افغانستان ایک پراسرار سناٹے کی لپیٹ میں ہے چند دن پہلے امریکی فوج کے انخلاء کے ساتھ ہی طالبان قندھار سے ایک آندھی کی طرح اٹھے اور ایک ریلےکی مانند کابل میں داخل ہوئے۔

!خلاف معمول نہ کوئی مزاحمت نہ ہی خوں ریزی اور نہ ھی مخالف قوتوں کی طاقت

اگر تاریخ کسی کے عقل کو چھو رہی ہے تو پھر یقینا وہ شدید حیرت کا شکار ہو کر سوچتا ہوگا کہ آخر ایسا کونسا جادو پھونکا گیا کہ وار لارڈز اور جنگجوؤں سے بھری ہوئی افغان ریاستیں پتھر کا بت بن کر رہ گئیں۔

بغلان اور سروبی میں افغان تاریخ کا خوفناک جنگجو گلبدین حکمت یار اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں اور طالبان ان ریاستوں کو پلک جھپکتے میں فتح کرتے ہوئے آگے بڑھے۔

شمالی ریاستوں جوزجان فاریاب اور قندوز کا وہ رشید دوستم چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا جس نے بیس سال پہلے طالبان کے خلاف ایک خونخوار جنگ لڑی تھی۔

بلخ ریاست کا طاقتور لیکن سفاک وار لارڈ استاد عطاء ازبکستان اور بلخ کے درمیان قائم حیرتان پل اپنے بیٹوں سمیت خاموشی کے ساتھ کراس کر گیا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی اور چند گھنٹوں بعد استاد عطاء تاجکستان میں دکھائی دیے۔

ایرانی بارڈر سے ملحقہ ریاست ہرات کا آھنی اعصاب والا وہ کمانڈر اسماعیل خان سرنگوں دکھائی دیا جس نے ایک وحشت انگیز دور میں بھی طالبان کا دم خم نکال کر رکھ دیا تھا۔

طرفہ تماشا دیکھتے جائیں کہ دو عشروں تک نیٹو اور امریکی افواج سے ٹریننگ لینے اور جبلی طور پر جنگجو افغان فوج گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہو گیا۔

واقعی ایک عجیب جنگ اور اس بھی زیادہ عجیب فتح ہے کہ کہ گاڑیاں اور موٹر سائکلیں سرپٹ دوڑتی رہیں اور فتوحات ہوتی رہیں۔

وہ بھی ایک ایسے ملک میں جس کی تاریخ اس حوالے سے حد درجہ خون آلود ھے۔

بھر حال افغانستان ایک بار پھر “فتح ” ہو چکا ھے اور طالبان نے ملک کا نظم و نسق سنبھال کر “کام” شروع کر دیا ھے۔

جبکہ ہمارے لوگوں نے بھی حسب معمول ٹی وی چینلوں پر مسخروں سے “فیض ” لیتے ہوئے جشن منانا شروع کر دیا ھے۔

ابھی ابھی کسی نے ایسے ہی ایک رائے ساز کی ویڈیو کلپ تبصرے کے لئے بھیجی تو مجھے سنے بغیر معلوم تھا کہ ستاون ھزار بمباروں سے طالبان کی حب الپاکستانیت والی وہی کہانی ہوگی جسے سن سن کر نہ صرف ہمارے کان پک گئے ہیں بلکہ پس منظر سے بھی آگاہی رکھتے ہیں اس لئے تجزیہ سنے بغیر ہی “تبصرہ” کر دیا۔

سو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ “جشن فروش ” ابھی سودا بیچنے میں لگے رہیں گے اور جاہلیت کا بازار بھی گرم رہے گا۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکی میڈیانے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھانا شروع کر دیا ھے۔

جبکہ پاکستان پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔

ایک ذریعے کے مطابق امریکی کانگرس آج (17 اگست) پاکستان کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل حساس بحث کر رہی ھے۔

انقلاب بے شک کابل میں آیا ہے لیکن خوف ہر اس پاکستانی کے دل میں جا کر بیٹھ گیا ہے جسے جذباتیت اور حماقت کی بجائے عقل و خرد کے ساتھ معاملہ ھے۔

خدا نہ کرے کہ ہمیں پھر سے اس بد بخت ماضی کا سامنا کرنا پڑے کہ ادھر قوم کو ایک ڈکٹیٹر ایوب خان کا عشرہ ترقی منانے پر لگایا گیا اور ادھر ڈھاکہ ڈوب گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here