نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — الیکشن کمیشن آف انڈیا ملکی تاریخ میں ووٹر فہرستوں کی سب سے بڑی نظرثانی کر رہا ہے، اور اس دوران لاکھوں بھارتی شہری یہ ثابت کرنے کی دوڑ میں ہیں کہ ان کا ووٹ دینے کا حق برقرار ہے۔ ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریبوں، خواتین اور مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔ اے ایف پی نے بدھ کو یہ رپورٹ دی۔
خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹروں کو خود کو، براہِ راست یا والدین یا دادا دادی/نانا نانی کے ذریعے، 2002-03 کی انتخابی فہرستوں سے جوڑنا ہوگا، جو اس نوعیت کی آخری نظرثانی تھی۔ بھارتی میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدالتی دستاویزات میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک فہرستوں سے 13 کروڑ 30 لاکھ سے زائد نام خارج کیے جا چکے ہیں، جن میں 2 کروڑ 80 لاکھ ایسے نام شامل ہیں جنہیں مردہ قرار دیا گیا۔
صرف دہلی میں 31 اگست کو شائع ہونے والی مسودہ فہرست میں دارالحکومت کے 1 کروڑ 45 لاکھ ووٹروں میں سے تقریباً 47 لاکھ کے نام خارج ہو گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ منتقل ہو چکے تھے یا نہیں مل سکے، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 82 ہزار فوت ہو چکے تھے اور 1 لاکھ 41 ہزار ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ تھے۔
کمیشن، جو ایک آئینی ادارہ ہے، کسی بے ضابطگی کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نظرثانی قانون کے مطابق ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس کی بھرپور حمایت کرتی ہے، اور طویل عرصے سے یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ بنگلہ دیش سے آنے والے بے دستاویز تارکینِ وطن، بالخصوص مسلمان، دھوکہ دہی سے ووٹر فہرستوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ نئی دہلی میں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ بی جے پی کے حق میں ووٹروں کی ساخت بدل رہا ہے، جبکہ اپوزیشن کے انڈیا اتحاد نے کمیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
ثبوت کا بوجھ
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست سے ووٹر پر منتقل ہو گئی ہے۔ دہلی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی 39 سالہ لاڈلی خاتون 2002-03 میں ووٹ دینے کے لیے بہت کم عمر تھیں، اور اب انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے والدین یا دادا دادی/نانا نانی ان فہرستوں میں شامل تھے۔ ان کے والدین اس وقت فوت ہو گئے تھے جب وہ شیر خوار تھیں۔
سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا نے اے ایف پی کو بتایا کہ کمیشن اس سے پہلے گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کرتا رہا ہے، اور باقاعدہ کارروائی کے بعد لوگوں سے اپنی اہلیت دوبارہ ثابت کرانا کبھی مقصد نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا: “ایسا کبھی نہیں تھا کہ آپ لوگوں سے یکمشت کہیں کہ وہ اپنی اہلیت نئے سرے سے ثابت کریں۔”
سورج مکھی، جو ایک بے دخلی مہم میں دہلی میں اپنے گھر سے محروم ہو گئیں، کو مسودہ فہرستوں سے خارج کر دیا گیا اور “لاپتہ” کا نشان لگا دیا گیا۔ وہ 2002 میں اندراج شدہ نہیں تھیں اور ان کے والدین وفات پا چکے ہیں، تاہم حکام نے بعد میں انہیں ووٹر کے طور پر درج کیا تھا۔ دہلی کے ایک مضافاتی علاقے میں، جہاں محنت کش طبقے کے بہت سے مہاجرین آباد ہیں، بوتھ لیول افسر مکیش کھنہ نے کہا کہ جو لوگ تعلیم یافتہ نہیں یا ٹیکنالوجی سے مانوس نہیں، ان کے لیے خود کو 2002 کی فہرستوں سے جوڑنا مشکل تھا۔
کن کی نشاندہی ہوتی ہے
خودکار نظاموں نے “منطقی تضادات” کی بنیاد پر، مثلاً ناموں میں عدم مطابقت یا خاندانی تفصیلات میں عدم مطابقت کے باعث، لاکھوں ووٹروں کی مزید جانچ کے لیے نشاندہی کی ہے۔ اخبار دی ہندو کے ایک تجزیے کے مطابق، دارالحکومت میں نشاندہی کیے گئے 19 لاکھ 30 ہزار ووٹروں میں مسلمانوں کا حصہ 20.3 فیصد تھا، جبکہ دہلی کے رائے دہندگان میں ان کا تناسب 13.6 فیصد ہے۔ کولکتہ میں قائم سبر انسٹی ٹیوٹ نے مغربی بنگال میں اس سے بھی زیادہ فرق پایا۔
42 سالہ شاہدہ، جو سڑکوں پر صفائی کا کام کرتی ہیں، کو نوٹس اس لیے ملا کہ سافٹ ویئر نے ان کی اور ان کی والدہ کی عمروں کے فرق کو مشکوک قرار دیا؛ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس زمانے میں غریبوں میں کم عمری کی شادی عام تھی۔ 24 سالہ اسلم، جو قومی سطح کے رگبی کھلاڑی اور اداکار ہیں اور صرف ایک نام استعمال کرتے ہیں، کی نشاندہی اس لیے ہوئی کہ ان کے مرحوم والد سے چھ دیگر افراد منسلک تھے۔ چھ بہن بھائیوں والے اس مسلمان نوجوان نے اے ایف پی سے کہا: “یہ واضح طور پر ان ووٹروں کو نشانہ بنانے کے لیے ہے جو بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے۔”
شفافیت کے لیے سرگرم کارکن انجلی بھردواج نے کہا کہ خواتین، اقلیتیں، پسماندہ طبقات اور غریب ترین لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ان سے مطلوبہ دستاویزات پیش کرنا ان کے لیے سب سے زیادہ مشکل ہے۔
آگے کیا ہوگا، اس کا خوف
بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے نام خارج ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی شخص غیر ملکی ہے۔ تاہم بھارتی ذرائع ابلاغ نے مغربی بنگال میں ایسے واقعات رپورٹ کیے ہیں جن میں فہرستوں سے خارج کیے گئے ووٹروں پر بنگلہ دیشی تارکینِ وطن ہونے کا الزام لگایا گیا، انہیں حراست میں لیا گیا اور بعض صورتوں میں سرحد پار دھکیل دیا گیا۔ لاڈلی خاتون کو خدشہ ہے کہ انہیں بھی یہی انجام بھگتنا پڑ سکتا ہے۔∎



