اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو کہا ہے کہ ملک کی آئل ریفائنریوں کے تعاون سے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 15 روپے تک کمی ہو سکتی ہے، اور حکومت اس معاملے پر بات چیت کے لیے منگل کو ریفائنری مالکان سے ملاقات کرے گی۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کچھ ریلیف پیر کو بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کمی کی مقدار یا نئی قیمت نہیں بتائی۔ پیٹرول کی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا: "پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ جمعہ سے نافذ ہونا تھا، لیکن آئل ریفائنریوں نے 15 ارب روپے کا مالی بوجھ بانٹ کر صارفین پر اس کا اثر مؤخر کرنے میں حکومت سے تعاون کیا۔" عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اضافہ وزیر اعظم کی سخت ہدایت پر روکا گیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے ٹینڈرز پر پریمیم بڑھ گئے ہیں، جبکہ ریفائنریوں نے گزشتہ تین ماہ میں گزشتہ کئی برسوں سے زیادہ کمایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ان سے کہا تھا کہ مشکل وقت میں تعاون کریں۔ "ایک بہت بڑا خام تیل بردار جہاز جو کبھی چند لاکھ ڈالر میں مل جاتا تھا، اب دس لاکھ ڈالر میں بھی مشکل سے ملتا ہے،" انہوں نے کہا اور بتایا کہ انشورنس کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
ایندھن ریلیف پیکیج
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم کے ایندھن ریلیف پیکیج سے اب تک ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں، اور موٹر سائیکل سواروں، رکشہ مالکان اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو 27 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیکیج جاری رہے گا۔
دونوں وزراء نے اس دباؤ کو خطے کی جنگ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ توانائی کی قیمتوں، انشورنس، لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کا معاملہ مفاہمت اور مذاکرات کی طرف بڑھے گا۔
معاہدے میں ریفائنریوں کے کردار پر اختلاف ہے۔ حکومت نے 30 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمتوں کا طریقہ کار تبدیل کیا تھا، اور اٹک ریفائنری کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ریفائنریوں کو تقریباً 49 روپے فی لیٹر نقصان ہو سکتا ہے اور 5 سے 6 ارب ڈالر کے مجوزہ اپ گریڈ منصوبے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔



