spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
OpinionNationalظلم کی حماقت ایک جیسی ہوتی ہے
spot_img

ظلم کی حماقت ایک جیسی ہوتی ہے

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

انسویں صدی میں جب اٹلی نے اس ملک پر قبضہ کیا تو اس کا نام بھی تبدیل ہو گیا اور وہ اسمارا سے اریٹیریا بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اٹلی اپنے مسائل سے دوچار ہوا تو اریٹیریا کو اس کے ہمسایہ ملک ایتھوپیا کو سونپ کر چلتا بنا، ایتھوپیا نے اسے اپنا حصہ بنا کر خود میں ضم کر لیا اور یہاں سے ایریٹرین عوام نے اپنی آزادی کی جدوجہد شروع کی۔

عیسٰی ایزا فورکی ان کا نیلسن منڈیلا اور EPLF (اری ٹیرین پیپلز لبریشن فرنٹ (ان کے لئے افریقن نیشنل کانگریس (ANC) جیسے بنے۔ اری ٹیریئن عوام کی آزادی کی طویل جدوجہد جاری رہی اور بالاخر 1991 میں ایریٹیرین لبریشن فرنٹ نے ایتھوپیا کو شکست دے دی اور آزادی حاصل کر لی لیکن بد قسمت ایریٹیرین عوام کو ایک دریا کے پار اتر کر ایک اور دریا کا سامنا کرنا پڑا۔ 1993 میں لبریشن فرنٹ کا لیڈر عیسٰی ایزا فورکی صدر بنا تو جنگ آزادی کا یہ ہیرو قہر کا دیوتا بن کر اپنی اصلیت دکھانے لگا اقتدار سنبھالتے ہی اس نے یہ اعلان کیا کہ اگلے تیس چالیس سال تک اری ٹیریا میں انتخابات نہیں ہوں گے اور تمام ریاستی طاقت کا منبع اور مرکز میری ذات ہی ہوگی۔

اس کے بعد عوام کے تمام بنیادی حقوق معطل کیے گئے اور شہری آزادی بزور قوت چھین لی گئی اس دوران اگر کسی نے معمولی سی مزاحمت یا احتجاج کیا تو اس کے سامنے صرف موت کا راستہ ہی بچا۔

صحافی اور قلم کار اری ٹیرین صدر عیسٰی ایزافورکی کے ان جابرانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف حرکت میں آئے تو جبر کا اژدھا (اری ٹیرئن صدر) ان کی طرف پلٹا اور انہیں ہڑپ کرنے لگا اس نے ایک صدارتی حکم جاری کیا کہ جو بھی صحافی یا قلم کار مخالفت کرے گا تو عدالتی کارروائی یا ٹرائل نہیں ہوگا بلکہ صرف سزا سنائی جائے گی اور وہ بھی انتہائی سخت سزا۔ دو ہزار ایک میں اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور ملک بھر میں آزاد ئی صحافت پر نہ صرف پابندی لگا دی بلکہ ان اداروں سے وابستہ تقریبًا تمام صحافیوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا، جہاں بہت سے صحافی مار دیے گئے۔

یو این انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کے اعداد و شمار کے مطابق درجن بھر پرائیویٹ ٹیلی کمیونیکیشن کے ادارے بند کر دیے گئے، اور صرف ایک ہی کمیونیکیشن کمپنی قائم کردی گئی جس کا نام ایری ٹیل سب کمیونیکیشن کمپنی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمپنی مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے اور یہ کمیونیکیشن کا واحد گیٹ وے ہے یعنی مواصلات کے تمام ذرائع بشمول ٹیلی وژن، ریڈیو انٹرنیٹ اور موبائل فون اسی گیٹ وے سے گزرتے ہیں جہاں ان ذرائع کو سختی کے ساتھ چیک کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کسی پر معمولی سا شک پڑ جائے تو اسے عبرت کا نشان بننے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ پورے اریٹیریا میں صرف ایک فیصد لوگوں کی رسائی انٹرنیٹ تک ہے اور یہ ایک فیصد لوگ بھی وہ ہیں جو یا تو اریٹیریا کے جابر حکمران عیسٰی ایزا فورکی کے قریبی ساتھی ہیں یا دوسرے سرکاری عہدیدار جبکہ ننانوے فیصد باقی ایریٹیرین عوام کو اس سہولت یعنی انٹرنیٹ کے استعمال سے جبرًا روکا گیا ہے تا کہ جابر حکمران اور نظام کے خلاف عوامی سطح پر رابطہ کاری اور موٹیویشن نہ ہو سکے۔

ان حالات سے تنگ یا خوفزدہ ہو کر بہت سے صحافی ملک چھوڑ گئے ہیں اور دوسرے ممالک میں خود ساختہ جلا وطنی اختیارکیے ہوئے ہیں۔ بعض سیاسی ورکر بھی چوری چھپے اریٹیریا سے نکل گئے ہیں لیکن یہ لوگ دوسرے قریبی ممالک میں بیٹھ کر اپنے اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ان جلاوطن صحافیوں نے ریڈیو براڈ کاسٹ کے ذریعے خبریں دینے کی ایک کامیاب کوششش ضرور کی مگر جوں ہی حکمران طبقے کو پتہ چلا تو فورًا اس کے ریڈیائی سگنل جام کر دیے گئے لیکن شدید خوف اور ریاستی جبر کے باوجود بھی یہ آزادی اظہار کے حامی اور جمہوریت پسند سر پھرے اس سرنگ میں اپنا سفر اس امید پر جاری رکھے ہوئے ہیں کہ کہیں تو دوسرے سرے پر روشنی نظر آجائے گی۔
گویا اری ٹیریا کے جانباز بیٹے انتہائی مشکل ترین حالات میں بھی پسپا نہیں ہوئے اور ایک دلیر بانکپن کے ساتھ جبر کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں
کوئی دن جاتا ھے کہ وہ جمہوریت اور آزادی کا مشعل تھام لیں گے۔

رہا اریٹیریا کا جابر حکمران اور اس کی طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے غیر فطری اور ظالمانہ اقدامات تو ایسے ہتھکنڈوں سے کیا پہلے کیا کسی کو کامیابی ملی ہے جو اسے مل جائے گی؟
فقط اتنا ہوتا ہے کہ جبر اور جدوجہد کا دورانیہ تھوڑا سا بڑھ جاتا ہے. رکتا کم از کم برگز نہیں
اور پھر اکیسویں صدی تو غضب ڈھاتی ہوئی آئی ہے کیونکہ بات کرنے اور کمیونیکیٹ کرنے کے لئے ڈیجیٹل ارتقاء نے اتنے سارے دریچے کھول دیئے ہیں کہ گننا اور یاد کرنا تک مشکل ہے اور ہاں اگر ارادہ مضبوط اور جبر کے خلاف بات کرنا مقصود ہی ہو تو اسے روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ انتہائی حد تک نا ممکن ہو جاتا ہے، کیونکہ آزادی کے متوالے اور جبر کے باغی ایک بار اٹھیں تو زبانیں کھینچنے اور قلم توڑنے سے بات کہاں بنتی ہے۔

ہم نے تو ایک صدی پہلے ہی رومالوں پر ریشمی کشیدہ کاری کو بولتے اور قیامت ڈھاتے دیکھا تھا۔ اب تو زمانہ بھی وہ نہیں رہا لیکن کیا کیجئے کہ طاقت کی فطرت ہی یہی ہے کہ اسے اپنی گٹھتی ہوئی طاقت کے علاوہ کچھ نظر آتا ھی نہیں حتی کہ پہاڑ جیسے حقائق بھی. اور یہی غفلت ہمیشہ اسے لے ڈوبتی ہے۔ تاریخ کا سبق تو بہرحال یہی ہے کہ جبر کی تاریک سرنگ کی دوسری سمت راستہ بھی ہے اور امڈتی ہوئی روشنی بھی!

لیکن تاریخ سے بے خبر لوگوں کی نفسیات اور حماقتیں ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہیں خواہ وہ براعظم افریقہ میں ہوں یا بر اعظم ایشیا میں۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: