Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپیل کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جو 2018 سے عدالت میں زیر التوا ہے۔
احتساب عدالت کی جانب سے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف سینیٹر اسحاق ڈار کی جانب سے 2018 ء میں ایک اپیل/درخواست دائر کی گئی تھی۔ واضع رہے کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی طرف سے گزشتہ چار سالوں میں معاملے کی سماعت کے لئے دائر درخواستوں کے باوجود اپیل/درخواست نہیں سنی گئی۔
سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کے وکلا کی طرف سے دوبارہ ایک نئی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں اپیل/پٹیشن کی جلد سماعت کی درخواست کی گئی جو 2018 ء سے پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے 24 جولائی 2018ء کو سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو بغیر کسی بنیاد یا جواز کے سب سے پہلے ”بلیک لسٹ” کیا جس نے پاکستان میں پاسپورٹ حکام سمیت پاکستانی ہائی کمشنز/سفارت خانوں پر انہیں پاسپورٹ کے اجراء پر عملاً پابندی عائد کر دی۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا پاسپورٹ 6 ستمبر 2018ء کو عمران خان کی حکومت کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مذکورہ غیر قانونی کارروائی اسحاق ڈار کی جانب سے مطلوبہ پاسپورٹ کے اجراء کیلئے تحریری درخواست کے باوجود کی گئی جو سفری مقاصد کے لئے ایک ضروری اور بنیادی حق ہے۔ پاسپورٹ کی منسوخی کی حقیقت اسحاق ڈار کے علم میں 9 ستمبر 2018ء کو میڈیا کے ذریعے آئی جب وہ برطانیہ میں اپنا علاج کروا رہے تھے۔
عمران خان کی حکومت نے مذکورہ کارروائیاں قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیں جس کے نتیجے میں اسحاق ڈار ستمبر 2018ء کے بعد سے برطانیہ میں پھنسے ہوئے تھے جس کے باعث صحت میں بہتری کے باوجود اسحاق ڈار کا پاکستان کیلئے سفر ناممکن تھا۔
اسحاق ڈار کو مئی 2022ء میں نیا پاسپورٹ ملا جو اسلام آباد میں پاسپورٹ اتھارٹیز نے 26 اپریل 2022ء کو جاری کیا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔