تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران اور مکہ معاہدے کے تین ممالک کے درمیان مذاکرات پیر کی دوپہر تہران میں شروع ہو گئے، جن میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن ایرانی قیادت سے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ خطے میں جنگ کی واپسی کو روکا جا سکے۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (IRIB) کے مطابق عاصم منیر دوپہر کے اوائل میں ایرانی دارالحکومت پہنچے، جبکہ مہر نیوز ایجنسی نے بتایا کہ چار فریقی ملاقات شروع ہونے سے پہلے پاکستانی اور ترک سکیورٹی سربراہان دونوں تہران پہنچ چکے تھے۔ شہزادہ خالد وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس کی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات طے تھی۔ جیسا کہ تھرسڈے ٹائمز نے پیر کو اس سے پہلے رپورٹ کیا، ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ملاقات پاکستان کی پہل پر طے پائی، جب گزشتہ ہفتے عاصم منیر تہران کے دورے پر تھے۔
پیر کی شام تک مذاکرات کی کوئی سرکاری روداد جاری نہیں کی گئی تھی۔
ریاض: “خطے میں فوجی کشیدگی کو دوبارہ بڑھنے سے روکا جائے”
سعودی وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اس دورے کا مقصد “مکالمے اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی” ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ “خطے میں فوجی کشیدگی کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے” کے لیے “مذاکرات کے راستے” کھولنا ضروری ہے۔ بیان کے مطابق یہ دورہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور “سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے میں مکہ معاہدے کے ممالک کے کلیدی کردار” کی دوبارہ توثیق کرتا ہے۔
تہران میں ایک نامعلوم ذریعے نے دی نیشنل کو بتایا کہ شہزادہ خالد “واضح اختیار” کے ساتھ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان دونوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، اور ریاض ایران کو یمن کی جنگ ختم کرانے کے لیے کلیدی سمجھتا ہے۔ اگست میں معاہدے پر دستخط کے بعد معاہدے کے رکن ممالک کے سینئر عہدیداروں اور ایران کے درمیان یہ پہلا براہ راست رابطہ ہے۔
تہران: “ایک اہم پیش رفت”
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس ملاقات کو “علاقائی سفارت کاری کی تشکیل میں ایک اہم پیش رفت” قرار دیا اور کہا کہ یہ “علاقائی سلامتی کے طریقۂ کار پر غور و خوض اور تعاون کی جانب ایک عملی قدم ہے”۔ یہ بات دی نیشنل نے رپورٹ کی۔ پریس ٹی وی کے مطابق انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات “مشترکہ علاقائی سلامتی کے مفادات” سے متعلق تھے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا کہ مہمان علاقائی سلامتی پر رضائی سے مشاورت کے لیے آئے تھے، اور اس میں شریک ممالک ایران کے ساتھ مل کر خطے میں “اندرونی طور پر ابھرنے والی سلامتی کے قیام کی جانب ایک مؤثر قدم” اٹھا سکتے ہیں۔ یہ بات مہر نے رپورٹ کی۔ انہوں نے کہا کہ منیر نے گزشتہ ہفتے تہران میں رضائی سے ملاقات کے بعد مشترکہ دورے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان اور قطر کا رابطہ چینل
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور قطر تہران اور واشنگٹن کے درمیان واحد فعال رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ان دونوں ممالک کے ذریعے جاری ہیں، دی نیشنل نے یہ رپورٹ کیا، جبکہ اتوار کو ایک قطری وفد تہران میں موجود تھا۔
پیش رفت کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکا نے سعودی عرب سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلا لیا ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے یا دوبارہ تصادم کے حوالے سے “فیصلے کا وقت آتا جا رہا ہے”، سیمافور نے یہ رپورٹ کیا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملوں کا حکم نہیں دیں گے۔
مملکت پر حوثی حملے
یہ مذاکرات ایران اور سعودی عرب کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہیں، جو یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے گزشتہ ماہ سعودی اہداف پر حملے تیز کرنے کے بعد ہوا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں پر مہلک حملے بھی شامل تھے جن سے فضائی سفر متاثر ہوا اور مملکت میں تقریبات منسوخ کرنا پڑیں۔ اس ماہ کے آغاز میں معاہدے کی کمیٹی نے ان حملوں کے جواب میں اجتماعی بازدارندگی کے اقدامات فعال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
دی نیو عرب کے مطابق ملاقات شروع ہوتے ہی منڈیوں کا ردعمل محتاط رہا اور برینٹ خام تیل کی قیمت گر کر 114.82 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ قاہرہ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے "زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل اور سفارتی حل" پر زور دیا اور آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرنے والی بحری آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔



