ACROSS TT

News

Apple unveils iPhone Duo, its first foldable iPhone

Apple has unveiled the iPhone Duo, its first-ever foldable iPhone, featuring a 7.6-inch display Apple calls the largest and most immersive iPhone screen ever. The launch, presided over by new CEO, starts at $1,999, with preorders opening October 16.

Trump did not object to UK’s Israel settlement sanctions

US President Donald Trump did not push back on British plans to sanction Israeli settlements when briefed by Prime Minister Andy Burnham, a Western official told The Times of Israel.

UK PM Burnham announces sanctions on Israeli settlements

British Prime Minister Andy Burnham announced a package of measures targeting Israeli settlements in the West Bank, including a trade ban, a formal declaration that the occupation is unlawful, and sanctions on individuals and companies profiting from settlement expansion, calling it a decisive break from years of British hesitancy.

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے (فلسطین) میں اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندیاں عائد کر دیں

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے (فلسطین) میں اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ڈنمارک، ناروے، پولینڈ، سپین اور سویڈن نے ”دو ریاستی حل“ کی حمایت میں مزید اقدامات کا عندیہ دے دیا۔ اسرائیل کی ”سفارتی تنہائی“ بڑھ رہی ہے۔ روئٹرز

Japan’s Sumitomo Corporation in talks to invest in Pakistan mining

Pakistan's Special Investment Facilitation Council has brought Japanese trading conglomerate Sumitomo Corporation into discussions about potential mining and minerals investment. Talks have begun, but no project, financial commitment, or timeline has been announced.
Newsroomسپریم کورٹ کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ اس کی تشریح کرنا...

سپریم کورٹ کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ اس کی تشریح کرنا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جب مارشل لاء لگتے ہیں تو تب سب ہتھیار پھینک دیتے ہیں، اس وقت سب حلف کو بھول جاتے ہیں، یہاں اس کمرے میں کتنی ہی ایسے لوگوں تصاویر آویزاں ہیں جو اپنا حلف بھول گئے لیکن جب پارلیمنٹ کچھ کرے تو اس میں مین میخیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔

spot_img

اسلام آباد—سپریم کورٹ آف پاکستان میں ”سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023“ کے خلاف درخواستوں پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دوسری بار فل کورٹ سماعت جاری ہے جس کو سرکاری ٹیلی ویژن سے براہِ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ “پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس” آج ہی انجام تک پہنچ جائے کیونکہ سپریم کورٹ کے سامنے صرف یہ ایک ہی کیس نہیں ہے بلکہ بہت زیادہ مقدمات ہیں، صرف اسی کیس کو لے کر بیٹھ جائیں گے تو بقیہ مقدمات کا کیا بنے گا۔

ایک موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جب مارشل لاء لگتے ہیں تو تب سب ہتھیار پھینک دیتے ہیں، اس وقت سب حلف کو بھول جاتے ہیں، یہاں اس کمرے میں کتنی ہی ایسے لوگوں تصاویر آویزاں ہیں جو اپنا حلف بھول گئے لیکن جب پارلیمنٹ کچھ کرے تو اس میں مین میخیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں، جب مارشل لاء لگتے ہیں تو اس پر بھی پٹیشن لایا کریں اور کہا کریں کہ ہم اس کو نہیں مانتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے آئین آتا ہے، پھر قانون آتا ہے اور پھر فیصلے آتے ہیں، اگر سپریم کورٹ قانون بناتا ہے تو یہ غلط ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ اس کی تشریح کرنا ہے۔ میں ماضی کے فیصلوں کے تابع نہیں ہوں، میں نے آئین اور قانون کو برقرار رکھنے کا حلف لیا ہوا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے تحت بطور چیف جسٹس میری پاور کم ہو رہی ہے اور سپریم کورٹ کی طاقت بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ سپریم کورٹ جو چاہے وہ کر سکتی ہے، یہاں پر ایسا بھی کہا گیا کہ آئین کو روند دیں اور بدل دیں، اس کا مطلب ہے کہ جو چیف جسٹس آئے گا اس وقت کا بینچ جو فیصلہ کرے گا وہی لاگو ہو گا تو پھر آئین کی تو کوئی حیثیت ہی نہ رہی۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر انصاف تک رسائی کا حق پارلیمنٹ نے دینا ہو تو کیا پارلیمنٹ اس پر قانون سازی نہیں کرسکتی؟ یعنی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ انصاف تک رسائی کیلئے پارلیمنٹ کو آئین میں تبدیلی کرنا پڑے گی؟

سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس نے ایک درخواست گزار مدثر حسن کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار بھی کیا، چیف جسٹس نے درخواست گزار مدثر حسن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ پیش نہیں ہوئے جبکہ آج پٹیشنر موجود نہیں ہے، کیا آپ کے نذدیک اس کیس کی یہی اہمیت ہے؟

ایک درخواست گزار کے وکیل چوہدری اکرم نے کسی اخبار کا آرٹیکل پڑھنا شروع کیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو سنیں گے لیکن ایسے کھوکھلے دلائل نہیں سن سکتے کہ اخبارات کیا کہتے ہیں، آپ اپنی بات کریں اور اپنے کیس پر دلائل کے ساتھ بات کریں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ایک موقع پر وکیل چوہدری اکرم کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کی پٹیشن میں ایسی کوئی بات نہیں کہ پارلیمنٹ کی قانون بنانے کی اہلیت نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ پارلیمنٹ کی اہلیت کو تسلیم کر رہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایکٹ آئین کی رو کیلے خلاف ہے تو آپ بس یہ بتا دیں کہ یہ قانون آئین کی کس شق کے خلاف ہے؟

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.