روپے اور پٹرول کی قیمت پر ڈکٹیشن نہیں لے سکتے، اسحاق ڈار

آئی ایم ایف کے کہنے پر اپنی عوام پر مزید نہیں ڈالا جاسکتا ہمیں ان سے دوٹوک بات کرنا ہوگی پہلے بھی دو دفعہ ہم نے بات کر کے مسئلے کا حل نکالا تھا اب بھی ان شا اللہ نکالیں گے ان سے بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

Raaye dein

Tarjuma ho raha hai… 0 / 4 Asal tehreer parhein

A file photo shows former Minister for Finance Mohammad Ishaq Dar.
A file photo shows former Minister for Finance Mohammad Ishaq Dar.

سابق وزیرخزانہ اور سینیٹراسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ جوتحریک انصاف نے ملکی معیشت کی حالت کردی تھی اسکے بعد حکومت میں آنا مسلم لیگ ن اور اسکے اتحادیوں کیلئے ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن اس بری حالت کے بعد تحریک انصاف کو مزید وقت دینا ممکن نہیں تھا اسی لیے متحدہ اپوزیشن نے حکومت میں آنے کا مشکل فیصلہ کیا اور متحدہ اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ جو ضروری چیزیں جن میں سرفہرست الیکشن ریفارمز شامل ہں انکوکرکے جلد از جلد عام انتخابات کی جانب بڑھا جائے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کا بھی یہی موقف ہے کہ جلد صاف شفاف انتخابات ہونے چاہییں تاکہ عوام کوآزادی سے اپنے نمائندے چننے کا حق مل سکے۔

ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ روز مرزہ ضروریات کیلئے آٹا سب سے ضروری چیز ہے جسکے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اسکی قیمت کو کم کیا جائیگا اورانہوں نے پختونخواہ میں بھی آٹے کی قیمتوں کو پنجاب کی سطح پر لانے کا اعلان کیا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر اپنی عوام پر مزید نہیں ڈالا جاسکتا ہمیں ان سے دوٹوک بات کرنا ہوگی پہلے بھی دو دفعہ ہم نے بات کر کے مسئلے کا حل نکالا تھا اب بھی ان شا اللہ نکالیں گے ان سے بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا آئی ایم ایف کے کہنے پرعوام پر ڈیزل کی قیمت میں 70 روپے اور پٹرول کی قیمت 29 میں روپے اضافہ کا بم نہیں گرایا جاسکتا ہمیں اپنے ملک اور عوام کودیکھنا اور انکے متعلق سوچنا ہے۔

سابق وزیرخزانہ نے اس موقع پر کہا کہ کیا ڈالر کی قیمت کو 187 پر ن لیگ یا اتحادی حکومت لیکر گئی ہے اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ وہی ہیں جنہوں نے اسکو اس بلند قیمت تک پہنچایا اور روپے کا بیڑہ غرق کردیا انکا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ ہم نے ملک کی ایکسپورٹس بڑھائی ہیں اگر دیکھا جائے تو انہوں نے صرف 800 ملین کی ایکسپورٹس بڑھا کر ملک کا بیس بلین ڈالر کا نقصان کردیا گیا اورانکی نااہلی کیوجہ سے ملک کا چار ہزار ارب کا قرضہ صرف ایک بیوقوفی کی وجہ سے بڑھ گیا ہے اور وہ ہے روپے کو کھلا چھوڑنا۔

ن لیگی سینیٹر نے اس موقع پر مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پچھلی حکومت کیطرف سے آنیوالی نئی حکومت کو بہترین معاشی اشاریے جو ملے وہ ن لیگ کی حکومت کی طرف سے 2018 میں تحریک انصاف کو ملے جو انہوں نے اپنی نااہلی سے سب کچھ کا بیڑہ غرق کردیا۔

اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کہتی تھی کہ اسحاق ڈار مصنوعی طریقہ سے ڈالر کو کنٹرول کرنے کیلئے ہر ماہ دو بلین ڈالر جھونکتا ہے اگر ایسا تھا تو پھر تحریک انصاف کی 43 ماہ کی حکومت میں 86 بلین ڈالر کی بچت ہونی چاہیے تھی وہ پیسہ پھر کدھر ہے اس سب سے پتہ چلتا ہے کہ انکی یہ باتیں سب جھوٹ کا پلندہ تھیں۔

اس موقع پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جب 2013 میں ہم آئے تو پنڈی کے ایک سیاستدان نے کہا کہ اگر یہ سو سے نیچے لے آئے تو میں استعفی دیے دونگا سیاست چھوڑ دونگا لیکن پھر اس کو استعفی دینے کی آج تک توفیق نہیں ہوئی۔

اسحاق ڈٓر نے کہا کہ ہم فارن ڈکٹیشن لیکر اپنے فیصلے نہیں کرسکتے اور نہ کرنے چاہییں ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کسی بین الاقوامی ادارے کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہماری کرنسی کی قیمت کیا ہونی چاہیے ہمیں اپنے ملک اور اسکے حالات کو دیکھنا چاہیے ہمیں اپنے ملک کو دیکھنا ہے اپنے ملک کے لوگوں کی تکالیف کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہونگے۔

TT Business Desk

Economy, markets and business news from The Thursday Times' business desk.

More from this desk

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media