spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Opinionاپنی فوج سے محبت
spot_img

اپنی فوج سے محبت

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

تحریر حماد حسن


بتانے میں کیا حرج ھے کہ کل ھی میرا چھوٹا بھائی جو پاک فوج میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں فیملی کے ساتھ ایک رات کےلئے پشاور آیا تو ھم سب رات بھر جاگ کر گپ شپ لگاتے رھے کیونکہ دوسرے دن انہوں نے واپس جانا تھا۔

اگر ذاتی حوالے سے بات کرنے ھی لگا ہوں تو پھر یہ بھی بتا دوں کہ وہ خاتون جنرل بھی میرے گھر سے ھی ہیں جن کی انسان دوستی اور پیشہ ورانہ مہارت کو ایک بہتر مقصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ان کی شخصیت کو شوبز اور شہرت کی طرف ایک غیر فطری انداز سے دھکیلا گیا جس پر مجھے ذاتی طور پر شدید تحفظات ہیں اور یہ انفرادی سطح پر نہیں بلکہ اجتماعی حوالے سے ہیں لیکن ایک نیک نیتی کے ساتھ!
بتانا یہی ہے کہ اگر آپ کے گھر کے بہت سارے لوگ اور بہترین دوست کسی مخصوص ادارے سے وابستگی رکھتے ہوں تو فطری طور پر آپ اس ادارے کےلئے ہمیشہ محبت اور ھمدردی کے جذبے ھی سے سوچیں گے اور اس جذبے پر اگر خلوص کا غلبہ بھی ہو تو پھر آپ بوقت ضرورت اختلاف بھی کریں گے اور تنقید بھی کریں گے لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ھر کسی سے یہ تقاضا کیا جائے کہ صرف اسی دائرے میں گھومتے رہیں جس میں چاپلوس اور کرپٹ شاہ دولے کے چوہوں کو ٹھونسا گیا ہے اور وہ کھوپڑیوں کی بجائے معدوں اور پیٹ سے سوچنے کے عادی ہو چلے ہیں۔

میجر عزیز بھٹی سے کرنل شیر خان تک کوئی بھی میرا رشتہ دار یا دوست نہیں تھا لیکن ان کا رتبہ اور احترام رشتہ داریوں اور ذاتی دوستیوں سے کئی گنا بڑھ کر بلکہ ایک عقیدت کی مانند ہیں کیونکہ ان جانباز بیٹوں کی چھلنی لاشیں اس لکیر کے اوپر پائی گئی تھیں جہاں میری دھرتی کی طرف بڑھتے ہوئے سفاک دشمن کو انہوں نے ایک دلربا دلیری کے ساتھ پسپا کر دیا تھا۔

اس لئے مجھے یہ سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ میں اپنی عقیدت بھری محبتوں کو کسی بد ترین آمر کسی غاصب جرنیل کسی جزیرے یا کسی پاپا جونز کے پلڑے میں رکھوں گا بلکہ اس تفریق کو واضح کرتا رہوں گا جس نے میری اس جنوں خیز محبت کو سوالیہ زاویے کی طرف موڑ دیا۔
اگر کوئی اس ملک کے منتخب وزیراعظم پر بندوق تان لے
آگر کوئی دھرنے کا ڈرامہ سجا کر جمہوریت اور معیشت کا بیڑہ غرق کرے
اگر کوئی نظام انصاف کو وٹس ایپ کا مقید بنا دے

اگر کوئی میرے ووٹ کی تقدس پر آر ٹی ایس سسٹم کو فوقیت دے کر مجھے میری رائے سے محروم کر دے
اور آگر کوئی آئین و قانون کو پا مال کرتے ہوئے اپنے آئینی حدود سے تجاوز اور ریاستی نظام میں بے جا مداخلت کرے تو نہ صرف ایک با شعور اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اس کے رتبے طاقت اور پس منظر کی پرواہ کئے بغیر اس کے مقابل آ نا مجھ پر لازم ہے

بلکہ ذاتی اور نفسیاتی حوالے سے اس طرح کا کردار ادا کرنے والا فرد (یا افراد) میرے لئیے اس رقیب روسیاہ کی مانند ھی ہوتا ہے جو میری روشن اور پاکباز محبت پر اپنی خواہشات اور مفادات کا غلاظت انڈیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہاں میں کا صیغہ علامتی طور پر استعمال ہوا حالانکہ اس سوچ کے حامل اس ملک کے وہ تمام شہری بھی ہیں جو شیخ رشید اور شہباز گل ٹائپ سیاست یا گیلے تیتر ٹائپ صحافت (?) کے جھانسے میں آنے کی بجائے شعور اور حقائق کے مطابق اپنی سوچ اور رائے کی تعمیر کرتے ہیں۔
ایک بات اور!

سول سپر میسی کا بیانیہ صرف مسلم لیگ ن تک ھرگز محدود نہیں بلکہ ملک بھر کا وہ اجتماعی شعور بھی اس کی پشت پر کھڑا ہے جن میں سے اکثریت کی وابستگی سرے سے اس جماعت یعنی مسلم لیگ ن سے ہے ھی نہیں بلکہ وہ یا تو دوسری پارٹیوں سے وابستہ ہیں یا سیاسی طور پر غیر فعال ہیں
چونکہ سیاسی میدان میں اس سوچ کے علمردار نواز شریف ھی ہیں اس لئے جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کے حمایتیوں کی طاقتور سیاسی لہر نواز شریف کی طرف بہہ کر آئی جو ایک فطری عمل ہے.
لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر نواز شریف اپنے بیانیئے سے معمولی سا بھی پیچھے ہٹا تو وہ شاید اپنی جماعت کو تو قائم رکھنے میں کامیاب ہو سکے لیکن جماعت (مسلم لیگ) سے باھر نظریاتی لوگوں کی حمایت سے محروم ہو جائے گا اور یہ سیاسی طور پر ایک خوفناک ناکامی ہوگی
اس سلسلے میں شہباز شریف اور مریم نواز کا فکری تضاد اور عوامی سطح پر دونوں کی مقبولیت میں واضح فرق اس کی سب سے بڑی مثال ہے
حالانکہ پارٹی کے صدر شہباز شریف ہیں

یعنی سول سپر میسی کا بیانیہ معمولی سی پسپائی اور مصلحت کو بھی گوارا کرنے کے موڈ میں نہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف مسلم لیگ ن کے کارکنوں تک بھی محدود نہیں بلکہ بیانیئے کے حمایتی عام عوام کا نقطہ نظر بھی یہی ہے۔
گویا دستیاب حالات میں نواز شریف کے پیچھے چلنا اس نظریاتی لاٹ کی مجبوری ہے جن کی فکری وابستگی جمہوریت اور سول سپر میسی ھی سے ہے لیکن لازم نہیں کہ ان کی جماعتی وابستگی بھی مسلم لیگ ن ھی سے ہو۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس ملک کی ایک توانا اور سیاسی طور پر با اثر سوچ بغیر کسی سیاسی اور قومی تعصب یا وابستگی کے ایک نقطے یعنی سول سپر میسی اور آئین و قانون کی بالادستی پر ایک وحدت کی شکل اختیار کر چکے لیکن قابل اطمینان بات یہ ہے کہ اس سوچ پر صرف اصلاح احوال کا غلبہ ہے کسی نفرت اور انتقام کا ھرگز نہیں. حالانکہ موجودہ حکمران نفرتوں کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: