spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Opinionلائٹ نہیں آ رہی
spot_img

لائٹ نہیں آ رہی

ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں ابھی پورے ملک کی لائٹ نہیں گئی۔ یہ واقعہ دو ہزار اٹھارہ کا بھی نہیں ہے۔ بد قسمتی سے اس ملک میں ستر سال سے لائٹ نہیں آ رہی،  روشنی نہیں ہو رہی۔

Ammar Masood
Ammar Masood
Ammar Masood is the chief editor of WE News.
spot_img

لائٹ نہیں آ رہی ، کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی،  کوئی چہرہ پہچانا نہیں جا رہا ،  ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا،۔۔ بس آوزیں ہیں، بے ہنگم آوازیں، بے تحاشا آوازیں۔ گھپ  اندھیرے میں امیدیں راکھ ہو گئی ہیں، خواب سیاہ ہو گئے ہیں، تعبیر الجھ سی گئی  کیوں کہ لوگ کہتے ہیں لائٹ نہیں  آ رہی۔

دوہزار اٹھارہ کے الیکشن سے پہلے اجالے کا ہر امکان مسترد کر دیا گیا تھا، روزن کی ہر کرن بجھا دی گئی تھی، آواز بلند کرنے والا ہر چراغ گل کر دیا گیا تھا، قلم کاروں کی  زبان پر تالے لگا دیے گئے تھے، میڈیا کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی گئی تھی،  زر خرید اور بے ضمیر لوگوں کی بولیاں لگتی رہیں،  سچ بولنے والی ہر شمع بجھا دی گئی ، جیسےشہر کی فصیلوں پر دیو کا سایا تھا،   ان دیکھا ، اجنبی اور انجانا  آسیب تھا جو چاروں طرف بد مست سیاہ بادل کی طرح چھا گیا ،اندھیرا مٹانے کے لیے تو اجالے کی ننھی سی کرن بھی کافی ہوتی ہے، سیاہی کا پردہ تان کے رکھنے کے لیے اس لطافت کا بھی گلا گھونٹ دیا گیا، اب صرف اندھیرا تھا جو دائمی تھا، اب روشنی ممکن نہیں تھی اس لیے کہ پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ  کو عوام کی امیدوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ اس ملک کومایوس کن تاریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ ملک تو  اسی دن سے تاریکی میں ڈوب گیا تھا مگر اب شور اٹھا ہے کہ ‘لائٹ  چلی گئی ہے۔’

لائٹ پہلی دفعہ نہیں گئی۔ اس ملک پر دہائیوں سے محیط اندھیرے کا راج رہا ، اس خطہ زمیں پر وہ گھنیرے بادل چھائے رہے ہیں جہاں سورج کی شعاعیں  بھی اپنا راستہ نہیں تلاش کر سکتیں۔

پہلے بھی تو  روشنی اک کرن کو سولی پر لٹکا دیا گیا، پہلے بھی روشنی کے ایک استعارے کا خون بہا دیا گیا ،پہلے بھی روشنی کے ہر منبع  کو وطن بدر کر دیا گیا
پہلے بھی تو گزرے ہیں۔

دور نارسائی کے ،بے ریا خدائی کے 

پھر بھی یہ سمجھتے ہو  ہیچ آرزو مندی 

یہ شب ِزباں بندی ہے، رہِ خداوندی 

تم مگر یہ کیا جانو 

لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں

ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر 

ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو

(ن۔م۔ راشدؔ)

دوہزار اٹھارہ کے الیکشن سے پہلے اس ملک کے باسیوں کو یاد ہی ہوگا جب  بلوچستان اسمبلی کا چراغ گل ہو گیا تھا،  ترقی کی چکاچوند سے کچھ یاسیت  پسند اتنے خوفزدہ تھے کہ سورج کو ہی مدار سے الگ کر دیا، اس پر بھی روشنی ختم نہ ہوئی تو انصاف کےروزن پر  سیاہی کا پردہ لگا دیا،  تاریکی کو تسلط دے دیا گیا، وہ روشنی جو کرن کرن منور کر رہی تھی اس کے خاتمے کا مکمل بندوبست کیا گیا۔ کبھی وفاداریوں کی تبدیلی کا بٹن دبا دیا گیا، کبھی ویگو ڈالے روشنی کی ہر کرن کی تار کاٹتے رہے، کبھی آرٹی ایس کا فیوز اڑا دیا گیا۔ کہیں  ووٹ  دینے والوں کی آنکھوں پر لوڈ شیڈنگ کر دی گئی۔ سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ، سب کے سامنے اس ملک میں اندھیرا مسلط کر دیا گیا، چراغ گل کر  دیے گئے، رات کسی شکاری کے جال کی طرح پھیلا دی گئی، نگاہوں پر پردہ ڈال دیا گیا، کچھ نظر نہیں آنے دیا گیا،  کچھ خبر نہیں ہونے دی گئی،  ہر ممکن کا امکان مسترد کر دیا گیا اور کہا جارہا ہے کہ  لائٹ چلی گئی ہے۔

لائٹ  اس ملک میں آتی جاتی رہتی ہے۔ کبھی جمہوریت  کا سورج نکلتا ہے تو جلد ہی   آمریت کا اندھیرا اس کو نگل لیتا ہے، کبھی چاند نکلتا ہے تو طاغوتی طاقت کے بادل اس کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں ، اندھیرے کے راج کا ایک ہی مقصد ہے کہ روشنی کی کوئی کرن اس ملک کے باسیوں  تک پہنچ نہ جائے، کوئی جگنو آزاد نہ رہ جائے، کوئی چراغ منور نہ ہو جائے، کوئی ستارہ ٹمٹماتا رہ نہ جائے۔ اس لیے کہ روشنی اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے، روشنی ہوتی ہے تو اندھیرا چھٹ جاتا ہے، ننھی سی کرن بھی اجالے کا امکان ہوتی ہے، اس لیے روشنی سے اندھیرا پھیلانے والوں کی بہت دشمنی ہے وہ چاہتے ہیں یہاں بس اندھیرا چھایا رہے، یہاں کسی کو روشنی کی کرن بھی نہ نظر آئے، یہاں دماغوں پر آہنی خود چڑھا دیے جائیں،  زبانوں کو مقفل کر دیا جائے،  آوازوں کو قتل کر دیا جائے،  اس لیے کہ روشنی اندھیرے کی شکست کا نام ہے ۔ طاقت کے نشے میں بدمست لوگ کہاں ہزیمت برداشت کرے ہیں،  ان کو کہاں  روشنی راس آتی ہے۔ وہ بس اعلان کرتے ہیں، بس شور مچاتے ہیں  کہ لائٹ چلی گئی ہے۔

عجیب ملک ہے جہاں روشنی پھیلانے والوں پر غداری کے فتوے لگتے ہیں ، جہاں روشنی تقسیم کرنے والوں پر کرپشن کی تہمت لگتی ہے، جہاں روشنی کے علمبرداروں پر کفر کے فتوے لگتے ہیں، جہاں روشنی کے میناروں پر سیاہی لیپ دی جاتی ہے، جہاں روشنی کے نام اور اس کے استعاروں پر بھی پابندی لگا دی جاتی ہے،  جہاں وطن کے وفاداروں پر غداری کے الزام لگتے ہیں۔ ا س اندھیر نگری میں ہمیں تاریکی پھیلانے والوں کے چہرے نظر نہیں آتے،وہ  اپنے جرم کے خوف کی چادر لپیٹے ہوئے اندھیرے میں ہی رہتے ہیں۔ نہ کوئی ان کا چہرہ دیکھتا ہے، نہ ان کی طرف کوئی اشارہ کرتا ہے، نہ کوئی ان کو الزام دیتا ہے،  نہ کوئی جرم ثابت ہوتا ہے ۔۔اس لیے کہ جب بھی کوئی اس طرح کی جسارت کرتا ہے ،شور پڑتا ہے کہ “لائٹ نہیں آ رہی”،  پورے ملک کا سسٹم بیٹھ  جاتا ہے، تاریکی مسلط کر دی جاتی ہے،۔اس اندھیرے کا فائدہ وہ اٹھاتے ہیں جو تاریکی کے دلدادہ ہوتے ہیں ، جن کی آنکھیں روشنی میں چندھیائی رہتی ہیں،  جو چراغوں کی ٹمٹماتی لو سے بھی لرز جاتے ہیں۔

ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں ابھی پورے ملک کی لائٹ نہیں گئی۔ یہ واقعہ دو ہزار اٹھارہ کا بھی نہیں ہے۔ بد قسمتی سے اس ملک میں ستر سال سے لائٹ نہیں آ رہی،  روشنی نہیں ہو رہی۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: