Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
انیس سو چھیالیس کا زمانہ تھا۔ پاکستان بننے کے آثار بہت واضح ہو گئے تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو یقین ہو چکا تھا کہ اب لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے گا پاکستان۔ ہر دل پر ایک ہی امنگ تھی کہ قائداعظم کی حوصلہ مند قیادت میں جلد ہی مسلمانوں کے لیئے ایک نیا وطن بن کر رہے گا۔ جہاں انہیں سوچنے کی، آذادی اظہار کی ، اپنے مذہبی شعار کی ، اپنی زبان کی اور اپنے حقوق کی آزادی ہو گی۔ جہاں ایمان، اتحاد اور تنظیم ہو گی۔ جہاں انگریز کی غلامی نہیں ہو گی اور سب ایک آزاد فضا میں سانس لیں گے۔ ایک ایسا ملک ہو گا جہاں انکو کوئی غلام نہیں سمجھے گا۔ جہاں قائد کے فرمان کے مطابق سب کو برابر حقوق ملیں گے۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق سلب نہیں ہو گے۔ اس زمانے میں نوجوانوں میں جذبہ شوق دیدنی تھا وہ بڑھ چڑھ کے تحریک پاکستان میں حصہ لے رہے تھَے۔ ہر جلسے میں جاتے۔ قائد کا ہر حکم بجا لاتے۔ ہر کام رضاکارانہ کرتے۔
رنگ علی ہاشمی کا تعلق امرتسر سے تھا وہ برٹش آرمی میں ملازم تھے۔ برٹش آرمی سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ انگریز راج سے نفرت کرتے تھے اور غلامی کی اس زندگی سے تنگ آچکے تھے۔ آذادی کی خواہش انکے دل میں ہر دم موجزن رہتی تھی۔ اس زمانے میں برٹش راج کے لوگ رنگ علی ہاشمی کو اینٹی سٹیٹ کہتے اور ان پر غداری کے فتوے لگاتے۔ لیکن وہ ہر خوف اور بہتان سے بالاتر ہو کر قائد اعظم کے حوصلے کے گرویدہ تھے۔ ان کے فرمودات سے عشق کرتے تھے۔ رنگ علی ہاشمی کثیر الاولاد تھے۔ انکے دس بچے تھے ، پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔ سب سے بڑے بیٹے کا نام دلمیر حسین ہاشمی تھا۔ وہ ہر وقت اپنے بچوں کو پاکستان کی اہمیت ، آذادی کی ضرورت اور قائد کے فرموادات کی تلقین کرتے تھے۔ شائد یہی وجہ تھی کہ دلمیر حسین ہاشمی نے جب انیس سو چھالیس میں میٹرک کیا۔ تو وہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں ایک جواں سال کارکن کی حیثیت سے شامل ہوگئے۔ قائد اعظم کی ایماء پر مسلم لیگ کے لیئے چندہ جمع کرنے کی مہم پر جٹ گئے۔ اس زمانے میں دمڑیوں کا رواج تھا۔ دلمیر حسین نے اپنی ساری جمع جتھا اکھٹی کی اور ایک ایک دمڑی جمع کر کے کل سولہ روپے مسلم لیگ کے خزانے میں جمع کروائے۔ یہ سولہ روپے دلیمر حسین کا کل اثاثہ تھا۔
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ تو رنگ علی ہاشمی اپنے دس بچوں اور اہلیہ کو لے کر پیدل ہی امرتسر سے پاکستان کی جانب چل پڑے۔ فسادات کا زمانہ تھا۔ فسادیوں کے جتھے خونی نیامیں تھامے مسلمانوں کے قافلوں کے منتظر تھے ۔ ایسے ہی ایک قافلے کا حصہ رنگ علی اور انکے اہل خانہ بھی تھے۔ فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ نہتے مسافروں کے پاس اپنے تحفظ کے لیئے آہ بکا کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ دلمیر حیسن کے سامنے انکی دو بہنوں اور دو بھائیوں کو ذبح کر دیا گیا۔ بہنوں کی عمریں پانچ اور سات سال تھی۔ ایک ذبح ہونے والے بیٹے کی عمر چودہ سال اور دوسرے کی عمر سترہ سال تھی۔ دہشت اتنی تھی کہ اس خاندان کو اپنے پیاروں کی لاشیں تک دفنانے کا موقع نہیں ملا۔ اپنے پیاروں کی کٹی پھٹی لاشیں بے گور کفن چھوڑ قافلے نے اپنا سفر جاری رکھا۔
یہ قافلہ جب پاکستان پہنچا تو مسافروں کی تعداد نصف سے بھی کم رہ گئی تھی۔ اس سرزمین مقدس پر پہنچتے ہی قافلے والوں نے اس زمین کو چوما، سجدہ کیا اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اب وہ ایک آذاد ملک میں آ گئے ہیں جہاں کوئی ان پر غلامی کی تمہت نہیں لگائے گا۔
رنگ ہاشمی تلاش معاش کے لیئے رحیم یار خان چلے گئے۔ جہاں بڑے بیٹے دلمیر حیسن نے وٹرنری ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کی۔ لاہور میں شادی کی۔ اللہ نے دلمیر حسین کو چھ بچے عطا کیئے جن میں سے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام صابر محمود ہاشمی ہے۔ دلمیر حیسن نے ساری عمر اپنی اولاد کو ہجرت کی اذیتیوں کے قصے سنائے۔ غلامی کی زندگی کے عذاب بتائے، پاکستان سے محبت کا درس دیا ، قائد کی شخصیت کے سحر کے بارے میں بتایا انکی اصول پسندی کے قصے سنائے۔ اور بتایا کہ ہمیں آذادی کس مشکل سے ملی۔ دلمیر حیسن کے والد بھی پکے مسلم لیگی تھی۔ دلمیر حیسن بھی مسلم لیگ کا دم بھرتے تھے۔ انہیں قائد اعظم کی مسلم لیگ سے عشق تھا۔ بچوں کو بھی اسی عشق کا درس دیتے تھے۔
دلمیر حسین کے پاکستان اور انکے سب سے چھوٹے بیٹے صابر محمود کے پاکستان میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ صابر کو سیاسی شعور اپنے پرکھوں سے ملا۔ جمہوری سوچ انکی سرشت میں ہے۔ انکی تربیت ہی اس شعور کے ساتھ ہوئی ہے۔ صابر بھی پکے مسلم لیگی ہیں۔ انہیں نواز شریف سے بہت عقیدت ہے۔ انہیں جمہوریت کی بات سمجھ آتی ہے اس لیئے کہ انکے بزرگوں نے اسی کی تعلیم دی ہے۔ وہ ووٹ کو عزت دینے کے اس لیئے قائل ہیں کہ ان بزرگوں کا خون اس جدوجہد میں شامل ہے۔ وہ آئین کی بالا دستی کے قائل ہیں کہ انکے باپ دادا نے انہیں یہی درس دیا ہے۔
پچیس جنوری دو ہزار اکیس کو صابر محمود ہاشمی کو ایف آئی کا پہلا نوٹس ملا۔ ان پر غداری کی تہمت لگائی گئی تھی۔ انہیں اینٹی سٹیٹ قرار دیا گیا۔ ان کا جرم جمہوریت ، آذادی اظہار اور قاضی فائز عیسی کے حق میں ٹوئٹ کرنا ثابت ہوا۔ اس دن کے بعد سے آج تک صابر محمود کبھی تھانوں میں پیش ہو رہے ہیں کبھی پیشیاں بھگت رہے ہیں ، کبھی غداری کے فتوے ان پر لگائے جا رہے ہیں اور کبھی ان پر اینٹی سٹِٹ ہونے کا بہتان لگ رہا ہے۔
میری چیف جسٹس آف پاکستان سے صرف یہ استدعا ہے وہ صابر محمود کو یہ بتادیں کہ وہ اس وقت جشن آذادی منائیں یا پھر غداری کے فتووں پر پیشیاں بھگتیں، اپنے بزرگوں کے خون ناحق کا ماتم کریں یا اینٹی سٹیٹ کے الزامات بھگتیں ، اپنے والد کی تربیت پر عمل کریں یا اپنی سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو جائیں ۔ تحریک پاکستان کے شہیدوں کا نوحہ پڑھیں یا وطن دشمنی کے طعنے سہیں۔ پاکستان کی جھنڈیاں لگائیں یا پھر ایف آئی آرز کی کاپیاں کروائیں۔ اور اگر جناب چیف جسٹس صاحب اس مملکت خداداد میں یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو۔
بہت اچھا ہو گا اگر ہم صابر محمود جیسے سیاسی کارکن کو یہ بتا دیں کہ انکے آباء ہجرت کر کے، اپنے پیاروں کی خون آلود لاشیں چھوڑ کر، ایک ایسے ملک میں آ بسے ہیں جہاں جمہوریت جرم ہے، جہاں آزادی اظہار غداری ہے، جہاں عدالتوں کا احترام ایک بہتان ہے اور جہاں آئین کی بالا دستی ایک طعنہ ہے۔ بہت اچھا ہو کہ ہم صابر محمود کو بتا دیں تمہارے بزرگوں کی قربانیاں ضائع گئیں، ان کا خون رائیگاں ہوا، انکا آزادی کا سپنا ٹوٹ گیا۔ صابر محمود تم اب بھی غلام ہو۔ تمہیں نہ بولنے کا حق ہے نہ سوچنے کا۔ تمہارے صرف آقا بدلے ہیں قسمت نہیں۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔