Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
تحریر حماد حسن
نواز شریف نے ناسازگار موسموں اور سرکش قوتوں کے سامنے سول سپر میسی کا علم اٹھایا تو تب اس کا زاد راہ فقط چند وفادار ساتھی یا انگلیوں پر گنے جاتے چند دلیر اور حق گو صحافی ھی تھے۔ (تب پنڈی کی ایک خاتون اور ایک فیشن ڈیزائنر کا کاروباری وژن اور صرف خوشامدانہ ٹوئیٹ کی بلائیں لینا بیانیئے کا حصہ نہ تھے)
لیکن اس تحریک کے عقب میں نواز شریف کی پچھلی حکومت کی وہ شاندار کارکردگی بھی تھی جسے در اصل ان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک معجزے کی شکل میں ترتیب دے کر دنیا کو دنگ کر دیا تھا
پٹرول کو 65 اور ڈالر کو 100 روپے پر باندھ کر اسحاق ڈار مفلوک الحال معیشت کو کھلے میدان میں لے آیا تو حالت نزع کو پہنچے سٹاک ایکسچینج نے کچھ ھی دنوں میں قلانچیں بھرنا شروع کیا اور دیکھتے ھی دیکھتے چون ھزار کی بلندی کو چھو لیا
جی ڈی پی 6 فیصد کی طرف بڑھنے لگی تو مہنگائی کی شرح خود بخود گرتے گرتے تین فیصد پر ھانپنے لگی تھی کہ ٹاوٹ صحافیوں اور بے عقل لونڈوں کو عمران خان (اب نام ھی کافی ہے ) کے گرد اکٹھا کر کے ایک اودھم مچایا گیا اور پھر اس کے بطن برآمد ہوتا ایک تباہ کن منظر نامہ آپ کے سامنے ھے.
اس بد نصیب ملک پر حسب سابق آمریت کی پردہ پوش شام الم اتری اور جیلوں اور جلا وطنیوں کا بازار سجا تو اس بدبخت قوم کے معاشی محسن اسحاق ڈار نے بھی اپنا بوریا بستر اٹھا کر دیار غیر کا رخ کیا
لیکن ادھر کا وٹس ایپ میڈیا حسب معمول نواز شریف اور اس کے ساتھیوں یا باالفاظ دیگر سول سپر میسی کے حمایتی سیاستدانوں کے خلاف تسلسل کے ساتھ زھر اگلنے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں لگا رھا
ان”ٹارگٹس ” میں سے ایک اھم ٹارگٹ اسحاق ڈار بھی تھا کیونکہ وہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے والوں میں سرفہرست تھا اور چونکہ ترقی کی بطن سے قانون کی بالا دستی اور شعور پھوٹتا ہے اس لئے ایسے لوگ “وارا ” نہیں کھاتے بلکہ انہیں اول درجے کا دشمن سمجھا جاتا ہے
سو صحافتی بھیڑیوں کو ٹاسک دیا گیا کہ اسحاق ڈار کی چیر پھاڑ کرتے رہیں
ظاہر ہے کہ ایسے کاموں کے لئے پرلے درجے کے ٹاوٹ ھی درکار ہوتے ہیں جن کے پاس معلومات شہادت اور دلیل تو درکنار عقل تک بھی نہیں ہوتا
اس لئے ان کا سارا زور بے بنیاد الزام تراشی جھوٹ اور فریب کاری پر ھی ہوتا ھے سو اس معاملے میں بھی اس فرسودہ “تکنیک ” کے استمعال سے کام لیا گیا جسے اسحاق ڈار نے فورا اچک لیا اور اس پراگرامز کے وڈیوز لےکر برطانوی عدالت میں پٹیشن دائر کر دی
سو چند گھنٹے پہلے سنائے گئے عدالتی حکم کے مطابق ARY چینل کو اپنے “عظیم ماھرین اور سینیئر تجزیہ نگاروں ” چودھری غلام حسین اور صابر شاکر کے ھاتھوں نہ صرف ایک لاکھ پاونڈ کا جرمانہ دینا پڑا بلکہ اپنے چینل پر معافی بھی مانگنا پڑی گویا اب ہور چوپو والی صورتحال درپیش ہے۔
اور اس حوالے سے صرف انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر پیش رفت ہونے لگی ہے کیونکہ اسلام آباد ھائی کورٹ مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست خارج کر چکی جبکہ حال ہی میں ابصار عالم کے خلاف آیف آئی اے بھی اپنی درخواست واپس لے چکی ہے۔
گویا معاملات اب اس نہج اور ڈگر سے دور ہوتے جا رہے ہیں جسے ایک مصنوعی فضا میں پروان چڑھا یا گیا اور اپنے مطلوبہ اھداف کو انتہائی غیر فطری انداز سے حاصل کیا گیا
میاں نوازشریف نے یقینا سول بالادستی کی ایک مشکل اور اعصاب شکن جنگ لڑی جس میں انہوں نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت ناقابل فراموش قربانیاں بھی دیں لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ اعتقاد کا روپ دھارتے بیانیئے پر اپنی اہمیت اجاگر کرتی اور نواز شریف کے مخلص ساتھیوں کو ھر وقت پیچھے دھکیلتی ایک کوتاہ قد خاتون کا اثر ضرورت سے کچھ زیادہ بڑھ چکا ھے یہی وجہ ہے کہ کچھ کاروباری خواتین بیانیئے کو اپنے برانڈز کی تشہیر کی طرف موڑ رھے ہیں جبکہ ٹوئٹر پر سنجیدہ معاملات کا نوٹس لینے کی بجائے غیر سنجیدہ ٹوئیٹس پر خراج بھی کسی طور مناسب نہیں. بہرحال پارٹی قیادت کو ان معاملات کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ جمہوری جدوجہد ایک ذمہ دارانہ رویئے کا متقاضی ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ نواز شریف جمہوری قوتوں کی لشکر ناسازگار موسموں اور بد رنگ ساعتوں سے گزار کر آخری پڑاؤ پر پہنچا آیا ہے۔
لیکن تاریخ کے اوراق یہی سمجھا رھے ہیں کہ فصیلوں کے آس پاس آخر شب کا فیصلہ کن معرکہ بصیرت اور بھادری ھی کا تقاضا کرتی ہے
نواز شریف کے دلیر پن اور بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کے صف اول کے ساتھیوں شاھد خاقان عباسی سے اسحاق ڈار پرویز رشید سے رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف سے عظمی بخاری تک سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے یقینا ایک تاریخ رقم کر دی لیکن پیش رفت کے ساتھ ساتھ اپنے لشکر پر نگاہ بھی رکھنا چاہیے
اسی لشکر کے ایک اھم کماندر اسحاق ڈار نے ابھی ابھی ایک فصیل کو گرا دیا ھے جبکہ مرہم نواز فیصل آباد میں ایک اور رخ سے “اچانک اور غیر متوقع “حملہ کر چکی ہیں
حلیف قرئیے سے مولانا کی سرفروش کمک بھی پہنچ رھی ہے
غلاموں کی سراسیمگی اور دھشت بھی قابل دید ہے
اور اونچے ایوانوں کی تو تکار گلی کوچوں کا موضوع بن گیا ہے
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔