Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
تحریر حماد حسن
بارہ جون انیس سو پچھتر کو ہندوستان کے ایک شہری راج نارائن نے اآلہ آباد ہائی کورٹ میں راج نارائن بنام ریاست اتر پردیش کے نام سے ایک رٹ دائر کردی اور اپنی رٹ میں اندرا گاندھی کی انتخابی جیت پر اعتراض اُٹھایا کہ یہ انتخابی کامیابی دھاندلی کے ذریعے وجود میں آئی ہے اس لئے ماضی قریب میں ہوئے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
آلہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جگموھن لال سنہا نے اس کیس کو سنا اور فیصلے میں وزیراعظم اندرا گاندھی کو مجرم ٹھرا کر چھ سال تک اس پر سرکاری عہدہ لینے اور الیکشن لڑنے کی پابندی لگا دی ، اندراگاندھی حکومت نے فورًا اس حکم کے خلاف ایپکس کورٹ میں سٹے لے لیا اور سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی کردی لیکن کانگرس اور اندراگاندھی دونوں کو در پیش مشکلات کا اندازہ ہو چکا تھا۔
اس لئے چند دن بعد وزیراعظم اندراگاندھی نے آئین کے آرٹیکل 352 کے شق 1 کے تحت ہندوستان کے صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے ذریعے ستائیس جون 1975 کو پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اور بہانہ یہ بنایا کہ 1971 میں پاکستان کے ساتھ جنگ اور 72 میں قحط کی صورتحال کی وجہ بسے ملکی معیشت خراب ہو چکی ہے اور اسے صحیح سمت پر ڈالنے کے لئےایمرجنسی کا نفاذ اور بنیادی حقوق کی معطلی ضروری ہے لیکن در اصل اس کی آڑ میں مخالف جماعتوں اور اپوزیشن لیڈروں پر کریک ڈاؤن شروع ہوگیا اور بنیادی حقوق کی معطلی کی وجہ سے بغیرکسی ٹرائل کے واجپائی ،مرار جی ڈیسائی جے پرکاش نارائن اور ایل کے ایڈوانی جیسے اہم سیاسی لیڈروں سمیت ہزاروں مخالف سیاسی کارکن جیلوں میں ٹھونس دئیے گئے۔
اندراگاندھی کے اس سیاسی جبر کے خلاف قیدیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے مختلف عدالتوں میں پیٹیشنز دائر کئے جس پر کئی عدالتوں نے قیدیوں کے حق میں فیصلے دینے شروع کئیے تو حکومت نے اس کے خلاف ھائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔
اس کیس کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جبل پور بنام شفکان شکلا کے نام سے شہرت ملی۔
اس تاریخی مقدمے کو پانچ ججز نے سننا شروع کیا تو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی میڈیا کی نگاہیں بھی اس اہم ترین کیس پر جم گئیں کیونکہ بنیادی حقوق کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے پورا ملک خوف اور دہشت کی لپیٹ میں تھا اور عدالتوں میں بیٹھے منصفوں کے اعصاب بھی جواب دے گئے تھے اس لئے حالات کے نبض شناسوں کو وہی توقع تھی جو ہمارے ہاں ثاقب نثار کے دور میں ثاقب نثاروں سے ہو ا کرتی تھیں۔
اس لئے جب کچھ عرصہ بعد ھندستانی تاریخ کے اس مشہور مقدمےکا فیصلہ آیا تو پانچ میں سے چار ججز ثاقب نثار جیسے ثابت ہوئے اور بنیادی حقوق کی معطلی اور ایمرجنسی کو جائز ٹھہرایا لیکن ایک جج وقار احمد سیٹھ جیسا ثابت ہوا اور طاقت کے سامنے ڈٹ کر ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف انتہائی سخت لیکن دلیر اختلافی فیصلہ لکھا اس جج کا نام جسٹس ھنس راج کھنّہ تھا اس نے اپنے فیصلے میں یہاں تک لکھا کہ ایمرجنسی قانون کانفاذ کرنے والا نہ صرف فاطر ا لعقل بلکہ انسانیت سے بھی عاری ہے کیونکہ یہ حق اسے کون دیتا ہے کہ وہ انسانوں کے بنیادی حقوق کو معطل کرتا پھرے اور اگر وہ ایسا کرے تو وہ ایک حیوان سے بھی بدتر ہے۔
اس فیصلے میں باقی تمام ججز اس کے خلاف تھے اس لئے وہ اپنے ضمیر کی آواز کو قانون تو نہ بنا سکا لیکن اس کے کردار نے مستقبل کے عدالتی تاریخ پر انتہائی مثبت اثرات ڈالے۔ اور پھر وہ دن اور آج کا دن نہ کھبی ایمرجنسی کا قانون لاگو ہوا نہ ہی ریاست آئین کے راستے کی دیوار بنا۔
جسٹس ھنس راج کھنّہ جب تک منصف کی کرسی پر بیٹھے رہے اس وقت تک کوئی جابر اور طاقتور آرام کی نیند نہ سوسکا اس لئے جب وہ چیف جسٹس بننے کے لئے سب سے سینئر جج کی حیثیت سے سامنے آئے تو غیر متوقع طور پر اچانک اس سے جونیئر جج جسٹس ایم ایچ بیگ کو اس پر فوقیت دے کر چیف جسٹس بنا دیا گیا تو صرف پندرہ منٹ بعد اس انتہائی اصول پسند جج جسٹس ھنس راج کھنہ نے اپنا استعفٰی اپنے ٹیبل پر چھوڑا اور خاموشی کے ساتھ گھر چلے گئے۔
وکلاء کو خبر ہوئی تو اسی دن پورے ہندوستان میں بار کونسلز نے سخت احتجاج شروع کیا لیکن ریاست کسی طور دوبارہ جسٹس کھنہ کا سامنا کرنے کو تیار نہ تھی تاہم اس احتجاج نے اس عظیم جج کو ایک دیوتائی عقیدت فراہم کردی۔
اس لئے جب سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے 1978 میں جسٹس ھنس راج کھنہ کا مجسمہ نصب کرنے کے لئے دس ھزار روپے چندے کی اپیل کی تو صرف بیس منٹ میں اس سے کئی گنا زیادہ رقم جمع ہوئی یہاں تک کہ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو چندہ روکنے کی اپیل کرنا پڑی۔
انہی دنوں نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ ھندوستان جب اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلیقہ سیکھ لے گا تو ہر گلی میں جسٹس ھنس راج کھنہ کا مجسمہ نظر آئے گا۔
مشہور لکھاری نانے پھلکے والا نے اپنی کتاب “سیلوٹ ٹو کھنہ“ میں لکھا کہ جہاں خوف مکمل طور پر مفقود ہو اور انصاف کی فراوانی ہو تو سمجھ لیں کہ جسٹس ھنس راج کھنہ کہیں آس پاس ہیں۔
ریاست کی سرکش طاقت پر ہمیشہ ہاتھ ڈالنے اور اسے اپنا دشمن بنانے والے جسٹس کھنہ کے سامنے آخر کار وہی ریاست بھی جھکی اور 1999 میں اسے پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کے سامنے ڈرنے اور جھکنے سے ایک جج اگر ارشاد حسن خان اور ثاقب نثار جیسا بہروپیا بن کر اپنی آئندہ نسلوں کے لئے ایک طعنہ بن سکتا ہے تو حق و انصاف کے لئے ڈٹ کر جسٹس کک جسٹس اے آر کار نیلئس جسٹس ھنس راج کھنہ حتی کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ جیسے تاریخ کا قابل فخر حوالہ بھی بن سکتے ہیں۔
اس تابندہ تاریخ اور شاندار روایت کو لے کر آج کل جسٹس فائز عیسی نے اس وادی پرخار کا رخ کیا جس سمت قدم اُٹھانے کے لئے بھی ایک جگرا چاہئیے تبھی تو اپنے ایک فیصلے کے ذریعے انھوں نے فارسی مقولے کے مصداق آسمانوں کے اس گنبد تلے ایک غلغلہ برپا کر دیا کیونکہ یہ یہی جسٹس فائز عیسی ھی تھے جنہوں نے اس وقت جبر کے گریبان پر ھاتھ ڈالا جب دوسرے جبر کے پاوں پر جھکے نظر آئے تاریخ ایک استعجاب کے ساتھ بولتی رہے گی کہ ایک ہی منظر نامہ اور ایک ہی زمانہ تھا لیکن ایک طرف جسٹس فائز عیسی فیض آباد دھرنا کیس کا دلیر اور سربلند فیصلہ دے رہا تھا جبکہ دوسری طرف ثاقب نثار اور اس کے “ہمنوا” پانامہ کیس کی غلاظت ایوان عدل کی تاریخ اور اپنے کردار پر انڈیل رہے تھے۔
اور یہی وہ اصل تفریق ھے جو ایک جج کو قابل احترام اور بلند مقام بھی عطا کر دیتا ھے اور اسے ایک دلال اور بہروپئے کے روپ میں تاریخ کے سامنے بھی پھینک دیتا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔