Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
گاڑی کے ریڈی ایٹر کا مسئلہ ہے اور میں ورکشاپ میں ہوں۔ ڈیئر تم سپر مارکیٹ آ جاو میں گاڑی ٹھیک کروا کے تھوڑی دیر میں پہنچ رہا ہوں۔
یار اب تو تمھاری اس کھٹارا گاڑی سے اسلام آباد کے مستری بھی تنگ آئے ہوئے ہیں میرا دل تو کرتا ہے کہ “اب کے بار میں” اسے توڑ آوں۔ میرے اس ذو معنی جملے پر اس کا قہقہہ گونجا اور فون بند ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں میرا عزیز بھانجا اعظم سلیم خان مجھے سپر مارکیٹ پہنچا آیا تو وہ ایک اور صحافی دوست کے ساتھ میرا منتظر تھا جہاں سے ہم تینوں اس کھٹارا گاڑی میں روانہ ہوئے جس میں اے سی تو درکنار شیشے تک نیچے نہیں ہو رہے تھے۔ یہ تھا حق گوئی اور دلیری کی تاریخ رقم کرتا مطیع اللہ جان اور اس کی موجودہ پاکستان سے بھی زیادہ قابل رحم گاڑی جس میں وہ ساری رات مجھے اور ثاقب بشیر کو گھماتا اور ابالتا رہا۔ لیکن ذرا دوسری طرف بھی نظریں اٹھا کر دیکھیں۔ یہ وسیع و عریض فارم ہاوسز لگژری لائف سٹائل لمبی لمبی گاڑیاں برانڈد گھڑیاں جوتے اور دنیا جہاں کی آسائشیں۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ یہ لوگ بھی صحافی کہلائے جاتے ہیں اور “صحافت” بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑا المیہ اس حیوان دماغ گروہ کا رویہ اور عقل و خرد ہے جو پہاڑ جیسے حقائق کو دیکھنے اور سمجھنے کی بجائے ایک بے بنیاد جذباتی ابھار میں مدتوں سے مقید ہیں۔ جن کےلئے مطیع اللہ جان جیسے لوگ لفافہ جبکہ صحافتی ہیجڑے ہیروز بنے ہوئے ہیں۔ اور درحقیقت اسی حیوان دماغی نے اس تباہ کن فضا اور بیانیئے کی تشکیل کو تخلیق کرنے میں ہمیشہ ایک مجرمانہ کردار ادا کیا جس کی بطن سے جسٹس منیر سے جسٹس ثاقب نثار تک “قانون کے رکھوالے” بھی برآمد ہوتے رہے۔ دریاوں کو بیچنے کے سلسلے بنیادی جمہوریت کے ڈرامے بنگلہ دیش کا المیہ بھٹو کی پھانسی بگٹی کا قتل سندھ اور بلوچستان میں جبر اور علیحدگی کی تحریکیں ضیاء کا نفاذ اسلام مشرف کی وطن فروشی بے نظیر بھٹو کا تڑپتا اور بے جان ہوتا ہوا جسم قید و بند کاٹتا اور جلاوطن ہوتا ہوا منتخب وزیراعظم نوازشریف شجاع پاشا اور ظہیر الاسلام کے ہاتھوں پروان چڑھتا اور تباہی پھیلاتا ہوا عمران خان۔ سیاست جمہوریت آئین و قانون پارلیمان اور تہذیبی ڈھانچے کو نیست و نابود کرتا ہوا غل غپاڑہ۔ ق لیگ سے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے باپ تک اچانک نمودار ہوتی سیاسی جماعتیں۔ جزیروں سے جنرل مزمل اور پاپا جونز سے پردہ زنگاری تک کے واقعات نے اس بدبخت وطن کو اسی لئے دبوچے رکھا کہ وہ حیوان دماغ گروہ اپنی تمام تر حماقت اور شور و غل کے ساتھ ہمیشہ اس کی پشت پر کھڑی دکھائی دی.گویا ہر تباہی اور بربادی کی سب سے بڑی ذمہ داری جہالت کے اس غول پر عائد ہوتی ھے جو آج بھی حقائق کو سمجھنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ حد درجہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضد اور ہٹ دھرمی کو شعار بنائے ہوئے سیاست سے جمہوریت اور اداروں سے اقدار تک کسی کو بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ جس سے ہر واردایئے کو سازگار ماحول بھی میسر آ رہا ہے اور وہ اس کا بھرپور فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔
اگر ہم ماضی قریب میں دیکھیں تو وہ پرویز مشرف کے فیصلے اور عدالت کا انجام ہو جنرل عاصم باجوہ سے جنرل مزمل تک کے واقعات ہوں ملک ریاض کی اربوں کی خوفناک وارداتیں اور شہزاد اکبر کی گھاتیں ہوں۔ رنگ روڈ پنڈی، فرح گوگی، بحریہ ٹاؤن کے سیکٹرز، توشہ خانہ، ہیرے کی انگوٹھی، بزدار کی کرپشن، میڈیا ھاوس کے چالیس ارب اور کرونا فنڈ سمیت ہر سیاسی اور مالی واردات اس شور و غل کے نیچے دبا دی گئی جسےمچانے پر ایک غول روز اول ہی سے “اپنے فرائض “سر انجام دے رہا ہے۔ عشرہ بھر پہلے ان کے دماغوں میں یہ باتیں ٹھونسی گئی تھیں کہ سیاستدانوں میں سے فلاں فلاں کو چور ڈاکو کہہ کر مخاطب کرنا ہے۔ فلاں کو ڈیزل کہنا ہے فلاں کی نقل اتارنی ہے اور جو منہ میں آئے وہ گالیاں بھی تسلسل کے ساتھ دینی ہیں۔ یہ نفرت بھی ان کے بھس بھرے دماغوں میں انڈیلی گئی کہ ان صحافیوں کے ساتھ بھی انہی سیاستدانوں سے ملتا جلتا سلوک کرنا ہے جو حق گوئی اور سچائی کا علم اٹھائیں۔ سو اس مکتب جہالت کے پیروکاروں کے لئے مطیع اللہ جان اور اس قبیلے کے دوسرے لوگ لفافے غددار اور خوشامدی ٹھرتے ہیں۔ یہ تکلف کئے بغیر کہ سامنے کے حقائق کیا ہیں۔ حالانکہ آج کے زمانے میں حقائق تک رسائی اور انہیں جانچنے میں مشکل کیا ہے؟ سوچنا پڑتا ہے کہ انسان کو عقل اور علم کی بنیاد پر ہی اشرف المخلوقات کا عظیم اور منفرد ٹائٹل ملا تھا۔ لیکن اہل علم سے سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عقل علم اور دانائی میں انسانی فطرت اور ذمہ داری کے احساس سے عاری رویئے کا حامل ہو تو کیا وہ بھی اشرف المخلوقات ہی تصور کیا جائے گا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔