اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ حکومت اس قاعدے کو ختم کرنے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت کسی گھرانے کا استعمال ایک مہینے میں 200 یونٹ سے صرف ایک یونٹ بھی بڑھ جائے تو اسے چھ ماہ تک بجلی کے زیادہ نرخ ادا کرنا پڑتے ہیں، اور اس حد کو بڑھا کر 250 یونٹ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
لغاری پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دے رہے تھے، جنہوں نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے وصول کردہ ٹیرف پر اپنی ہی جماعت کی حکومت پر تنقید کی۔ شیر علی نے سوال کیا کہ 201 یونٹ استعمال کرنے والا صارف 400 یونٹ کے سلیب کے نرخ پر بل کیسے ادا کر سکتا ہے، اور کہا کہ اس نظام کی سب سے زیادہ مار کم آمدنی والے گھرانوں پر پڑتی ہے۔
لغاری نے کہا کہ اس وقت تقریباً 2 کروڑ صارفین ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس زمرے میں شامل ہر صارف کو رعایت دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ کچھ گھرانے گرڈ پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے بقول اس کے بجائے ریلیف کا ہدف غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے صارفین ہوں گے۔
مسابقتی بجلی مارکیٹ
اسلام آباد میں نیشنل انرجی سمٹ 2026 سے الگ خطاب کرتے ہوئے لغاری نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی مسابقتی مارکیٹ متعارف کرا دی ہے اور اب خود مزید بجلی نہیں خریدے گی۔ ان کے مطابق ایک میگاواٹ تک لوڈ رکھنے والے صارفین براہ راست بجلی خرید سکیں گے، اور مارکیٹ کے لیے تجاویز کی پہلی درخواست جاری کی جا چکی ہے۔
وزیر نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے تقریباً 400 میگاواٹ ٹرانسمیشن گرڈ پر منتقل کیے جائیں گے، جبکہ وہیلنگ چارجز 28 روپے سے کم کر کے تقریباً 11 سے 12 روپے فی یونٹ کر دیے گئے ہیں۔



