the chief editor of WE News.
spot_img

تاریخ کے اوراق پر نگاہ دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں نہ واقعات اہم ہوتے ہیں نہ شخصیات اہم ہوتی ہیں، تاریخ صرف نظریات کو یاد رکھتی ہے۔ جب بھِی دوقوتیں مزاحم ہوتی ہیں تو ایک نظریہ فتح یاب ہوتا ہے ایک کو شکست ہوتی ہے۔ نظریات کی اس جیت اور ہار کے درمیان شخصیات ہوتی ہیں، واقعات ہوتے ہیں۔

ملک میں جو صورت حال آج کل ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔ اب دو قوتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں، اب سیاسی جماعتوں کی تخصیص ختم ہو گئی ہے،اب بات جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں پر موقوف ہو گئی ہے۔  ایک طرف سے ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے، دوسری طرف سے ووٹ کو پاوں تلے روند دینے کا خدشہ ہے، ایک طرف سے پارلیمان کی حرمت کی بات کی جا رہی ہے دوسری طرف سے صدارتی نظام کا نعرہ لگ رہا ہے۔ ایک طرف سے عوام کو آواز دی جا رہی ہے دوسری طرف سے بندوق سے ڈرایا جا رہا ہے۔

پی ڈی ایم کی مزاحمت بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ باتیں ہو رہی ہیں جن کا کسی نے اس ملک میں تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ان پر الزام لگ رہا ہے جو ہمیشہ سے مقدس سمجھے جاتے تھے۔ عوام اپنے لیڈروں کی آواز میں آواز ملا رہی ہے۔ ہر صوبے سے ایک ہی صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔ بلوچستان والے اپنے دکھوں کی چھیدی ہوئی چادر دکھا رہے ہیں۔ کے پی کے والے اپنی لاشیں گنوا رہے ہیں۔ سندھ والے اپنی قربانیوں کا خراج مانگ رہے ہیں۔  پنجاب تازہ افتاد کا ماتم کر رہا ہے۔ کشمیر ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بچے کھچے کشمیر کے وزیر اعظم پر ہم غداری کا فتوی لگا چکے ہیں۔ ملک کے ہر کونے سے جبر سے نجات کی خواہش کا اظہار ہو رہا ہے،خوف کی دیواریں گرانے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ 

اپوزیشن ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ عوام کو جو شعور نصیب ہوا وہ جمہوری قوتوں کی بہت بڑی فتح ہے۔ کتنے برسوں کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہاں ستر برس کار حکومت کس طرح چلتا رہا۔ یہاں جمہوریت کے سر پر کون سے گھناونے بادل چھائے رہے، خلائی مخلوق کون ہوتی ہے، محکمہ زراعت کس کو کہتے ہیں، شمالی علاقے کی سیاحت کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ نواز شریف کو حکومت سے تو نکال دیا مگر  اسکے نتیجے میں اب غیر جمہوری طاقتیں پاکستان کے ہر گوشے سے بے دخل ہو چکی ہو رہی ہیں ،ہر گوشے سے صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔ 

یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ لوگوں کے ذہنوں پر آہنی خود چڑھا کر ان کی سوچ کو قید کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کیفیت ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب شعور کی کرنیں بند دماغوں کو منور کرتی ہیں ، جب عوام اپنے پر مسلط طویل عرصے  سے محیط کم علمی کا ماتم کرتے ہیں، جب احساس محرومی جاگتا ہے، جب خوف کی دیوار ڈھے جاتی ہے؛ ایسے میں کوئی طاقت عوامی غم و غصے کو نہیں روک سکتی۔  ایسے میں طاقتوروں کا ہر قدم  الٹا پڑتا ہے۔ ہر منصوبہ ناکام ہوتا ہے۔ ہر منصوبہ منہ کے بل گرتا ہے۔

پاکستان میں حالات سے کوئی سبق سیکھ لیا جاتا تو اچھا تھا ۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ جتنی صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے اتنا ہی ظلم بڑھتا جا رہا ہے، ہر روز نئی گرفتاریاں ہو رہی ہیں، خواجہ آصف، مریم نواز کو بتا چکے تھےکہ انھیں نواز شریف سے اختلاف پر مجبور کیا جاتا رہا، وہ نہیں مانے تو گرفتار کر لیے گئے۔ نیب اس ملک کے لوگوں کے لیے ایک ایسی افتاد بن چکا ہے کہ اس کے حوالے سے انصاف کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف انتقام کی قوت پر قائم ہے۔ 

سہ رخی اس جنگ میں سیاستدان اپنے نظریات پر ڈٹے نظر آتے ہیں، عوام ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔  دوسری جانب بظاہر غیر جمہوری قوتوں کو کوئی فرق نہیں پڑا ، وہ اپنی ڈھٹائی پر قائم ہیں، اپنے چہیتوں کو بچا رہی ہیں اور دوسروں پر الزام لگا رہی ہیں ،ان کے دل اس عوامی پکار سے موم نہیں ہو رہے، وہ اپنے مفادات کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئے ہیں۔ 

تیسری جانب وزیراعظم جن پر صرف وزیر اعظم کی تہمت لگی ہوئی ہے وہ روز بہ روز غلطیاں کر رہے ہیں، وہی قابل ِنفرین کرپشن کرپشن کا راگ الاپ رہے ہیں، اپنی نااہلی کا ہر روز ایک نیا اقرار کر رہے ہیں، اپنی کم علمی کا ہر روز نیا ثبوت فراہم کر رہے ہیں، اپنے آقاؤں کو رسوا کر رہے ہیں ۔ حکومت کے دعوے اب گرد ہو چکے ہیں۔ یہ حکومت اس ملک کے عوام کی سب سے بڑی بھول بن گئی ہے۔ اب اپوزیشن اس حکومت کو تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ، حکومت کو لانے والے اس سے جان چھڑانے  پر رضامند نہیں۔ حکومت باعزت طور پر رخصت ہونے کو تیار نہیں تو اب کیا ہوگا۔ سب اپنی اپنی پوزیشن پر جمے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے مخالف ڈٹے ہوئے ہیں، آمنے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان منجمد قوتوں کے ٹکراو سے کیا ہو گا ؟ کیا نتیجہ نکلے گا ؟ کون جیتے گا ؟ کون ہارے گا ؟

تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ انقلاب چاہے روس کا ہو یا فرانس کا ، بیداری چاہے چین میں ہو یا برطانیہ میں ، امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کا غم و غصہ ہو یا انڈیا میں عام آدمی تحریک ؛ اس کا آغاز ہمیشہ ایک بہت معمولی واقعہ سے ہوتا ہے ، ایسا واقعہ جس کی نہ تاریخی اہمیت ہوتی ہے،  نہ وہ کوئی بہت بڑے انقلاب کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ واقعہ بہت ہی معمولی ہوتا ہے لیکن اس واقعے کو عوام اپنے ردعمل سے غیر معمولی بناتے ہیں۔ نہ واقعہ نیا ہوتا ہے نہ کردار نئے ہوتے ہیں بس  اس گمنام واقعے پر ردعمل نیا ہوتا ہے۔ یہ واقعہ سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اپنے اپنے موقف پر جمی دو قوتوں کے مابین ایک نیا حل پیش کرتا ہےجو ماضی کے معیارات کی دیوار کو ڈھا دیتا ہے۔ اپنے لیے نئے رستے تلاشتا ہے، اپنا جواز خود بن جاتا ہے۔ یہ واقعہ کہیں بھی ہو سکتا ہے ۔ ہمیں بس یہ یاد رکھنا ہے کہ ہم تاریخی طور پر اس معمولی سے واقعے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

یاد رکھیں جب بھِی دوقوتیں مزاحم ہوتی ہیں تو ایک نظریہ فتح یاب ہوتا ہے ایک کو شکست ہوتی ہے۔ نظریات کی اس جیت اور ہار کے درمیان شخصیات ہوتی ہیں ، واقعات ہوتے ہیں  اور بعض یہ واقعات بہت ہی معمولی واقعات ہوتے ہیں ۔ اتنے معمولی کہ جن کو کوئی یاد نہیں رکھتا ، جن کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہوتا۔ یہ معمولی واقعات ہی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ عروج کے زوال کی ابتدا ہوتے ہیں۔ 

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: