تحریک انصاف کے چئیرمین سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان تباہی کی جانب گامزن ہے پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کی قسطیں ادا نہیں کرسکتا اسلئے ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے جس کے نتیجہ میں بیرون ممالک سے آنیوالی تمام فنڈنگ رک جائیگی اور کوئی بیرون ملک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کریگا
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ریٹنگ نیچے گر چکی ہے اور پاکستان کا کریڈٹ رسک سو فیصد ہوچکا ہے ملک معاشی تباہی کی طرف جارہا ہے
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک پر اسوقت چوروں کا ٹولہ مسلط ہے انکو ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی فکر نہیں کیونکہ انکی اربوں ڈالرز کی جائیدایں اور پیسہ باہر پڑا ہوا ہے اور اگر ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو انکو اسکا فائدہ ہوتا ہے انکا کہنا تھا کہ میں نے تیس برس باہر کمائی کی اس سے ایک فلیٹ بنایا جو میں نے بیچا اوروہ پیسہ پاکستان لے آیا
چئیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں لیکن اسکے باوجود ملک میں پٹرول قیمتیں کم نہیں کی جارہیں
عمران خان نے مزید کہا کہ میرے دور میں پاکستانی جی ڈی پی میں اضافہ چھے فیصد ہوا جی ڈی پی اور دولت میں اتنا اضافہ صرف مارشل لا اداور میں ہوا جس میں ایوب خان ضیاالحق اور پرویز مشرف کے مارشل ادوار میں شامل ہیں اور پھر اسکے بعد صرف میرے دور میں ہوا
چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میڈیا کومعیشت کی بجائے اس وقت عمران خان کے گھڑی کی فکر پڑی ہوئی ہے وہ میری ذاتی گھڑی تھی میں اسے بیچوں یا جو مرضی کروں اس پر شور کیوں ڈل گیا ہے
عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے ڈسکوالیفائی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کیلئے کیسز ڈھونڈے جارہے ہیں اور اسکے لیے الیکشن کمیشن میں ایک بددیانت الیکشن کمیشن بٹھایا ہوا ہے
سابق وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن مجھے نااہل نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے پاس مجھے نااہل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے لیکن اگر یہ مجھے نااہل کربھی دیتا ہے تو قوم میرے علاوہ کسی کو ووٹ نہیں دیگی
عمران خان نے مزید کہا کہ ملک میں جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا تب تک معاشی استحکام نہیں آسکتا
نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی بڑی اچھی چیزیں سنی ہیں انکی بڑی تعریفیں سنی ہیں وہ حافظ قرآن ہیں انکو ٹائم دینا چاہتے ہیں اورامید کرتا ہوں کہ وہ امر بالمعروف پر چلیں گے
∎



