کراچی (تھرسڈے ٹائمز) — بھٹک کر بھارتی پانیوں میں جانے کے بعد چار سے نو سال تک بھارتی جیلوں میں رہنے والے گیارہ پاکستانی ماہی گیر جمعہ کو کراچی میں میری ویدر ٹاور کے قریب ایدھی سینٹر میں جذباتی مناظر کے دوران اپنے خاندانوں سے مل گئے۔
ڈان کے مطابق بھارتی حکام نے تقریباً دو ماہ قبل ان افراد کو واہگہ بارڈر پر حوالے کیا تھا۔ ایدھی فاؤنڈیشن انہیں ایمبولینس کے ذریعے لاہور سے کراچی لائی، اور وہ صبح ساڑھے 11 بجے پہنچے جہاں ان کے اہلِ خانہ صبح سے انتظار کر رہے تھے۔
بھارتی جیل میں آٹھ سال گزارنے والے مچھر کالونی کے کمال حسن بنگالی پہلی بار اپنی آٹھ سالہ بھتیجی سے ملے۔ جس دن بھارتی کوسٹ گارڈ نے ان کی کشتی پکڑی اسی دن ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا، اور انہیں اس کا علم تین سال بعد ان تک پہنچنے والے ایک خط سے ہوا۔ کمال نے بتایا کہ انجن خراب ہونے کے بعد کشتی بھٹک کر بھارتی پانیوں میں چلی گئی تھی۔
اسی کشتی پر سوار نور نبی بنگالی نے بتایا کہ قیدیوں کو اکثر خراب کھانا دیا جاتا تھا۔ شاہ بندر کے 60 سالہ کھمیسو صدیق ملاح نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً چار سال قید میں گزارے اور اب وہ دوبارہ مچھلی نہیں پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا، ”میں مزدور بن جاؤں گا، لیکن میں کبھی سمندر میں واپس نہیں جاؤں گا۔“ نو سال قید رہنے والے کورنگی کے عبدالرحمٰن نے کہا کہ انہیں اب اپنی کشتی کا نام بھی یاد نہیں۔
دونوں ممالک کے ماہی گیر بحیرۂ عرب میں ناقص طور پر نشان زدہ سمندری حد عبور کرنے پر اکثر گرفتار ہو جاتے ہیں، اور اپنی سزا پوری ہونے کے بعد بھی برسوں جیل میں رہتے ہیں جب تک ان کی شہریت کی تصدیق نہ ہو جائے اور سفارتی ذرائع سے رہائی کا انتظام نہ ہو جائے۔



