Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جب انکی والدہ مرحومہ کلثوم نوازلندن میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور وہ انکی عیادت کیلئے لندن میں موجود تھیں تو روزانہ گھر سے ہسپتال جاتے اورواپسی پر تحریک انصاف کے کارکنان راستے میں موجود ہوتے تھے اور انکوگالی دیکر بلایا کرتے تھے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ انکے لیے قابل احترام ہیں لیکن وہ جو عزت کا معیار اپنی اہلیہ کیلئے چاہتے ہیں وہی معیار مرحومہ کلثوم نواز اور دوسروں کی ماوں بہن بیٹیوں کیلئے بھی ہونا چاہیے نہ کہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کی کردارکشی کی جائے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ انکوبے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزائے موت کی چکی میں قید رکھا گیا اور جب وہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں الیکشن کیمپین پر تھیں تو انکی کیمپین کا سیاسی طور پر تو تحریک انصاف کے پاس جواب نہیں تھا اسی لیے انکے وزرا نے انکی کردار کشی اور ذاتی حملے کیے اور اس وقت عمران خان بڑے خوش ہوتے تھے اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔
مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف کی بیٹی جویریہ شہباز جب اپنے والد کا ہاتھ تھام کرعدالت جایا کرتی تھیں تب انکے ساتھ جو سلوک ہوا سب نے دیکھا اور اب شہباز ثنا بچہ عاصمہ شیرازی غریدہ فاروقی کیساتھ جو کچھ کیا گیا وہ بھی سب نے دیکھا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کوئی آسمان سے اتری مخلوق نہیں کہ ان پر تنقید نہیں ہوسکتی انکے پرانی ساتھی محسن بیگ جب انکے ساتھ تھے تو وہ بہت اچھے تھے لیکن اب جب انہوں نے عمران خان پر تنقید کی تو وہ بوکھلا گئے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ اگر نیب کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت ہوتا تو اسکو اٹھا کر جج کے سامنے رکھتے اس طرح حیلوں بہانوں سے وقت نہ مانگا جاتا اور آج پھر چار ہفتے کا ٹائم مانگ لیا ہے میں ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتی ہوں لیکن نیب کو اتنی ڈھیل نہیں دینی چاہیے اسکو چاہیے کہ اگر ثبوت ہیں تو پیش کرے ورنہ کیس کا فیصلہ کردیا جائے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔