ایران اور اسرائیل میں مکمل جنگ بندی، صدر ٹرمپ کا اہم اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیمطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی طے پا گئی ہے، جس سے 12 روزہ جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا اور دونوں ممالک کو استقامت و تدبر پر مبارکباد دی۔

راءِ ڏيو

ترجمو ٿي رهيو آهي… 0 / 3 اصل لکڻي پڙهو

Trump finalises a US-Pakistan trade deal, targeting energy collaboration and hinting at possible exports to India.. — FILE/THE THURSDAY TIMES
Trump finalises a US-Pakistan trade deal, targeting energy collaboration and hinting at possible exports to India.. — FILE/THE THURSDAY TIMES

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے دنیا بھر کو مبارکباد دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور حتمی جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے، جس کے بعد 12 دن سے جاری جنگ کا باضابطہ اختتام ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل چھ گھنٹے کے اندر اندر شروع ہوگا، جب دونوں ممالک اپنی جاری کارروائیاں مکمل کرلیں گے۔ جنگ بندی ابتدائی طور پر 12 گھنٹوں تک جاری رہے گی، جس کے بعد ایران اور اسرائیل دونوں باقاعدہ طور پر فائر بندی کا آغاز کریں گے۔ 24 گھنٹے بعد دنیا بھر میں اس جنگ کے خاتمے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین پُرامن اور باعزت رویہ اپنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور ان کے مطابق ایسا ہی ہوگا تو یہ نہ صرف ایک بڑی عسکری فتح بلکہ ایک سفارتی کامیابی بھی ہوگی۔

انہوں نے ایران اور اسرائیل دونوں کو مبارکباد دی کہ انہوں نے استقامت، جرأت اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جنگ کا خاتمہ کیا، جسے اب “12 روزہ جنگ” کے طور پر جانا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک ایسا تنازع تھا جو برسوں تک چل سکتا تھا اور پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتا تھا، لیکن ایسا نہ ہوا — اور نہ ہی ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا خدا اسرائیل کو سلامت رکھے، خدا ایران کو سلامت رکھے، خدا مشرقِ وسطیٰ کو سلامت رکھے، خدا امریکہ کو سلامت رکھے، اور خدا پوری دنیا کو سلامت رکھے۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

تھرسڈے ٹائمز شائع کرتا ہے Thursday Media International