حماس نے ٹرمپ امن منصوبے کی مشروط منظوری دیدی

حماس نے صدر ٹرمپ کی امن تجویز پر مشروط رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد فلسطینی ادارے کو منتقل کرنے پر تیار ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تعین قومی اتفاق رائے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

Hamas conditionally accepts a US peace plan offering prisoner releases and a handover of Gaza administration while tying Palestinian rights to wider national consensus and international law.. — FILE
Hamas conditionally accepts a US peace plan offering prisoner releases and a handover of Gaza administration while tying Palestinian rights to wider national consensus and international law.. — FILE
Listen to this articleحماس نے ٹرمپ امن منصوبے کی مشروط منظوری دیدی2 min · device voice0:00 / 1:50

غزہ (تھرسڈے ٹائمز) — حماس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر مشروط اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے، قیدیوں کے تبادلے، امداد کی فوری فراہمی، قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی مخالفت پر مبنی تجاویز کی حمایت کرتی ہے۔

یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا کہ حماس کے ساتھ ایک معاہدہ اتوار شام 6 بجے (واشنگٹن ڈی سی وقت) تک طے پانا چاہیے، ورنہ “ایسی تباہی برپا ہوجائے گی جو کبھی دیکھی نہ گئی” اور مشرق وسطیٰ میں کسی بھی صورت میں امن کو یقینی بنایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کو، خواہ زندہ ہوں یا جاں بحق، صدر ٹرمپ کے تجویز کردہ تبادلے کے فارمولے کے مطابق رہا کرنے پر تیار ہے، بشرطیکہ اس کے لیے میدانی شرائط پوری ہوں۔ اس سلسلے میں حماس نے ثالثوں کے ذریعے فوری مذاکرات پر آمادگی بھی ظاہر کی۔

مزید کہا گیا ہے کہ حماس غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کی منظوری دیتی ہے، جو قومی اتفاق رائے پر مبنی ہو اور عرب و اسلامی حمایت سے تشکیل پائے۔

بیان کے مطابق غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق سے متعلق امور ایک اجتماعی قومی مؤقف اور متعلقہ بین الاقوامی قوانین و قراردادوں کے تحت طے پانے چاہئیں۔ حماس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس قومی فریم ورک کا حصہ بنے گی اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے گی۔

TT Foreign Desk

World news from The Thursday Times' foreign desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media