خلاصہ:
-
ریاض میٹرو شہری ترقی کا نیا سنگِ میل ہے۔
-
جدید ترین ٹرانزٹ نظام چھ میٹرو لائنوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
-
وژن پر مبنی یہ منصوبہ سعودی عرب کی جدت کاری کو اجاگر کرتا ہے۔
ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ریاض میٹرو کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ یہ سنگِ میل منصوبہ سعودی عرب میں شہری آمدورفت کو نئی شکل دیتا ہے۔ 176 کلومیٹر پر پھیلی، چھ لائنوں اور 85 اسٹیشنوں پر مشتمل یہ میٹرو ریاض کے عوامی ٹرانسپورٹ نظام کا اہم جزو ہے اور مملکت کے بلند عزائم پر مبنی شہری ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے دور اندیشی پر مبنی ایک بڑی جست
ریاض میٹرو ایک ہی مرحلے میں تعمیر ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ٹرانزٹ منصوبوں میں سے ایک ہے، جو سعودی عرب کی جدت کاری اور پائیدار شہری ترقی کی کوششوں کو نمایاں کرتا ہے۔ شہر کو باہم جوڑنے والی چھ میٹرو لائنوں کے ساتھ اس منصوبے کو ریاض کے ارتقا پذیر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ نیٹ ورک کا آغاز مرحلہ وار ہوگا، جس کے تحت پہلے تین بنیادی لائنیں، یعنی بلیو لائن، یلو لائن اور پرپل لائن شروع کی جائیں گی، جبکہ ان کے بعد جلد ہی ریڈ لائن، گرین لائن اور اورنج لائن شروع ہوں گی۔
جدید ترین ڈیزائن اور عالمی اشتراکِ عمل
انجینئرنگ کی مہارت اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے امتزاج نے ریاض میٹرو کو حقیقت بنایا ہے۔ منصوبے کے ٹھیکے تین عالمی کنسورشیمز، بی اے سی ایس (BACS)، فاسٹ (FAST) اور اے این ایم (ANM) کو دیے گئے، جن میں 13 ممالک کی 19 بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ سیمنز، بامبارڈیئر اور السٹوم کی تیار کردہ ٹرینوں میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، اور ان میں اندرونی حصے کو لچکدار پارٹیشنز کے ذریعے مخصوص درجوں، یعنی فرسٹ، فیملیز اور سنگلز، میں تقسیم کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
فرانس کی اوانت پریمیئر کا تیار کردہ ڈیزائن افادیت کو جدید جمالیات کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔ ہر ٹرین دو سے چار ڈبوں پر مشتمل ہے اور زیرِ زمین، سطحِ زمین اور بلند پٹریوں پر بلا رکاوٹ چلتی ہے۔
معاشی اثرات اور پائیداری
ریاض میٹرو روزانہ 36 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کر سکتی ہے، جس سے نجی گاڑیوں پر انحصار نمایاں طور پر کم ہوگا اور ٹریفک کے اژدحام میں کمی آئے گی۔ یہ منصوبہ کاربن کے اخراج میں کمی اور ریاض کے نئے شروع کیے گئے بس نیٹ ورک کے ساتھ ربط کے ذریعے ایک باہم منسلک پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی تشکیل کے ذریعے سعودی عرب کے پائیداری کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
ماحولیاتی فوائد کے علاوہ، میٹرو سے رہائشیوں اور کاروباری اداروں کے لیے رسائی اور آمدورفت میں بہتری کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے تعمیرات، آپریشنز اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ ٹرانزٹ مراکز کے اردگرد جائیداد کی قدروں میں بھی اضافہ ہوگا۔
سعودی ترقی کی علامت
ریاض میٹرو شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت کے مستقبل پر مرکوز ترقی کے عزم کا ثبوت ہے۔ جدید ترین بنیادی ڈھانچے کو شہری منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑ کر میٹرو نہ صرف ریاض کی آمدورفت کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ شہر کو خلیجی خطے میں جدت کے ایک نمونے کے طور پر بھی نمایاں کر رہی ہے۔



