Kuwait just signed its second defence agreement with Pakistan in two months, part of a Gulf and Middle Eastern network that now spans four countries in under two years: Saudi Arabia, Libya, Türkiye, and now Kuwait twice over. Syria could make it five.
Fourteen newborns were killed and one rescued in a fire at the PIMS nursery in Islamabad. PM Shehbaz Sharif has ordered an inquiry due to report within 24 hours.
موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل معاشی استحکام سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی، شرحِ سود میں کمی سے مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی، قرض ادائیگی کی استطاعت بڑھ گئی۔
Field Marshal Asim Munir traveled to Tehran on Monday for his third visit this year, meeting Iran's newly appointed military leadership as Pakistan works to revive stalled US-Iran talks. Iran's Foreign Ministry says bilateral ties between the two countries have reached one of their strongest stages.
Pakistan's Army Chief Asim Munir will travel to Tehran on Monday, Iran's Foreign Ministry says, in his third visit this year tied to US-Iran mediation efforts.
Azhar Syed is an established columnist and reporter.
یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ مریم نواز کو “سمیش” کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔سابق وزیراعظم نے گوجرانوالہ کے جلسہ میں آرمی۔چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لیا تھا اور اس مرتبہ ان کے ساتھ جنرل عرفان ملک کا بھی نام لیا ہے کہ اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو یہ عہدیدار ذمہ دار ہونگے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت جو حالات تھے اب وہ حالات نہیں۔ ابھی سوشل میڈیا پر بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر بلوچ خواتین کے احتجاج کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک دھان پان سے بلوچ لڑکی گرج دار انداز میں بے خوفی کے ساتھ آزادی کے نعرے لگا رہی تھی اور اس کے پیچھے اپنے لاپتہ پیاروں کیلئے تڑپنے والی بچیاں اور بچے اسی انداز میں جواب دے رہے تھے۔
بلوچستان میں ہمیشہ بے چینی رہی ہے تاہم اصل مسلہ ڈاکٹر شازیہ کے عصمت دری کے الزام اور نواب اگر بگٹی کے موقف اور پھر ایک آپریشن میں شہادت سے شروع ہوا۔جنرل مشرف کے دور میں عسکریت پسندی کے جس رجحان کا آغاز ہوا اس میں ٹھہراو آصف علی زرداری کی صدارت میں میاں نواز شریف کی وزارت عظمی کے دوران آنا شروع ہو گیا تھا۔عدلیہ ،میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کی فراغت کے بعد جو تبدیلی لائی اس نے آج ریاست کی سلامتی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دئے ہیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت اور اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنی طرف انگلیاں اٹھنے کے باوجود کبھی بھی مکمل ولن نہیں بنی ۔اسٹیبلشمنٹ ریاست کے ایک بڑے حصہ میں خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ہیرو کا کردار ادا کرتی رہی ۔اس مرتبہ طرفہ تماشہ ہے۔پنجاب میں وہ شعور پیدا ہوا ہے کہ ایک پنجابی وزیر فواد چوہدری پنجاب میں بلوچوں کیلئے پیدا ہونے والی ہمدردی ختم کرنے کیلئے وہاں پنجابی مزدوروں کے قتل کی بات کرنے لگا ہے۔
بلوچستان میں جو نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف لگتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اسی طرح کے جذبات خیبر پختونخواہ،آزاد کشمیر اور سندھ میں بھی پیدا ہو گئے ہیں ۔ کیا سوچا جا سکتا تھا کہ پنجاب کے شہروں میں”یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے۔۔۔ کے نعرے لگیں گے۔
کیا یہ ممکن تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پختون تحفظ موومنٹ ایسی کوئی جماعت طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں چیلینج کر سکتی ہے۔ کیا یہ ممکن تھا کہ ایجنسیوں کا فخر نامی سیاستدان لاکھوں کے جلسہ عام میں کھلے عام آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو ملکی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرائے۔
پاکستان بدل رہا ہے۔پاکستان بدل چکا ہے ۔معاشی تباہی نے خوف ختم کر دیا ہے۔آج مسلم لیگ ن کا ایک سینٹر پریس کانفرنس میں چیرمین سینٹ کے انتخاب میں پڑنے والے دباو کے متعلق بتا رہا تھا۔ کوئی فوجی افسر اپنے طور پر کسی سیاستدان کو فون نہیں کر سکتا وہ صرف احکامات کی پیروی کرتا ہے۔
مریم نواز کو اگر راستے سے ہٹانے کی دھمکی دینے کا الزام سچا ہے تو اس ملک کو بچانا ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ریاستیں اور ادارے آئین،قانون کے ساتھ اخلاقی پیمانوں اور سچائی کی میزان پر پرکھے جاتے ہیں مستحکم اور مضبوط ہوتے ہیں۔عہدیدار ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ادارے اور ریاستیں باقی رہتی ہیں تاہم اداروں اور ریاستوں کی بقا اور استحکام کیلئے درکار وجوہات ختم کر دی جائیں تو تباہی مقدر بن جاتی ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت عالمی مافیا کو افغان وار کی وجہ سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے عہدیداروں کی ضرورت تھی ۔معیشت دیوالیہ نہیں تھی ۔اسٹیبلشمنٹ پوری ریاست کیلئے ولن نہیں بنی تھی ۔پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا ہے۔اپوزیشن اپنے لانگ مارچ اور دھرنہ کا رخ راولپنڈی کی طرف کرنے کی دھمکیاں دینے لگی ہے۔
ہمیں پورا یقین ہے کہ ملک میں ایسے لوگ اور قوتیں موجود ہیں جو عوام اور فوج کو آمنے سامنے نہیں آنے دیں گی۔یہ قوتیں کوئی ایسا ریاست دشمنی پر مبنی فیصلہ کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گی کہ اپوزیشن جماعتیں جی ایچ کیو کے سامنے دھرنہ دینے پر مجبور ہو جائیں۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے مریم نواز کو ملنے والی جس دھمکی کا انکشاف کیا ہے اس معاملہ کو نپٹا لیا جائے ۔ریٹائر ہونے والوں نے اپنی مدت ملازمت کی تکمیل پر ریٹائر ہو جانا ہے لیکن کوئی ایسا معاملہ نہیں ہونا چاہئے کہ معاملات براہ راست ٹکراو پر پہنچ جائیں ۔طاقت اور خوف کے ساتھ ریاستی اداروں کو استمال کر کے اختیارات پر مکمل کنٹرول کرنے کا زمانہ لد گیا ۔اب خوف کی دیوار ٹوٹ گئی اس وقت کو کبھی نہ آنے دیں کہ رہا سہا پردہ بھی آٹھ جائے عوام براہ راست جس کو ولن سمجھتے ہیں اس کے سامنے آن کھڑے ہوں۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔