Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
جس نواز شریف کو کہتے تھے اسکی سیاست ختم ہوگئی ہے وہ نواز شریف جسکو آپ نے جیل میں ڈالا اسکی بیٹی کو جیل میں ڈالا اسکی پوری جماعت کو جیلوں میں ڈالا وہی نواز شریف آج لندن میں بیٹھ کر آپکو آپکے گھر میں گھس کر مار رہا ہے
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نیوٹرل ہونے کی بات کررہا ہے تو یہ اچھی بات ہے اس پر کسی کو سیخ پا ہونے اورتڑپنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو میرا پیغام ہے کہ اب آپکی بلند ہوتی ہوئی چیخیں کسی کام نہیں آئینگی آپ کو اب بچانے کوئی نہیں آئیگا دی گیم از اوور۔
انہوں نے کہا کہ آج اگر انکے لیے کوئی گنتی پوری کرنےکو تیار نہیں تو یہ انکو جانور کہنا شروع ہوگئے ہیں گنتی تو انکی بھی پوری نہیں تھی نہ 2018 میں نہ گلگت بلتستان نہ آزاد کشمیر نہ سینٹ الیکشن میں پوری تھی یہ چاہتے ہیں انکے مخالفین کو جیل میں ڈالا جائےسزائے موت کی چکیوں میں رکھا جائے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ صرف ایک لفظ نیوٹرل نے انکی 22سالہ جدوجہد انکی پوری جماعت دھڑام سے زمین پر آگری ہے اور انکی پوری جماعت کا جیسے شیرازہ بکھرا ہے ایسا تو کبھی کسی تانگہ پارٹی کا نہیں ہوا۔
اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ دس بندے ان سے اپنے پورے نہیں ہورہے اور چلے ہیں یہ دس لاکھ بندے لانے سیدھی سی بات ہے اپنے دس بندے پورے کرلو آپکو دس لاکھ لوگ لانے کی مشقت نہیں کرنا پڑیگی وزیراعظم کی کرسی پر موجود ہونے کے باجود انکی جماعت ریت کیطرح انکے ہاتھ سے کھسکتی جارہی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ جس نواز شریف کو کہتے تھے اسکی سیاست ختم ہوگئی ہے وہ نواز شریف جسکو آپ نے جیل میں ڈالا اسکی بیٹی کو جیل میں ڈالا اسکی پوری جماعت کو جیلوں میں ڈالا وہی نواز شریف آج لندن میں بیٹھ کر آپکو آپکے گھر میں گھس کر مار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان آپ کسی سازش کا شکار نہیں ہوئے بالکہ مکافات عمل کا شکار ہیں آپ غرور تکبربڑے بولوں کا شکار ہوئے ہیں جو عبرت کا نشان آپ آج بنے ہوئے ہیں تو وہ وقت یاد آتا ہے جب ہزارہ برادری کوئٹہ میں اپنے پیاروں کی لاشیں رکھ کر بیٹھے آپکو بلارہے تھے اور آپ نے انکار کردیا تھا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ انکی خارجہ پالیسی کا حال یہ ہے کہ بیرونی ممالک سے دیے گئے تحائف یہ جاکر بیچ آتے ہیں آج یہ انٹرنیشنل سازش کی باتیں کرتے ہیں تو بتائیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک بائیڈن کی کال کا انتظار کررہے تھے کوششیں کررہے تھے اور جب کال نہیں آئی تو انکو سازش یاد آگئی۔
آج یہ کہتے ہیں امر بالمعروف تو بتائیں یہ کونسی نیکی اچھائی کا حکم دے رہے ہیں کیا آٹے سبزیوں چینی دالوں تیل پٹرول دوائیوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں کیا عوام اس اچھائی میں آپکا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے حلف میں خاتم النبیین نہ بول سکے جو صلی اللہ علیہ وسلم نہ کہہ سکے جو روحانیت کو رحونیت کہے وہ بلاول کی اردو پر باتیں کرتا ہے انکی نکلیں اتارتا ہے کس منہ سے وہ ان پر تنقید کرتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ بطور ایک ماں پاکستانی ماوں سے درخواست ہے کہ ایک شخص جسکا ذہنی توازن خراب ہے وہ اگر ٹی وی پر آکر بدتمیزی کرتا ہے اور بدتمیزی کی ترغیب دیتا ہے تو اپنے بچوں کو وہاں سے اٹھا دیا کریں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچوں میں یہ کلچر سرائیت کرے۔
مریم نواز نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو پیغام ہے کہ ایسا شخص جو ہار چکا ہے اور پاکستانی عوام کے نشانہ پر ہے اسکے احکامات بجا نہ لائیں اس تمام آئینی قانونی عمل میں مداخلت نہ کریں ورنہ اسکے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔