Afghan Taliban Agriculture Minister Mawlawi Ataullah Omari has said Indians and Afghans "share the same DNA", describing India as feeling "like our own country" during a visit to New Delhi aimed at strengthening trade and economic cooperation.
The US has charged Lawrence Bishnoi, imprisoned in India, and Goldy Brar with directing the 2023 murder of Canadian Sikh leader Hardeep Singh Nijjar. 37 defendants charged, 24 arrested. The charges renew scrutiny of India-linked transnational repression.
Argentina beat Egypt 3-2 after trailing 2-0 in the 2026 World Cup round of 16. Goals in the 79th, 83rd and 90th minutes completed a stunning comeback. Messi and Argentina are in the quarter-finals.
پاکستان لیبیا کے مشرقی اور مغربی حریف طاقت مراکز کے درمیان خاموش ثالثی کر رہا ہے، جس میں امریکہ بھی “مکمل طور پر آگاہ اور شامل” بتایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کے امریکہ ایران مذاکرات میں مرکزی کردار کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر پیچیدہ علاقائی تنازعات میں سفارتی چینل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
Pakistan has quietly begun mediating between Libya's rival factions, Reuters reports, with the US fully aware and involved. A proposed 36-month Libya Reunification Plan is being discussed. Pakistan's Libya role follows its central role in the US-Iran Islamabad MOU.
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
افغانستان ایک پراسرار سناٹے کی لپیٹ میں ہے چند دن پہلے امریکی فوج کے انخلاء کے ساتھ ہی طالبان قندھار سے ایک آندھی کی طرح اٹھے اور ایک ریلےکی مانند کابل میں داخل ہوئے۔
!خلاف معمول نہ کوئی مزاحمت نہ ہی خوں ریزی اور نہ ھی مخالف قوتوں کی طاقت
اگر تاریخ کسی کے عقل کو چھو رہی ہے تو پھر یقینا وہ شدید حیرت کا شکار ہو کر سوچتا ہوگا کہ آخر ایسا کونسا جادو پھونکا گیا کہ وار لارڈز اور جنگجوؤں سے بھری ہوئی افغان ریاستیں پتھر کا بت بن کر رہ گئیں۔
بغلان اور سروبی میں افغان تاریخ کا خوفناک جنگجو گلبدین حکمت یار اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں اور طالبان ان ریاستوں کو پلک جھپکتے میں فتح کرتے ہوئے آگے بڑھے۔
شمالی ریاستوں جوزجان فاریاب اور قندوز کا وہ رشید دوستم چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا جس نے بیس سال پہلے طالبان کے خلاف ایک خونخوار جنگ لڑی تھی۔
بلخ ریاست کا طاقتور لیکن سفاک وار لارڈ استاد عطاء ازبکستان اور بلخ کے درمیان قائم حیرتان پل اپنے بیٹوں سمیت خاموشی کے ساتھ کراس کر گیا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی اور چند گھنٹوں بعد استاد عطاء تاجکستان میں دکھائی دیے۔
ایرانی بارڈر سے ملحقہ ریاست ہرات کا آھنی اعصاب والا وہ کمانڈر اسماعیل خان سرنگوں دکھائی دیا جس نے ایک وحشت انگیز دور میں بھی طالبان کا دم خم نکال کر رکھ دیا تھا۔
طرفہ تماشا دیکھتے جائیں کہ دو عشروں تک نیٹو اور امریکی افواج سے ٹریننگ لینے اور جبلی طور پر جنگجو افغان فوج گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہو گیا۔
واقعی ایک عجیب جنگ اور اس بھی زیادہ عجیب فتح ہے کہ کہ گاڑیاں اور موٹر سائکلیں سرپٹ دوڑتی رہیں اور فتوحات ہوتی رہیں۔
وہ بھی ایک ایسے ملک میں جس کی تاریخ اس حوالے سے حد درجہ خون آلود ھے۔
بھر حال افغانستان ایک بار پھر “فتح ” ہو چکا ھے اور طالبان نے ملک کا نظم و نسق سنبھال کر “کام” شروع کر دیا ھے۔
جبکہ ہمارے لوگوں نے بھی حسب معمول ٹی وی چینلوں پر مسخروں سے “فیض ” لیتے ہوئے جشن منانا شروع کر دیا ھے۔
ابھی ابھی کسی نے ایسے ہی ایک رائے ساز کی ویڈیو کلپ تبصرے کے لئے بھیجی تو مجھے سنے بغیر معلوم تھا کہ ستاون ھزار بمباروں سے طالبان کی حب الپاکستانیت والی وہی کہانی ہوگی جسے سن سن کر نہ صرف ہمارے کان پک گئے ہیں بلکہ پس منظر سے بھی آگاہی رکھتے ہیں اس لئے تجزیہ سنے بغیر ہی “تبصرہ” کر دیا۔
سو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ “جشن فروش ” ابھی سودا بیچنے میں لگے رہیں گے اور جاہلیت کا بازار بھی گرم رہے گا۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکی میڈیانے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھانا شروع کر دیا ھے۔
جبکہ پاکستان پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق امریکی کانگرس آج (17 اگست) پاکستان کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل حساس بحث کر رہی ھے۔
انقلاب بے شک کابل میں آیا ہے لیکن خوف ہر اس پاکستانی کے دل میں جا کر بیٹھ گیا ہے جسے جذباتیت اور حماقت کی بجائے عقل و خرد کے ساتھ معاملہ ھے۔
خدا نہ کرے کہ ہمیں پھر سے اس بد بخت ماضی کا سامنا کرنا پڑے کہ ادھر قوم کو ایک ڈکٹیٹر ایوب خان کا عشرہ ترقی منانے پر لگایا گیا اور ادھر ڈھاکہ ڈوب گیا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔