اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — معاملے سے براہِ راست آگاہ افراد نے بتایا ہے کہ جمعہ کو آبنائے ہرمز کے قریب جس قطری ایل این جی (LNG) ٹینکر پر حملہ ہوا، وہ پاکستان کے لیے گیس لے جا رہا تھا اور اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایران نے اسے محض چند گھنٹے پہلے کلیئرنس دی تھی۔
ان افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم والا جہاز المیدا (Al Mayeda) قطری ایل این جی سے لدا ہوا تھا اور آبنائے کی جانب جا رہا تھا کہ اس پر فائرنگ کی گئی۔ یہ واضح نہیں کہ جہاز کو نشانہ کیوں بنایا گیا یا اس کے پیچھے کون تھا۔ جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق وہ بعد میں واپس خلیج میں مڑ گیا، اور یہ معلوم نہیں کہ وہ دوبارہ پاکستان پہنچنے کی کوشش کرے گا یا نہیں۔
جہاز کی مالک کمپنی قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی، جو ناکیلات (Nakilat) کے نام سے معروف ہے، نے اتوار کو تصدیق کی کہ جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور کہا کہ وہ بدستور قابلِ استعمال ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بھارت کے وزیرِ جہاز رانی سربانند سونووال نے ایکس (X) پر کہا کہ جہاز پر پروجیکٹائل حملہ ہوا اور عملے کے تمام 25 ارکان، جن میں چھ بھارتی شامل ہیں، محفوظ ہیں۔
ان افراد نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران قطری ایل این جی کی کئی دیگر کھیپوں کی سلامتی کے بارے میں ایرانی حکام سے بات کی، اور وہ سب خلیجِ عمان تک بخیریت پہنچ گئیں۔ تہران کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات اور ایران اور امریکا کے درمیان ثالث کے طور پر اس کے کردار نے اسے ایسے وقت میں کچھ کھیپیں جاری رکھنے میں مدد دی ہے جب ہرمز سے ایل این جی کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 30 فیصد پر چل رہی ہے۔
اس کھیپ کے ضائع ہونے سے ایسے ملک پر دباؤ مزید بڑھے گا جو جنگ کے باعث پہلے ہی توانائی کی قلت کا شکار ہے۔ پاکستان کو اس کی جگہ اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کرنا پڑ سکتی ہے، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح سے تین گنا سے زیادہ ہیں۔ قطر انرجی پہلے ہی کچھ پاکستانی خریداروں کو بتا چکی ہے کہ سال کے آخر تک ایل این جی کی توقع نہ رکھیں۔
پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم، قطر انرجی اور ایران کی وزارتِ خارجہ نے تبصرے کی درخواستوں پر فوری جواب نہیں دیا۔



