چیف جسٹس کا انتخابات از خود نوٹس کیس 4/3 سے مسترد ہوا، جسٹس اطہر من اللہ

چیف جسٹس کا انتخابات ازخود نوٹس کیس 4/3 سے مسترد ہوگیا میں نے نہ سماعت سے معذرت کی اور نہ ہی بینچ سے الگ ہوا، جسٹس اطہر من اللہ

ژباړه روانه ده… 0 / 5 اصلي متن ولولئ

A file photo is shown of Supreme Court Justice Athar Minallah. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of Supreme Court Justice Athar Minallah. — FILE/THE THURSDAY TIMES

جسٹس اطہر من اللّٰہ کے 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، سیاسی معاملات کے متعلق ازخود نوٹس میں احتیاط برتنی چاہیے، عدالت سے رجوع کرنے والی سیاسی جماعت کی نیک نیتی یا بدنیتی کو بھی پرکھنا چاہیے۔ سیاستدان مناسب فورمز کے بجائے عدالت میں تنازعات لانے سے ہارتے یا جیتتے ہیں لیکن عدالت بہرصورت ہار جاتی ہے، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر صرف آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔

— FILE/THE THURSDAY TIMES
— FILE/THE THURSDAY TIMES

نوٹ کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کیلئے متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کیا گیا، دونوں صوبوں کے ہائیکورٹس میں کیسز زیرِ التواء تھے مگر اس کے باوجود سوموٹو لیا گیا جس کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔ معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ سیاسی رسہ کشی سے عوامی مفادات اور معاشی حالات متاثر ہو رہے ہیں۔

تفصیلی نوٹ میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی غیر آئینی رولنگ کا بھی حوالہ دیا گیا اور لکھا گیا کہ عمران خان نے تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اپوزیشن میں بیٹھنے کی بجائے استعفوں کا اعلان کیا۔ تحریکِ انصاف کے استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔ تحریکِ انصاف نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے لکھا کہ عدالتوں کی طرف سے غیر جمہوری قوتوں کی توثیق سے ملک اور عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ سیاسی ماحول بہت زہریلا ہو چکا ہے۔ سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر آئینی کردار ادا کرنے کے بجائے استعفے دیئے گئے، کیا صوبائی اسمبلیوں کی اس طرح تحلیل آئین کی خلاف ورزی نہیں؟

یاد رہےکہ سپریم کورٹ میں 23 فروری کو ہونے والی از خود نوٹس کیس کی سماعت میں جسٹس اطہر من اللّٰہ بینچ سے علیحدہ ہو گئے تھے اور انہوں نے ایک نوٹ بھی تحریر کیا تھا جو اب تفصیلی طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

تھرسڈے ٹائمز شائع کرتا ہے Thursday Media International