اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزارتِ خزانہ کی ایک دستاویز کے مطابق جون 2026 تک کے دو برسوں میں سندھ کے غیر ملکی قرضوں میں 1.84 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 49 فیصد اضافہ ہوا، جو کسی بھی صوبے میں سب سے تیز اضافہ ہے۔
صوبے کے واجب الادا غیر ملکی قرضے جون 2024 میں 3.78 ارب ڈالر تھے جو بڑھ کر 5.62 ارب ڈالر ہو گئے۔ تمام صوبائی اور علاقائی حکومتوں کے قرضوں میں مجموعی طور پر 2.82 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کا تقریباً 65 فیصد سندھ کا حصہ ہے۔ ان حکومتوں کے مجموعی غیر ملکی قرضے 15.63 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
پنجاب اب بھی سب سے زیادہ مقروض ہے، تاہم اس کے قرضوں میں اضافے کی رفتار کہیں سست رہی اور وہ تقریباً 6 فیصد بڑھ کر 6.40 ارب ڈالر ہو گئے۔ دونوں صوبوں کے درمیان فرق کم ہو کر 800 ملین ڈالر سے بھی کم رہ گیا ہے، اور تمام صوبائی غیر ملکی قرضوں میں سندھ کا حصہ اب تقریباً 36 فیصد ہے، جو دو سال پہلے تقریباً 30 فیصد تھا۔
خیبر پختونخوا کے غیر ملکی قرضے 25 فیصد بڑھ کر 2.97 ارب ڈالر ہو گئے۔ بلوچستان کے قرضے 33 ملین ڈالر بڑھ کر 390 ملین ڈالر اور گلگت بلتستان کے 7 ملین ڈالر بڑھ کر 69 ملین ڈالر ہو گئے۔ آزاد جموں و کشمیر واحد خطہ رہا جس نے اپنے غیر ملکی قرضے کم کیے، جو 29 ملین ڈالر کمی کے بعد 180 ملین ڈالر رہ گئے۔



