اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان اور چین نے سوست-خنجراب سرحد پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کے لیے گرین چینل قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے درمیان اس بلند پہاڑی گزرگاہ پر اہل کھیپوں کو ترجیحی کلیئرنس ملے گی۔
معاہدے پر جمعرات کو دونوں ممالک کی کسٹمز انتظامیہ نے آن لائن دستخط کیے، جس میں پاکستانی فریق اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایف بی آر (FBR) میں موجود تھا۔ ممبر کسٹمز (آپریشنز) سید شکیل شاہ نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، جبکہ چین کی نمائندگی ارومچی کسٹمز کے ڈپٹی ہیڈ اور تاشقرغان کسٹمز کے ڈائریکٹر لی چنگ ہوا نے کی۔
گرین چینل کیسے کام کرے گا
ایک سرکاری اعلان کے مطابق اس انتظام کے تحت زرعی مصنوعات کی ایک طے شدہ فہرست کو ترجیحی بنیادوں پر پروسیسنگ اور معائنے کی سہولت ملے گی، جبکہ کسٹمز خطرات کی بنیاد پر کنٹرول برقرار رکھے گا۔ سرحد پر تاخیر کم کرنے کے لیے جلد خراب ہونے والی کھیپوں کو سب سے پہلے نمٹایا جائے گا۔
دونوں کسٹمز ادارے رابطہ کاری اور سرحد پار تجارت کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے معلومات کا مزید تبادلہ کریں گے اور خطرات سے متعلق انتباہات بھی ایک دوسرے کو فراہم کریں گے۔
پاکستانی وفد میں پشاور کے چیف کلیکٹر کسٹمز، گلگت بلتستان کے کلیکٹر کسٹمز، محکمہ تحفظِ نباتات، این اے ایف ایس اے (NAFSA)، پاکستان سنگل ونڈو اور وزارتِ تجارت کے حکام، اور بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے کمرشل قونصلر شامل تھے۔
دنیا کی بلند ترین پختہ سرحد
قراقرم ہائی وے پر سطحِ سمندر سے 4,600 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع خنجراب دنیا کی بلند ترین پختہ بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ اور چین کے ساتھ پاکستان کا واحد زمینی تجارتی راستہ ہے۔ سردیوں میں شدید برف باری کے باعث اس درے سے آمد و رفت روایتی طور پر متاثر ہوتی رہی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کسٹمز نے گزشتہ سال خنجراب کے راستے چین سے درآمدات پر ریکارڈ 15 ارب روپے وصول کیے، جبکہ اس گزرگاہ کے ذریعے 2.8 ارب روپے مالیت کی اشیا چین اور وسطی ایشیا کو برآمد کی گئیں۔



