وانا (تھرسڈے ٹائمز) — لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اتوار کو جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے قریب سرحد پار سے، حکام کے بقول، بلااشتعال فائرنگ کے بعد افغان سرحدی چوکیوں اور مارٹر پوزیشنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں افغان طالبان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
ایکس (X) پر جاری بیان میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیتے ہوئے افغان سرحدی چوکیوں، مارٹر پوزیشنوں اور دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور فورسز کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایک ہفتے کی جھڑپوں کے بعد انگور اڈہ کے گرد کشیدگی کا یہ تازہ واقعہ ہے۔ ہفتے کے اوائل میں سرحد پار فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ فوج کے مطابق اس نے جواب میں افغان طالبان کی مزید چوکیاں تباہ کر دیں۔ پاکستان نے لڑائی سے متعلق کابل کے موقف کو بھی من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اتوار کو شائع ہونے والے بیان میں کہا کہ افغان طالبان وہ "سزا" برداشت نہیں کر سکتے جو پاکستان انہیں دے سکتا ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ طالبان ان دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔



