Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
اکیس مئی کی شام کو پشاور میں مولانا فضل الرحمن کا جلسہ جاری تھا اور گھنٹہ بھر میں مولانا کو خطاب بھی کرنا تھا۔ ایک صحافی دوست کے ساتھ پروگرام یہی تھا کہ مولانا سے مل لیا جائے لیکن ایک ضروری کام کے پیش نظر واپس آنا پڑا. تاہم جلسے کے حجم اور موڈ کا اندازہ ہو چکا تھا۔ رات ڈیڑھ بجے میں نے ٹوئیٹ کیا کہ مولانا فضل الرحمن کا جلسہ عمران خان کے پچھلے جلسے سے کم از کم تین گنا بڑا تھا اور ٹوئیٹ کر کے سو گیا۔ صبح کو سوشل میڈیا پر نظر پڑی تو یہ ”خبر“ معمول سے کچھ زیادہ وائرل ہو گئی تھی۔ ظاہر ھے کہ ایک طرف اگر مولانا کے پیروکاروں سمیت عمران مخالف دوسری جماعتوں سے وابستہ سیاسی کارکن اس خبر کی داد و تحسین کر رھے تھے تو دوسری طرف عمران خان کے ھمدرد بھی حسب توقع گالم گلوچ پر اتر آئے تھے۔
اس دوران ایک مشہور ٹی وی چینل سے فون آیا اور تھوڑی دیر بعد ان کی ٹیم مائیک اور کیمرے سے لیس متعلقہ ٹوئیٹ پر ”وضاحت“ مانگنے گھر پہنچی تو جذبات کو دلیل بنانے کی بجائے میں نے ٹھوس ثبوتوں اور حقائق کو بنیاد بنا کر عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے جلسوں کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ۔
عمران خان کا جلسہ موٹروے ٹول پلازہ کے کنارے جس میدان میں ہوا اس میدان کا کل رقبہ پشاور کے ممتاز صحافی طارق آفاق کے مطابق ایک سو پانچ کنال ہے اور اتنے رقبے میں زیادہ سے زیادہ بیس سے پچیس ہزار تک لوگ سما سکتے ہیں تاہم میدان سے باہر بھی گنجائش موجود ہے۔ گویا چالیس ہزار تک سہولت دی جا سکتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ عمران خان کا جلسہ روزوں میں نماز تراویح کے بعد منعقد ہوا تھا اور ظاہر ہے کہ نوجوانوں کو جلسے کی طرف کھینچنے کا یہ بہت مناسب وقت تھا کیونکہ اس وقت نوجوان عمومی طور پر بائیک ریس سے کرکٹ میچ تک کسی نہ کسی ہنگامے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس جلسے کے لئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع سے گیارہ سو پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا تھا۔ جبکہ جلسہ موٹروے کے کنارے ہونے کے سبب اہم اضلاع (جہاں سے تحریک انصاف کو کثرت سے عوامی نمائندگی حاصل ھے) جن میں پشاور چارسدہ نوشہرہ مردان اور صوابی شامل ہیں کےلئے بہت حد تک قابل رسائی بھی تھا۔ جس کا بھر پور فائدہ بھی اٹھایا گیا۔ لیکن ان باتوں سے بالاتر عمران خان داد کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے حلقہ اثر (یوتھ) کی نفسیات کابہت گہرا مشاھدہ رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ ایک جارحانہ رویہ بلکہ گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ جلسوں میں ڈی جیز لائٹنگ اور ہیلی کیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بری کارکردگی کے باوجود بھی اپنی مقبولیت گرنے نہیں دیتا۔ مختصر یہ کہ عمران خان کا جلسہ یقینا ایک کامیاب جلسہ تھا لیکن اس کا حجم چالیس ہزار سے اوپر ہرگز نہ تھا۔
اب آتے ہیں گزشتہ روز ہونے مولانا فضل الرحمن کے جلسے کی طرف جو بنیادی طور پر جلسہ نہیں بلکہ تحفظ حرمین کانفرنس ہی تھا۔ یا یوں کہہ لیں کہ اس کانفرنس کی آڑ میں اپنی سیاسی طاقت کا اظہار تھا۔ یہ جلسہ شہر سے ملحقہ علاقے پتنگ چوک (جسے کبوتر چوک بھی کہا جاتا ہے) میں منعقد ہوا۔ پتنگ چوک سے رنگ روڈ تک کم از کم تین کلومیٹر کا فاصلہ ھے اور یہ دو رویہ روڈ ہے جسے جلسہ گاہ بنایا گیا تھا۔ اس روڈ کی مجموعی چوڑائی تقریبا سو فٹ ھے۔ گویا یہ مجموعی رقبہ تقریبا دو سو کنال کا بنتا ھے جو موٹر وے والے میدان (جہاں عمران خان نے جلسہ کیا تھا) کی نسبت دگنا بڑا ہے۔ جبکہ پتنگ چوک والی روڈ سے ملحقہ ذیلی سڑکوں پر بھی ہزاروں کی تعداد میں جلسے کے شرکاء موجود تھے۔ یہی وہ ٹھوس حقائق اور شواہد تھے جو اس ٹوئیٹ کی بنیاد بنا اور انہی حقائق کو آگے چل کر میں میڈیا کے سامنے اپنی دلیل بھی بناتا رہا۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کئ گنا بڑا جلسہ کرنے کے باوجود پروپیگنڈے کے محاذ پر جمیعت علماء اسلام ( دوسرجماعتوں کو بھی) کو عمران خان کے مقابل ناکامی کا سامنا کیوں ہے؟ بدلتے ہوئے زمانے اور وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک جماعت اور اس کی لیڈر شپ آگے بڑھے تو یہ مقبولیت کے راستے کھلنے میں دیر نہیں لگتی۔ عمران خان کو داد دینی پڑے گی کہ اس نے نفسیاتی اور عملی طور پر ان تکنیک کا استعمال کیا اور تباہ کن کارکردگی کے باوجود بھی اپنے کارکنوں کو جذباتی سطح پر ہموار رکھا۔ عمران خان کی کل طاقت کیا ھے؟ ظاھر ھے کہ کارکردگی کے حوالے سے وہ ایک ناکام سیاسی لیڈر ہیں۔ لیکن وہ نوجوان طبقے کی نفسیات سے کھیلنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ اور یہی ”ہنر“ اس کے رویئے میں اشتعال اور جلسوں میں ڈی جیز لائٹننگ ہیلی کیم میوزک خواتین اور(ان پر کیمروں کی زومنگ) کو جنم دیتا ھے۔ ان ”معاملات“ کو عمران خان خود ہی بہت باریک بینی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اسی میں اس کی سیاسی کامیابیاں اور مقبولیت پوشیدہ ہیں۔
لیکن دوسری جماعتیں قدرے روایتی انداز سے کھیل رہے ہیں۔ جو مظبوط تنظیمی صلاحیت اور عوامی پذیرائی کے باوجود لائم لائٹ میں میرٹ کی مناسبت سے جگہ نہیں پاتے۔ میں اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ مولانا فضل الرحمن کا جلسہ عمران خان کے جلسے سے تین گنا بڑا تھا لیکن جدید تکنیک کے استعمال کے فقدان نے اس ”لہر“ کو قدرے عنقا کر دیااور یہ بہر حال جماعت کی تنظیمی ناکامی اور وڑن کے فقدان سے پھوٹا۔
میڈیا کے ساتھ ٹاپ لیڈر شپ کے روابط نہ ہونے کے برابر ہیں حتی کہ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا اور بھائی بھی اس سلسلے میں خوفناک لا پرواھی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”دوسرے معاملات“ میں مصروف نظر آتے ہیں جن سے بھر حال بہت سی قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اس سلسلے میں (میڈیا کے ساتھ روابط) تحریک انصاف کو جمیعت العلماء اسلام پر واضح برتری حاصل ہے۔ البتہ مولانا ذاتی طور پر اس حوالے سے حد درجہ حساس اور ذمہ دار ہیں۔ لیکن جب تمام تر ذمہ داریاں بھی پارٹی لیڈر کے کندھوں پر ڈالی جائیں اور ہر کوئی خود کو بری الذمہ سمجھتے ہوئے کہیں اور مصروف ہو جائے۔ تو پھر کامیاب ترین جلسے اور عوامی پذیرائی بھی پردہ اخفا میں چلی جاتی ہیں اور اس کے نتائج وھی نکلتے ہیں۔ جیسا کہ اگلے دن مولانا فضل الرحمن کی شدید محنت اور دلیر سیاست کے ساتھ ہوا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔