باجوڑ (تھرسڈے ٹائمز) — حکام نے جمعہ کو بتایا کہ جمعرات کی رات گئے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں کے ایک پولیس چوکی پر حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔
حملے میں دور افتادہ تحصیل برنگ میں سلائی پٹی پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا، جس کی سرحد ضلع ملاکنڈ سے ملتی ہے۔ ضلعی پولیس کے ترجمان منصور خان نے بتایا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ نے چوکی پر فائرنگ کی اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بہادری سے جوابی کارروائی کی۔
ترجمان نے کہا کہ کانسٹیبل خائستہ مین سید نے بھرپور مزاحمت کے بعد جامِ شہادت نوش کیا، اور چوکی پر تعینات پولیس کے مؤثر جواب کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، ٹی ٹی پی (TTP)، کے دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔
شہید اہلکار کی نمازِ جنازہ خار میں پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں ڈپٹی کمشنر عدنان فرید آفریدی، ضلعی پولیس افسر خان زیب مہمند، پولیس افسران، عمائدین اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد ان کی میت تدفین کے لیے تحصیل برنگ میں ان کے آبائی علاقے روانہ کر دی گئی۔
کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایک روز قبل باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی صورتِ حال اور انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کے پیشِ نظر ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت 10 دن کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی تھی۔ صوبے میں بدستور ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ سکیورٹی فورسز شمال مغرب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔



