Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد والے دن پارلیمنٹ ہاوس کے دروازے سے لیکر شارع دستور پر تاریخ کا عظیم الشان مظاہرہ ہوگا جس میں پارلیمنٹ کے تمام اراکین کو بحفاظت ایوان تک پہنچنے اور اپنا ووٹ استعمال کرنے کو مکمل کور مہیا کیا جائیگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچے گا تو وہ کتنے دن رکے گا اسکا فیصلہ ہم تب کرینگے اس موقع پر انہوں نے مارچ میں شامل ہونے والوں کو کہا کہ وہ تیار رہیں کیونکہ عدم اعتماد تک وہ اسلام آباد میں ہی رہینگے انہوں نے اس موقع پر پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور این ڈی ایم کو شرکت کی دعوت بھی دی۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم بہت کچھ کرنے جارہے ہیں انکو چھٹی کا دودھ یاد دلا دینگے اب ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے پتھر کا جواب پتھر سے دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ جو زبان حکومت کیجانب سے استعمال کی جارہی ہے اس زبان کو خاموش کرنا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔