دونالد ترامپ اعلام کرد ایران شاید مانند هر زمان دیگری به آزادی نزدیک شده باشد و از آمادگی آمریکا برای کمک سخن گفت، در حالی که اعتراضات ضدحکومتی با وجود سرکوب شدید، خشونت مرگبار و قطع سراسری اینترنت در سراسر کشور ادامه دارد۔
US President Donald Trump has backed Iran’s protest movement, saying the country is “looking at freedom” as unrest spreads despite a deadly crackdown and internet blackout.
پاکستان اور امریکا کے مابین تیرہویں مشترکہ فوجی مشقوں انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز ہو گیا جن کا مقصد کاونٹر ٹیررازم میں تجربات کے تبادلہ، حربی طریقہ کار اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی ٹیکنیک کو بہتر بنانا ہے۔
Indian markets slipped again as weak global cues and proposed US tariffs on Russian oil buyers rattled investor confidence and heightened fears over India’s energy dependence.
بھارتی سٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز مندی کا شکار، غیر ملکی سرمایہ کے انخلا کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ 500 فیصد ٹیرف کی حمایت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا۔توانائی اور تجارتی پالیسیوں سے جڑی اس غیر یقینی صورتحال نے بھارتی معیشت اور مالی منڈیوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد والے دن پارلیمنٹ ہاوس کے دروازے سے لیکر شارع دستور پر تاریخ کا عظیم الشان مظاہرہ ہوگا جس میں پارلیمنٹ کے تمام اراکین کو بحفاظت ایوان تک پہنچنے اور اپنا ووٹ استعمال کرنے کو مکمل کور مہیا کیا جائیگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچے گا تو وہ کتنے دن رکے گا اسکا فیصلہ ہم تب کرینگے اس موقع پر انہوں نے مارچ میں شامل ہونے والوں کو کہا کہ وہ تیار رہیں کیونکہ عدم اعتماد تک وہ اسلام آباد میں ہی رہینگے انہوں نے اس موقع پر پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور این ڈی ایم کو شرکت کی دعوت بھی دی۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم بہت کچھ کرنے جارہے ہیں انکو چھٹی کا دودھ یاد دلا دینگے اب ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے پتھر کا جواب پتھر سے دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ جو زبان حکومت کیجانب سے استعمال کی جارہی ہے اس زبان کو خاموش کرنا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔