دونالد ترامپ اعلام کرد ایران شاید مانند هر زمان دیگری به آزادی نزدیک شده باشد و از آمادگی آمریکا برای کمک سخن گفت، در حالی که اعتراضات ضدحکومتی با وجود سرکوب شدید، خشونت مرگبار و قطع سراسری اینترنت در سراسر کشور ادامه دارد۔
US President Donald Trump has backed Iran’s protest movement, saying the country is “looking at freedom” as unrest spreads despite a deadly crackdown and internet blackout.
پاکستان اور امریکا کے مابین تیرہویں مشترکہ فوجی مشقوں انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز ہو گیا جن کا مقصد کاونٹر ٹیررازم میں تجربات کے تبادلہ، حربی طریقہ کار اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی ٹیکنیک کو بہتر بنانا ہے۔
Indian markets slipped again as weak global cues and proposed US tariffs on Russian oil buyers rattled investor confidence and heightened fears over India’s energy dependence.
بھارتی سٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز مندی کا شکار، غیر ملکی سرمایہ کے انخلا کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ 500 فیصد ٹیرف کی حمایت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا۔توانائی اور تجارتی پالیسیوں سے جڑی اس غیر یقینی صورتحال نے بھارتی معیشت اور مالی منڈیوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپیل کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جو 2018 سے عدالت میں زیر التوا ہے۔
احتساب عدالت کی جانب سے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف سینیٹر اسحاق ڈار کی جانب سے 2018 ء میں ایک اپیل/درخواست دائر کی گئی تھی۔ واضع رہے کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی طرف سے گزشتہ چار سالوں میں معاملے کی سماعت کے لئے دائر درخواستوں کے باوجود اپیل/درخواست نہیں سنی گئی۔
سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کے وکلا کی طرف سے دوبارہ ایک نئی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں اپیل/پٹیشن کی جلد سماعت کی درخواست کی گئی جو 2018 ء سے پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے 24 جولائی 2018ء کو سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو بغیر کسی بنیاد یا جواز کے سب سے پہلے ”بلیک لسٹ” کیا جس نے پاکستان میں پاسپورٹ حکام سمیت پاکستانی ہائی کمشنز/سفارت خانوں پر انہیں پاسپورٹ کے اجراء پر عملاً پابندی عائد کر دی۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا پاسپورٹ 6 ستمبر 2018ء کو عمران خان کی حکومت کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مذکورہ غیر قانونی کارروائی اسحاق ڈار کی جانب سے مطلوبہ پاسپورٹ کے اجراء کیلئے تحریری درخواست کے باوجود کی گئی جو سفری مقاصد کے لئے ایک ضروری اور بنیادی حق ہے۔ پاسپورٹ کی منسوخی کی حقیقت اسحاق ڈار کے علم میں 9 ستمبر 2018ء کو میڈیا کے ذریعے آئی جب وہ برطانیہ میں اپنا علاج کروا رہے تھے۔
عمران خان کی حکومت نے مذکورہ کارروائیاں قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیں جس کے نتیجے میں اسحاق ڈار ستمبر 2018ء کے بعد سے برطانیہ میں پھنسے ہوئے تھے جس کے باعث صحت میں بہتری کے باوجود اسحاق ڈار کا پاکستان کیلئے سفر ناممکن تھا۔
اسحاق ڈار کو مئی 2022ء میں نیا پاسپورٹ ملا جو اسلام آباد میں پاسپورٹ اتھارٹیز نے 26 اپریل 2022ء کو جاری کیا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔