دبئی (تھرسڈے ٹائمز) — دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے کہا ہے کہ ایک سکیورٹی خلاف ورزی سے اندازاً 6.3 ارب ڈالر کا اثر پڑا ہے، جسے تجزیہ کاروں نے تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری قرار دیا ہے، اور چوری شدہ رقوم کا سراغ لگانے تک تمام ڈپازٹس اور رقوم نکالنے کا عمل معطل کر دیا ہے۔
ایکسچینج نے کہا کہ اس نے شراکت داروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثے منجمد کیے ہیں، اور اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔ شریک بانی یی ہی نے کہا کہ بائنانس ”ہیکنگ کے تمام نقصانات“ پورے کرے گی، اور کمپنی نے کہا کہ صارفین کی رقوم محفوظ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنیوں ٹیتھر اور سرکل نے اس واقعے سے منسلک بالترتیب تقریباً 1.57 ارب ڈالر اور 800 ملین ڈالر سے زیادہ منجمد کیے۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس خلاف ورزی کا آغاز بائنانس کے ایک انجینئر کے ہیک شدہ لیپ ٹاپ سے ہوا، جس کے ذریعے حملہ آور نے کمپنی کے ایک نظام تک رسائی حاصل کی اور غیر مجاز طور پر رقوم نکالیں۔ اے ایف پی (AFP) کے مطابق بلاک چین انٹیلی جنس کمپنی ٹی آر ایم (TRM) نے کہا کہ اسے ”پورا یقین“ ہے کہ اس کے پیچھے شمالی کوریا کا ہیکنگ یونٹ ٹریڈر ٹریٹر ہے۔ بائنانس نے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
مارکیٹوں میں گراوٹ
جمعہ کو ابتدائی ایشیائی کاروبار میں بٹ کوائن 3 فیصد سے زیادہ گر کر 76,368 ڈالر کی چھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، اور ایتھر 3 فیصد سے زیادہ کمی کے ساتھ 2,178 ڈالر پر آ گیا۔ بی این بی (BNB)، جو ابتدا میں بائنانس کوائن کے نام سے جاری کیا گیا ٹوکن ہے، 24 گھنٹوں میں 5 فیصد گرا، جبکہ امریکی توسیعی کاروبار میں کوائن بیس اور بٹ کوائن خریدنے والی کمپنی اسٹریٹیجی کے حصص گر گئے۔ کوائن بیس اور بائنانس ڈاٹ یو ایس نے کہا کہ وہ متاثر نہیں ہوئیں۔
کرپٹو مارکیٹ میکر جی ایس آر (GSR) کے اروند سری نواسن نے کہا، ”یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ ہے۔“ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سرمایہ کار مرکزی ایکسچینجز پر رکھے گئے اثاثوں کے تحفظ کا ازسرِنو جائزہ لے سکتے ہیں۔ بائنانس کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کے 33 کروڑ 50 لاکھ رجسٹرڈ صارفین ہیں اور اس کی تحویل میں تقریباً 162.8 ارب ڈالر کے اثاثے تھے۔



