اسحاق ڈار کی واپسی

سینیٹر اسحاق ڈار کی فوری ملک واپسی ہورہی ہے اور وہ آئیندہ چند دنوں میں ملک کے نئے وزیرخزانہ کا حلف اٹھانے جارہے ہیں۔

Senator Ishaq Dar is pictured addressing a press conference in 2017.
Senator Ishaq Dar is pictured delivering a press conference in 2017.

سینیٹر اسحاق ڈار کی فوری ملک واپسی ہورہی ہے اور وہ آئیندہ چند دنوں میں ملک کے نئے وزیرخزانہ کا حلف اٹھانے جارہے ہیں۔

اسحاق ڈٓار کی واپسی کے فیصلے کے پیچھے چند وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ پاکستانی معیشت کی دگرگوں صورتحال ہے اسحاق ڈار کی واپسی سے پاکستانی عوام کے دلوں میں امید کی ایک کرن جاگی ہے کہ انکے آنے سے ملکی معیشت میں بہتری آجائیگی اور اگر انکا ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو ایسا ہوتا ممکن بھی ہے لیکن اگر معروضی حالات کی طرف دیکھا جائے تووہ اس وقت پچھلی مرتبہ سے بہت مختلف ہیں۔

اسحاق ڈارنے جب پچھلی مرتبہ مختلف ادوار میں وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالا تھا تو اس وقت میاں نواز شریف وزیراعظم تھے انکو ہر مرتبہ میاں نواز شریف کی طرف سے فری ہینڈ دیا گیا تھا اور وہ ہر مرتبہ میاں نواز شریف کے اعتماد پر پورا بھی اترے لیکن اس مرتبہ صورتحال قدرے مختلف ہے کیونکہ یہ صرف ن لیگ کی نہیں بالکہ ایک متحدہ حکومت ہے جسکے فیصلے صرف شہباز شریف اکیلے نہیں کرتے اورساتھ ساتھ معاشی صورتحال پہلے کی نسبت دگرگوں ہے۔

اسحاق ڈٓار کو یاد  رکھنا ہوگا کہ یہ وہ 2017/18 والا پاکستان نہیں جسکو وہ چھوڑ کر گئے تھے پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے عمران خان اس ملک پر تقریبا چار برس حکمران رہے جس دوران معاشی ترقی کا جو پہیہ اسحاق ڈار نے چلایا تھا وہ نہ صرف رک گیا بالکہ الٹا چلنا شروع ہوچکا ہے وہ ڈالر جس کے پر اسحاق ڈار نے کاٹ ڈالے تھے اسکے نئے پر اگ آئے اور وہ اب بلندی پر محو پرواز ہے یعنی کہ اسحاق ڈار کو ایک نہیں بالکہ کئی محاذوں کا سامنا اوران سے نبٹنا ہوگا۔

اس تمام صورتحال میں اسحاق ڈار کو بڑے پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہونگے انکو ایک چومکھی لڑائی لڑنا ہوگی ایک طرف معاشی مشکلات سے نبٹنا ہوگا دوسری جانب ڈالر کی بلند اڑان سے تیسری جانب سیلاب کی تباہ کاریوں سے اور چوتھی جانب متحدہ حکومت کے چیلنجز سے نبردآزما ہونا ہوگا۔  

اس سب سے نبٹنے کیلئے انکو اپنی معاشی ٹیم کا انتخاب بڑی سوچ سمجھ کرکرنا ہوگا انکے پاس غلطی کی گنجائش سرے سے موجود نہیں کیونکہ وقت بہت محدود ہے اور مقابلہ بہت زیادہ سخت اب آئیندہ آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ اسحاق ڈار اپنی تمام تر اہلیت اور صلاحیتوں کیساتھ اس معاشی عفریت اور ڈالرکی بلند پرواز کو کنڑول کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں اور بقول انکے کہ معاشی جن کو ابھی بھی بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے یہ آئیندہ مستقبل قریب میں سب سامنے آجائیگا۔!

اسحاق ڈار کیلئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ وہ عین اسوقت ملک کے وزیرخزانہ بننے جارہے ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت اور اس دوران مختلف بین الاقوامی لیڈران سے کامیاب ملاقاتیں کرکے واپس آرہے ہیں فرانس نے پاکستانی متاثرین سیلاب کیلئے رواں برس کے آخر میں ڈونرز کارنفرنس کروانے کا اعلان کیا ہے بین الاقوامی کمیونٹی پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر فکرمند ہے اوراپنے بھرپور تعاون کا یقین دلا رہی ہے۔

∎

Raza Butt

Raza Butt is the editor of The Thursday Times.

ان کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔