آئین توڑنے والے جرنیل کا نام لیکرتنقید کریں لیکن فوجی ادارے پر تنقید نہ کریں، قاضی فائیز عیسی

ایک جج کا نام لیکر تنقید کریں لیکن پوری عدلیہ پرنہیں ایک جنرل کا نام لیکر تنقید کریں لیکن افواج پرنہیں ایک بیوروکریٹ کا نام لیکر تنقید کریں لیکن پوری بیوروکریسی پرنہیں۔

Justice Qazi Faez Isa addresses an audience at the 2022 Asma Jahangir Conference at Lahore.
Justice Qazi Faez Isa addresses an audience at the 2022 Asma Jahangir Conference at Lahore.

سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائیز عیسی کا کہنا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان کہے میرے اوپر جنرل ضیا الحق کیطرف سے پریشر تھا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دو اگر تم پریشر ہینڈل کرنے کے قابل نہیں تھے تو اسکا بہترین حل یہ تھا استعفی دیکر علیحدہ ہوجاتے لیکن کیسے تم نے ایک انسان کو صرف پریشر کیوجہ سے پھانسی چڑھا دیا یہ بات قاضی فائیز عیسی نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئی کہی۔

قاضی فائیز عیسی کا کہنا تھا کہ مسلح افواج ادارہ نہیں ہے بالکہ یہ ایگزیکٹو کا ایک حصہ ہے جبکہ عدلیہ اور مقننہ ادارے ہیں پاکستان میں جمہوریت اور آئین پر پہلا حملہ ایک بیوروکریٹ غلام محمد نے کیا تھا انہوں نے کہا کہ

Pure theory of lawکو پاکستان کے آئین کی بیخ کنی جمہوری ڈھانچے اور جمہوریت کے خلاف فوجی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹرائن کے طور پر استعمال کیا گیا

جسٹس فائیز عیسی نے کہا کہ پاکستان کی ایتھاس اسلامک اسکی بنیاد جمہوریت اور ڈھانچہ آئینی تھا لیکن جب اس سے یہ چھینا گیا تو اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا مشرقی بازو حوصلہ ہار گیا اور وہ بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آیا انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر کا آئین جس کو اس وقت کی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا جس کے خالق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو تھے لیکن جمہوریت اور آئین پر دوبارہ حملہ کیا گیا جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں ذوالفقار بھٹو کی حکومت کو برطرف کرکے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا

قاضی فائیز عیسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت تلخ ہے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا وزیراعظم خوجہ ناظم الدین کو بیرورکریٹ نے برطرف کردیا جبکہ وزیراعظم ذوالفقار بھٹوکو سپریم کورٹ نے سزائے موت دی پھر ڈکٹیٹر مشرف نے آئینی انحراف کیا جس کی سپریم کورٹ نے توثیق کی

انہوں نے مزید کہا کہ ہر جگہ اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں لیکن کسی ایک کی وجہ سے پورے ادارے کو برا مت کہیں

ایک جج کا نام لیکر تنقید کریں لیکن پوری عدلیہ پرنہیں

ایک جنرل کا نام لیکر تنقید کریں لیکن پوری افواج پرنہیں

ایک بیوروکریٹ کا نام لیکر تنقید کریں لیکن پوری بیوروکریسی پرنہیں

قاضی فائیزعیسی کا کہنا تھا کہ میرے اوپر ذاتی طور پر تنقید کریں اور میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ مجھ پر تنقید کرنے پر آپکو کبھی توہین عدالت کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا لیکن پورے ادارے پر تنقید نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ملک کا نقصان بھی ہوتا ہے اور ملک ٹوٹا بھی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عدلیہ، ایگزیکٹو، افواج کی ضرورت ہے لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت عوام کے منتخب نمائندوں کی قیادت کی ہے پاکستان میں جمہوریت پرضرب لگانے سے آپ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں ایسا کرنے سے آپ عوام اور ریاست کے دشمن ہیں اور آرٹیکل 6 یہی کہتاہے

پاکستان کی حالیہ عدالتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے قاضی فائیز عیسی کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ میں ایک وزیراعظم کو اس تنخواہ کو بنیاد بنا کر نااہل کیا گیا جو اس نے لی ہی نہیں تھی یہ سب کچھ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر کیا گیا ایسی اصطلاح جس سے میں بھی ناواقف تھا کیونکہ پاکستان کے تمام قوانین میں یہ اصطلاح صرف انسداد دہشت گردی ایکٹ میں پائی جاتی ہے

∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔