ACROSS TT

News

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کر دیا، بلومبرگ

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل معاشی استحکام سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی، شرحِ سود میں کمی سے مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی، قرض ادائیگی کی استطاعت بڑھ گئی۔

Asim Munir returns to Tehran to mediate US-Iran war

Field Marshal Asim Munir traveled to Tehran on Monday for his third visit this year, meeting Iran's newly appointed military leadership as Pakistan works to revive stalled US-Iran talks. Iran's Foreign Ministry says bilateral ties between the two countries have reached one of their strongest stages.

Asim Munir to visit Tehran again as Pakistan mediates

Pakistan's Army Chief Asim Munir will travel to Tehran on Monday, Iran's Foreign Ministry says, in his third visit this year tied to US-Iran mediation efforts.

Supreme Court directs transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital

The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan sign Makkah Joint Defence Agreement

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
Newsroomذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے 44 برس بعد سپریم کورٹ میں اسے...

ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے 44 برس بعد سپریم کورٹ میں اسے عدالتی قتل قرار دینے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت

ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے 44 برس بعد سپریم کورٹ میں اسے عدالتی قتل قرار دینے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت۔ افسوس ہے کہ 11 برس تک ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس مقرر نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج ”ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس“ پر 12 برس بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی جو براہِ راست نشر کی گئی۔

سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں جبکہ سماعت کے موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اِس بینچ کی تشکیل ججز کمیٹی کے ذریعہ کی گئی، ایک سینیئر جج نے بینچ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور دو دیگر ججز نے کسی وجہ سے بینچ کا حصہ بننا مناسب نہیں سمجھا، “ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس” اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے دائر کیا تھا اور ان کے بعد دو صدور آئے لیکن کسی نے اس کو واپس نہیں لیا، مجھے افسوس ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اِس ریفرنس کو پہلے مقرر نہیں کیا گیا حالانکہ پالیسی یہی ہے کہ جو کیس پہلے آئے اُس کو پہلے سنا جائے مگر یہ ریفرنس 11 سالوں تک مقرر نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کے روبرو دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے کہا تھا کہ ان کے خلاف کی گئی تنقید اور کیس واضح طور پر تعصب پر مبنی ہے، سماعت کے دوران احمد رضا قصوری بھی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے صحافی افتخار احمد کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ ذوالفقار بھٹو کو دی گئی پھانسی عدالتی قتل تھا، ایک اور انٹرویو میں یہ کہا گیا تھا کہ جب مارشل لاء لگتا ہے تو مارشل لاء والوں کی بات ماننا پڑتی ہے۔

بینچ میں شامل تین ججز نے اٹارنی جنرل کے دلائل کے جواب میں ریمارکس دیئے کہ پورا ریفرنس سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر مبنی ہے اور ساتھ یہ بھی مدِنظر رکھا جائے کہ تین ججز نے اختلاف بھی کیا تھا، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی مارشل لاء میں عدلیہ آزاد نہیں ہوتی اور اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت بھی پیش کرنا ہو گا۔

سپریم کورٹ نے اِس کیس کی سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کیس میں 9 عدالتی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے بانی کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دینے کا ریفرنس 2011 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے ذریعہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کیا گیا تھا جس کی سماعت کیلئے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ کے تحت اِس صدارتی ریفرنس پر 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک 6 سماعتیں ہوئیں تاہم کوئی فیصلہ نہ سنایا گیا جبکہ 11 برس بعد اب اِس ریفرنس پر دوبارہ سماعت کی جا رہی ہے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.