spot_img

Columns

News

عید سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی گئی

وزیراعظم شہباز شریف نے عید پر پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 33 پیسے کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے نافذ ہوں گی۔ حکومت نے یکم جون کو بھی قیمتیں کم کی تھیں، جس سے عوام کو مجموعی طور پر 35 روپے کا ریلیف ملا ہے۔

عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا خاتمہ جلد ہونے والا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے، یہ سلسلہ مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوا، عدلیہ اس مداخلت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور جلد اس کا خاتمہ ہونے والا ہے، ایک جج کو کسی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین کارکردگی والی مارکیٹ بن گئی, امریکی جریدہ بلومبرگ

پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے بہترین کارکردگی کی بنا پر ڈالر میں دنیا کی ٹاپ پرفارمر سٹاک مارکیٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، جس میں گزشتہ ایک برس کے دوران تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافہ کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے اور حکومتی اقدامات کی بدولت مستقبل میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

وفاقی بجٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، آج ہنڈرڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 3 ہزار 410 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔

وفاقی بجٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، آج ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔
spot_img
Newsroomذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے 44 برس بعد سپریم کورٹ میں اسے...

ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے 44 برس بعد سپریم کورٹ میں اسے عدالتی قتل قرار دینے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت

ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے 44 برس بعد سپریم کورٹ میں اسے عدالتی قتل قرار دینے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت۔ افسوس ہے کہ 11 برس تک ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس مقرر نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج ”ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس“ پر 12 برس بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی جو براہِ راست نشر کی گئی۔

سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں جبکہ سماعت کے موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اِس بینچ کی تشکیل ججز کمیٹی کے ذریعہ کی گئی، ایک سینیئر جج نے بینچ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور دو دیگر ججز نے کسی وجہ سے بینچ کا حصہ بننا مناسب نہیں سمجھا، “ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس” اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے دائر کیا تھا اور ان کے بعد دو صدور آئے لیکن کسی نے اس کو واپس نہیں لیا، مجھے افسوس ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اِس ریفرنس کو پہلے مقرر نہیں کیا گیا حالانکہ پالیسی یہی ہے کہ جو کیس پہلے آئے اُس کو پہلے سنا جائے مگر یہ ریفرنس 11 سالوں تک مقرر نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کے روبرو دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے کہا تھا کہ ان کے خلاف کی گئی تنقید اور کیس واضح طور پر تعصب پر مبنی ہے، سماعت کے دوران احمد رضا قصوری بھی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے صحافی افتخار احمد کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ ذوالفقار بھٹو کو دی گئی پھانسی عدالتی قتل تھا، ایک اور انٹرویو میں یہ کہا گیا تھا کہ جب مارشل لاء لگتا ہے تو مارشل لاء والوں کی بات ماننا پڑتی ہے۔

بینچ میں شامل تین ججز نے اٹارنی جنرل کے دلائل کے جواب میں ریمارکس دیئے کہ پورا ریفرنس سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر مبنی ہے اور ساتھ یہ بھی مدِنظر رکھا جائے کہ تین ججز نے اختلاف بھی کیا تھا، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی مارشل لاء میں عدلیہ آزاد نہیں ہوتی اور اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت بھی پیش کرنا ہو گا۔

سپریم کورٹ نے اِس کیس کی سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کیس میں 9 عدالتی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے بانی کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دینے کا ریفرنس 2011 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے ذریعہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کیا گیا تھا جس کی سماعت کیلئے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ کے تحت اِس صدارتی ریفرنس پر 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک 6 سماعتیں ہوئیں تاہم کوئی فیصلہ نہ سنایا گیا جبکہ 11 برس بعد اب اِس ریفرنس پر دوبارہ سماعت کی جا رہی ہے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: