آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی پیشی کے دوران جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ چاہے کسی بھی فانٹ میں ہو اگر اس پر مریم نواز اور حسین نواز کے دستخط موجود ہیں چاہے وہ پچھلی تاریخوں میں بھی ہوں اسے جعلی نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ دستخط کرنے والے ان دستخطوں سے انکاری نہ ہوں۔
اگر دستخط کرنیوالے تسلیم کرتے ہیں کہ دستخط انکے ہیں تو پھر اسے جعلسازی نہیں قرار دیا جاسکتا۔
اس موقع پر مریم نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سچ کو ایک نہ ایک دن سامنے آنا ہی ہوتا ہے چاہے دوسرے جتنی مرضی سازشیں کرلیں اور جھوٹ بولیں انہوں نے کہا کہ جسطرح آج جج صاحبان نے نیب سے سوال کیے تو انے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس پر میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں اور فیصلے کا انتظار کرونگی۔



