لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے، NCCIA) نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کر لیا ہے جو امریکا میں جعلی ڈاک ٹکٹوں کی اسکیم کے سلسلے میں مطلوب تھا۔ استغاثہ کے مطابق اس اسکیم سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ، یعنی تقریباً 35 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
پنجاب کے شہر خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ فہیم اکرم پر الزام ہے کہ وہ LabelsBank.com چلا رہے تھے، جو امریکی ڈاک کے جعلی لیبل فروخت کرنے والی ویب سائٹ تھی۔ این سی سی آئی اے کے مطابق وہ “2023 سے دھوکا دہی پر مبنی ویب سائٹ کے ذریعے جعلی ٹکٹ فروخت کر رہے تھے”۔
فی لیبل 2 ڈالر
فلوریڈا میں گزشتہ ماہ جاری ہونے والی وفاقی فرد جرم کے مطابق اس ویب سائٹ نے 5,000 سے زائد صارفین کو جعلی شپنگ لیبل کے 51 لاکھ سے زیادہ یونٹ فروخت کیے۔ پارسل کا وزن، حجم یا منزل کچھ بھی ہو، ان لیبلوں کی قیمت عموماً تقریباً 2 ڈالر فی لیبل رکھی جاتی تھی، جو اصل ڈاک خرچ کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے پوسٹل سروس کو آمدنی اور شپنگ لاگت کی مد میں 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔
اکرم پر سازش کا ایک الزام، جعلی ڈاک لیبل بنانے اور فروخت کرنے کے پانچ الزامات اور وائر فراڈ کے چار الزامات ہیں۔ جرم ثابت ہونے تک انہیں بے گناہ تصور کیا جائے گا۔ امریکی پوسٹل انسپکشن سروس نے ان کے لیے مطلوب شخص کا نوٹس جاری کیا تھا اور ان کی گرفتاری اور سزا کا باعث بننے والی معلومات پر 100,000 ڈالر تک انعام کی پیشکش کی تھی۔
دس روزہ تلاش
این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اکرم کو 10 روزہ “خصوصی لوکیٹر آپریشن” کے بعد پکڑا گیا، جس کے دوران تفتیش کاروں نے 47 افراد سے پوچھ گچھ کی اور 122 کالز کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا۔ ایجنسی کے مطابق ان کے خاندان کے 16 بینک اکاؤنٹس، جن میں ان کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکاؤنٹس شامل ہیں، اس اسکیم کی رقم منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوئے۔
ایجنسی نے کہا، “مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں”، اور مزید کہا کہ سائبر جرائم اور ڈیجیٹل فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف اس کی “زیرو ٹالرنس پالیسی” ہے۔
این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے ادارے کے لاہور دفتر کے سینئر افسران کے ساتھ اس کارروائی کا جائزہ لیا اور ان کے کام کو سراہتے ہوئے انہیں سائبر مجرموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو مالی فراڈ، آن لائن دھوکا دہی اور دیگر سائبر جرائم سے بچانا ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اکرم کو امریکا کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں۔∎



