تازہ ترین صورتحال یہ ہے  کہ بظاہر تو افغانستان خاموش اور خوابیدہ ہے کیونکہ طالبان نہ صرف کابل پر قابض ہو چکے ہیں بلکہ اب کے بار انہوں نے ماضی کے برعکس لبرل اور دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے محاذ آرائی سے بھی گریز کی پالیسی اختیار کی ہے۔ 

لیکن جو لوگ محض دانشوری بیچنے کی بجائے زمینی حقائق تک رسائی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ افغانستان کے ظاہری خدو خال سے حقیقی صورتحال بہت حد تک مختلف ہوتی جا رہی ہے۔ 

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ احمد شاہ مسعود کے آبائی ریاست پنج شیر پر طالبان قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں بلکہ احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود  استاد عطاء اور رشید دوستم کی مانند اپنا علاقہ چھوڑ کر تاجکستان یا ازبکستان بھی نہیں گیا جس سے پنج شیر پر اس کی مظبوط گرفت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

یاد رہے کہ شمال میں موجود ہونے کے باوجود پنج شیر افغانستان کی وہ واحد ریاست تھی جس پر روس قبضہ نہیں کر سکا تھا اور احمد شاہ مسعود نے طویل عرصے تک ایک حیرت انگیز مزاحمت کی تھی۔

افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح بھی اس وقت پنج شیر میں ہیں اور وہاں سے طالبان کے خلاف اپنی صدارت کےقانونی اور  قبضے کے خلاف حربی اعلان بھی فرما رہے ہیں لیکن حقائق یہ ہیں کہ امر اللہ صالح کو پنج شیر میں حمایت تو درکنار بلکہ الٹا شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے البتہ احمد شاہ مسعود کا بیٹا اس وقت وہ واحد جنگجو ہے جو کھل کر طالبان کے خلاف میدان میں موجود ہے۔ 

طالبان کے خلاف احمد مسعود کا رویہ فی الحال کافی جارحانہ ہے

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس نے پنج شیر سے ملحقہ خجان اور اندراب اضلاع بھی طالبان سے چھین لئے ہیں جبکہ امر اللہ صالح کو  بھی سیاسی حوالے سے  اس کی تائید حاصل ہے۔

اطلاعات کے مطابق رشید دوستم کا بیٹا یار محمد دوستم بھی تاجکستان سے واپس پہنچ چکا ہے لیکن اپنے زیر اثر ریاستوں فاریاب جوزجان اور قندوز جانے کی بجائے وہ پنج شیر چلے گئے ہیں۔ 

گویا اس وقت کابل کے مقابلے میں پنج شیر شمالی اتحاد اور وہاں کے جنگجوؤں کا مرکز بنتا جا رہا ہے جبکہ طالبان بھی پنج شیر کی طرف پیش قدمی کر رھے ہیں۔

اگر چہ شمالی اتحاد کے ایک اہم رہنما عبداللہ عبداللہ کابل میں موجود ہیں لیکن ایک عام رائے یہ ہے کہ انہیں شمال کی نمائندگی کرنے کے لئے روکا گیا ہے۔

افغانستان کی سیاست اور مزاج کو سمجھنے والے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک غیر محسوس طریقے سے طالبان مخالف  شمالی اتحاد ایک مشترکہ منصوبے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 

اس وقت وسیع البنیاد حکومت کے قیام کے لئے احمد مسعود سمیت شمالی اتحاد کے دوسرے رہنماؤں کو اگر چہ رابطے میں لیا جا رہا ہے لیکن اگر خدا نخواستہ مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے تو جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ شمالی ریاستوں میں طالبان کا اثر و رسوخ بھی کافی حد تک موجود ہے۔ 

جبکہ دوسری طرف کابل میں طالبان گلبدین حکمت یار اور حامد کرزئی قریب آتے جا رہے ہیں یاد رہے کہ یہ تمام لوگ پختون ہیں اور ان کا تعلق بھی عمومی طور پر  جنوبی ریاستوں سے ہے۔

بلکہ طالبان قیادت اور حامد کرزئی کا آبائی علاقہ  قندھار ہونے کے ساتھ قبیلہ بھی ایک (پوپلزئی) ھی ہے۔

ملا برادر  جمعہ کے دن کابل پہنچ چکے ہیں اور (ھفتہ کے دن) ایک اہم اجلاس میں شرکت بھی کی جس میں مستقبل کی حکومت کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ 

حال ہی میں طالبان رہنما خلیل حقانی اور انس حقانی گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ 

لیکن اس تمام منظر نامے کے عقب میں کچھ اور حقائق بھی موجود ہیں جس  میں سے ایک یہ بھی ہے کہ طالبان کے اندر فکری حوالے سے دو واضح گروپ بھی  ہیں۔ 

قندھار شوری کو سخت گیر مانا جاتا ہے جبکہ حقانی گروپ قدرے معتدل ہیں۔

سنا ہے کہ طالبان کی نئی لبرل پالیسی پر حقانی گروپ کا غلبہ ہے جبکہ قندھار گروپ کو اس پر تحفظات ہیں۔ 

دوسری طرف شمالی اتحاد میں بھی ایک واضح دراڑ موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلخ اور ہرات ریاستوں نے ابھی خود کو شمالی اتحاد کے بنتے نئے مرکز پنج شیر سے خود کو ایک  فاصلے پر رکھا۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یقینا بہت سارے اندیشے بھی سر اٹھانے لگتے ہیں کہ خدا نخواستہ کہیں پھر سے جنوب اور شمال ایک دوسرے کے مقابل نہ آ جائیں اور یہی وجہ ہے کہ قدرے خاموش اور پر امن حالات کے باوجود بھی افغانستان ڈولتا اور لرزتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here