واشنگٹن (دی تھرسڈے ٹائمز) — افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مسلح مزاحمتی تنظیموں نے اکتوبر 2026 کے دوران اپنی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ ملک کے جنوبی، شمالی، مشرقی، مغربی اور وسطی علاقوں میں طالبان کی چوکیوں، فوجی تنصیبات، گاڑیوں اور اہم اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے سامنے آئے ہیں۔
امریکی تحقیقی ادارے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے جریدے ’’لانگ وار جرنل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں طالبان مخالف تنظیموں نے مجموعی طور پر 82 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جو ستمبر کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔
ان کارروائیوں میں بارودی مواد سے کیے گئے دھماکے، راکٹ اور مارٹر حملے، گھات لگا کر کی گئی کارروائیاں اور اہم طالبان اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ شامل تھی۔
مزاحمتی تنظیموں کے دعووں کے مطابق ان حملوں میں 122 طالبان اہلکار ہلاک اور 68 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق کارروائیاں قندھار، ہلمند، زابل، بدخشاں، بغلان، تخار، کابل، بامیان، پروان، کاپیسا، پنجشیر، وردک، غور، ہرات، سرپل، کنڑ، ننگرہار، نورستان، غزنی، پکتیا اور لوگر سمیت افغانستان کے 21 صوبوں میں رپورٹ ہوئیں۔
افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے 36 حملے، طالبان کے مضبوط گڑھ میں مزاحمت تیز
اکتوبر میں سب سے زیادہ حملوں کی ذمہ داری سابق افغان فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات کی تنظیم افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے قبول کی۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ کے مطابق افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے ایک ماہ کے دوران 36 کارروائیوں کا دعویٰ کیا، جو دوسری سب سے زیادہ سرگرم تنظیم کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہیں۔
ان حملوں کی بڑی تعداد قندھار اور ہلمند میں ہوئی، جو طالبان کے اہم سیاسی، عسکری اور نظریاتی مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
سمیع سادات افغانستان کی سابق قومی فوج کی 215ویں ہلمند کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ وہ ہلمند میں پلے بڑھے اور ان کی تنظیم نے جنوبی افغانستان میں طالبان کی گرفت کو چیلنج کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
جریدے کے مطابق سمیع سادات طالبان مخالف مزاحمت کے نمایاں رہنماؤں میں منفرد حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی تنظیم کی کارروائیوں کا بڑا مرکز جنوبی افغانستان ہے، جہاں طالبان کا اثرورسوخ تاریخی طور پر مضبوط رہا ہے۔
26 اکتوبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے محض 24 گھنٹوں میں غور، بدخشاں، غزنی، زابل، قندھار اور پروان میں سات حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ نے مختلف صوبوں میں ایک ہی دن ہونے والی ان کارروائیوں کو تنظیم کی بہتر عسکری منصوبہ بندی اور حملوں کو مربوط کرنے کی صلاحیت کا اشارہ قرار دیا۔
احمد مسعود کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے 11 حملے
احمد مسعود کی قیادت میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے اکتوبر میں 11 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
یہ کارروائیاں بدخشاں، بغلان، پنجشیر، ہرات، قندھار اور وردک میں رپورٹ ہوئیں۔
ان حملوں میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ سے وابستہ دو گروہوں، شہید مسعود بریگیڈز اور پنجشیر یونٹ 01، کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
12 ستمبر کو اپنے قیام کا اعلان کرنے والی شہید مسعود بریگیڈز نے 24 اکتوبر کو پنجشیر میں طالبان کی ایک گاڑی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ تنظیم کے مطابق اس کارروائی میں چار طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
اکتوبر کی ایک اہم کارروائی 4 اکتوبر کو بدخشاں کے شہر فیض آباد میں سامنے آئی، جہاں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کے نائب انٹیلی جنس سربراہ صفی اللہ متوکل اور ان کے دو محافظوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
تاہم طالبان نے بھی مزاحمتی تنظیم کو اہم نقصان پہنچایا۔
18 اکتوبر کو پنجشیر کے ضلع پریان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے کمانڈر میرویس خان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔
یہ گزشتہ تین ماہ میں تنظیم کے دوسرے اہم کمانڈر کی ہلاکت تھی۔ اس سے قبل 19 اگست کو طالبان نے پروان کے شمالی سالنگ علاقے میں مزاحمتی کمانڈر حسیب پنجشیری کو ہلاک کیا تھا۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ کے مطابق اہم کمانڈروں کی مسلسل ہلاکتیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ کارروائیوں میں اضافے کے باوجود مزاحمتی تنظیموں کو قیادت اور عسکری صلاحیت کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
بگرام ایئربیس پر حملے کا دعویٰ، افغان فریڈم فرنٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ
افغانستان کی سابق قومی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف یاسین ضیا کی قیادت میں افغان فریڈم فرنٹ نے اکتوبر کے دوران 10 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
یہ کارروائیاں بدخشاں، پروان، کابل، کاپیسا، کنڑ، لوگر، نورستان اور تخار میں کی گئیں۔
22 اکتوبر کو افغان فریڈم فرنٹ نے بگرام ایئربیس پر بالواسطہ فائرنگ کے ذریعے حملے کا دعویٰ کیا، جس میں تنظیم کے مطابق 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔
بگرام افغانستان کی اہم فوجی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور ماضی میں امریکی افواج کا بڑا فوجی اڈہ رہ چکا ہے۔
افغان فریڈم فرنٹ نے مسلسل دوسرے ماہ نورستان کے ضلع کامدیش میں بھی طالبان کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔
کامدیش پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ کے تجزیے کے مطابق اس علاقے میں مسلسل کارروائیاں ممکنہ طور پر افغان فریڈم فرنٹ کی جانب سے نقل و حرکت کی آزادی حاصل کرنے اور رسد کے راستے قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں۔
تاہم اس ممکنہ حکمت عملی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
طالبان مخالف مزاحمت میں نئی تنظیم، افغان نیشنل لبریشن فرنٹ کا قیام
اکتوبر کے آخر میں طالبان مخالف مزاحمت کے اندر ایک نئی تنظیم سامنے آئی۔
29 اکتوبر کو افغان ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ صوبہ فراہ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمان عبد الستار حسینی اور افغان فریڈم فرنٹ کے دو دیگر ارکان نے اپنی تنظیم سے علیحدگی اختیار کرکے افغان نیشنل لبریشن فرنٹ قائم کر لیا۔
31 اکتوبر کو نئی تنظیم نے پکتیا کے شہر گردیز میں طالبان کی 203ویں منصوری کور پر اپنی پہلی کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔
تنظیم کے مطابق حملے میں دو طالبان اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ نے نشاندہی کی کہ افغان نیشنل لبریشن فرنٹ نے افغان فریڈم فرنٹ سے تقریباً ملتا جلتا نشان اختیار کیا، جس میں بنیادی فرق صرف رنگوں کا تھا۔
جریدے کے مطابق نئی تنظیموں کا قیام ایک طرف طالبان مخالف سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن دوسری جانب مزاحمتی تحریک کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
طالبان مخالف گروہ اب تک ایک متحدہ قیادت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت منظم ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
امراللہ صالح کی گرین یونٹ کے آٹھ حملے، بھارتی ساختہ ہیلی کاپٹر گرانے کا دعویٰ
افغانستان کے سابق نائب صدر اور انٹیلی جنس ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے سابق سربراہ امراللہ صالح سے وابستہ گرین ٹرینڈ کے عسکری ونگ، گرین یونٹ، نے اکتوبر میں آٹھ حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
یہ کارروائیاں بدخشاں، پنجشیر، بامیان، ہلمند اور ہرات میں رپورٹ ہوئیں۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ کے مطابق رواں سال عسکری کارروائیاں شروع کرنے والی گرین یونٹ کے لیے یہ اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ تعداد تھی۔
گرین یونٹ نے پنجشیر میں بھارتی ساختہ چیتل ہیلی کاپٹر مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا، جس میں دونوں پائلٹ زخمی ہوئے۔
تاہم طالبان نے اس دعوے کی تردید کی۔
طالبان حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر کسی حملے کا نشانہ نہیں بنا بلکہ نامناسب مقام پر اترتے ہوئے چٹانوں سے ٹکرا گیا تھا۔
اس واقعے کے بارے میں دونوں فریقوں کے مؤقف مختلف ہیں اور ہیلی کاپٹر کے حادثے کی اصل وجہ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغانستان ریپبلکن فرنٹ کے نو حملے، غور میں طالبان گشتی دستہ نشانہ
سابق گورنر بامیان طاہر ضمیر کی قیادت میں افغانستان ریپبلکن فرنٹ نے اکتوبر کے دوران نو حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
یہ کارروائیاں بامیان، سرپل، غزنی، غور اور کابل میں رپورٹ ہوئیں۔
11 اکتوبر کو تنظیم نے غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں طالبان کے ایک گشتی دستے پر بارودی مواد سے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
تنظیم کے مطابق اس کارروائی میں چار طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
دوسری جانب ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ نے 19 اکتوبر کو تخار کے ضلع کلفگان کے طالبان ضلعی گورنر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
یہ جولائی میں بدخشاں کے ضلع یفتل سفلی کے مرکز پر عارضی قبضے کے بعد تنظیم کی پہلی اعلان کردہ کارروائی تھی۔
ننگرہار میں طالبان جیل افسر کی ہلاکت، مختلف تنظیموں کے مزید حملے
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے 5 اکتوبر کو ننگرہار کے شہر جلال آباد میں طالبان کے ایک اعلیٰ جیل افسر کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔
طالبان نے بھی متعلقہ افسر کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
بعد ازاں 15 اکتوبر کو طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پکتیا کے ضلع ڈنڈ پٹان میں اس قتل کے مبینہ ذمہ دار شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔
سابق افغان فوجی کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ نے 22 اکتوبر کو پروان میں طالبان کی ایک چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
تنظیم کے مطابق اس کارروائی میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
افغان لبریشن موومنٹ نے 17 اکتوبر کو طالبان کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملے کا دعویٰ کیا۔
31 اکتوبر کو ایک اور نئی طالبان مخالف تنظیم، نیشنل آئیڈیل فرنٹ، نے غزنی، بغلان اور ہلمند میں تین حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
تنظیم کے مطابق ان کارروائیوں میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
مشکوک ویڈیوز، 14 مبینہ حملے ماہانہ اعداد و شمار سے خارج
’’لانگ وار جرنل‘‘ نے اپنی رپورٹ میں طالبان مخالف تنظیموں کے تمام دعووں کو درست تسلیم نہیں کیا۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے اکتوبر کے دوران 14 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، تاہم جریدے نے ان کارروائیوں کو اپنے مجموعی اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی متعدد ویڈیوز بظاہر پرانی تھیں۔
اسی طرح 29 اکتوبر کی ایک مبینہ کارروائی کے ساتھ جاری کی گئی ویڈیو بھی واضح طور پر پہلے سے ترتیب دی گئی محسوس ہوتی تھی۔
ان شواہد کی بنیاد پر ’’لانگ وار جرنل‘‘ نے تنظیم کے 14 مبینہ حملوں کو اکتوبر کے 82 حملوں کی مجموعی تعداد سے خارج رکھا۔
جریدے کی یہ احتیاط اس لیے بھی اہم ہے کہ افغانستان میں جاری مسلح تنازع کے دوران مختلف تنظیموں کے حملوں اور جانی نقصانات کے دعووں کی آزادانہ تصدیق اکثر ممکن نہیں ہوتی۔
حملوں میں دو گنا اضافہ، لیکن کیا طالبان کے اقتدار کو واقعی خطرہ ہے؟
اکتوبر کے دوران طالبان مخالف مزاحمت کی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ افغانستان کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔
خاص طور پر سمیع سادات کی افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے جنوبی افغانستان میں طالبان کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کیا ہے۔
دوسری جانب امراللہ صالح کی گرین یونٹ اور افغانستان ریپبلکن فرنٹ جیسی تنظیموں کی کارروائیاں بھی نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔
تاہم حملوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ طالبان حکومت کو فوری طور پر اقتدار کھونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
مزاحمتی تنظیموں کے درمیان اختلافات، نئی تنظیموں کا مسلسل قیام، مشترکہ قیادت کا فقدان اور اہم کمانڈروں کی ہلاکتیں ان کی طویل مدتی عسکری صلاحیت کے بارے میں سوالات پیدا کرتی ہیں۔
’’لانگ وار جرنل‘‘ کے تجزیے کے مطابق افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی سرگرمیوں نے طالبان مخالف حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے، لیکن مزاحمتی تحریک کی تقسیم اور قیادت کو پہنچنے والے نقصانات اس کی مستقبل کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت بلاشبہ ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے، لیکن اصل امتحان حملوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ مختلف گروہوں کو ایک مشترکہ سیاسی اور عسکری حکمت عملی کے تحت متحد کرنا ہے۔



