ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — ریاض فیشن ویک 2024 پانچ روزہ شاندار تقریب کی صورت میں 17 سے 21 اکتوبر تک جاری رہے گا اور فیشن کی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ سعودی فیشن کمیشن کے زیر اہتمام یہ تقریب عالمی فیشن کیلنڈر کی ایک اہم تاریخ بنتی جا رہی ہے، جس میں سعودی ثقافت اور جدید ڈیزائن کی جدت کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ تقریب نہ صرف خطے کی فیشن صنعت کو بلندی دیتی ہے بلکہ ڈیزائنرز اور صنعت کے ماہرین کی بھرپور شرکت کے باعث بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کرتی ہے۔
سعودی فیشن کے ورثے کا جشن
اس سال ریاض فیشن ویک سعودی عرب کے بدلتے ہوئے فیشن منظرنامے پر روشنی ڈال رہا ہے۔ تیما عابد، یحییٰ البشاری اور نور الظہری جیسے ڈیزائنرز ہاؤٹ کوچر کلیکشنز پیش کریں گے جو مملکت کی بھرپور تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ ان کلیکشنز میں جدید جمالیات کو روایتی دستکاری کے ساتھ ملایا جائے گا اور باحجاب لباس کے ساتھ زیادہ تجرباتی انداز بھی پیش کیے جائیں گے۔ ورثے سے یہ وابستگی وعد العقیلی اور ایمان جوہرجی جیسے نوآموز ڈیزائنرز کی ریڈی ٹو ویئر کلیکشنز تک بھی پھیلی ہوئی ہے، جو سعودی فیشن کا مستقبل بیں تصور پیش کرتی ہیں۔
باحجاب لباس اور اسٹریٹ ویئر کا امتزاج
ریاض فیشن ویک 2024 کے نمایاں ترین پہلوؤں میں سے ایک اسٹریٹ ویئر برانڈز کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے جو باحجاب فیشن کی حدود کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ 1886 اور ہاؤس آف سینمار جیسے مقامی لیبلز کی کلیکشنز شہری اثرات کو ثقافتی روایات کے ساتھ ملا کر باحجاب لباس کی نئی تعریف متعین کریں گی۔ یہ کلیکشنز ایک ایسے ثقافتی امتزاج کی نمائندگی کرتی ہیں جو اس خطے کے لیے منفرد ہے اور سعودی معاشرے کی جدیدیت کے ساتھ ساتھ روایت کے لیے اس کے پائیدار احترام کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔
عالمی اثرات اور ستاروں سے سجی فہرست
ریاض فیشن ویک تیزی سے عالمی اہمیت حاصل کر رہا ہے، جہاں اے لسٹ مہمان اور بین الاقوامی فیشن آئیکنز مرکزِ نگاہ ہیں۔ اگرچہ مہمانوں کی مکمل فہرست ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم گزشتہ سال کی تقریب میں نیومی کیمبل اور زینڈایا جیسی مشہور شخصیات شریک ہوئی تھیں، اور توقع ہے کہ اس سال بھی صورتِ حال مختلف نہیں ہوگی۔ تقریب کی بین الاقوامی کشش کو نہ صرف اس کی مہمانوں کی فہرست سے تقویت ملتی ہے بلکہ عالمی سطح پر سعودی ڈیزائنرز کے بڑھتے ہوئے اعتراف سے بھی۔ ASHI Studio اور اروا البنوی جیسے برانڈز پہلے ہی عالمی رن ویز کی زینت بن چکے ہیں، جو عالمی سطح پر سعودی فیشن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔
فیشن فیوچرز ایکس ہیا حب: فیشن کے مستقبل کی جستجو
مرکزی تقریب کے ساتھ ساتھ فیشن فیوچرز ایکس ہیا حب کے نام سے ایک معاون کانفرنس بھی جاری ہے، جس میں پینل مباحثے اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں جن میں فیشن کی صنعت کے مستقبل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پائیداری، ٹیکنالوجی کی جدت، اور عالمی منڈی میں حجاب و شائستہ لباس پر مبنی فیشن کے بدلتے ہوئے کردار جیسے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔ اس اقدام سے ریاض فیشن ویک کو نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کی نمائش کے طور پر بلکہ فیشن کے مستقبل پر بامعنی مکالمے کے مرکز کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ریاض: ابھرتا ہوا فیشن دارالحکومت
ریاض فیشن ویک اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد سعودی عرب کو عالمی فیشن مرکز کے طور پر نمایاں کرنا ہے۔ مقامی ڈیزائنرز میں مملکت کی سرمایہ کاری، اور ثقافتی ورثے کو جدید ڈیزائن میں سمونے کی کوششیں، ایک ایسی مقامی فیشن صنعت کو فروغ دینے کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے۔ جیسے جیسے مزید ڈیزائنرز کو بین الاقوامی پذیرائی مل رہی ہے، ریاض فیشن کی دنیا میں ایک ایسا شہر بنتا جا رہا ہے جس پر سب کی نظریں ہیں۔
رسائی اور ڈیجیٹل شمولیت
اگرچہ ریاض فیشن ویک میں شرکت صرف دعوت نامے کے ذریعے ممکن ہے، تاہم یہ تقریب لائیو سٹریمنگ کے ذریعے عالمی ناظرین کے لیے بھی دستیاب ہو گی۔ گزشتہ سال کی لائیو سٹریم نے دنیا بھر کے فیشن کے شائقین کی خاصی توجہ حاصل کی تھی، اور توقع ہے کہ 2024 کا ایڈیشن اس سے بھی زیادہ ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ یہ رسائی سعودی فیشن کمیشن کے اس عزم کی عکاس ہے کہ سعودی فیشن کو عالمی سطح پر فروغ دیا جائے، اور یہ اس منفرد امتزاج کی ایک جھلک پیش کرتی ہے جو روایت اور جدیدیت کے ملاپ سے ملک کے فیشن کے منظرنامے کی پہچان بنا ہے۔



