اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپوں میں گرفتار ہونے والے غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ بند کرنے اور ان کے خلاف پاکستانی قانون کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ایجنسی کے حکام نے بتایا۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت گرفتار افراد کے خلاف پہلے پاکستانی عدالتوں میں مقدمہ چلے گا، اور جو بھی مجرم قرار پائے گا وہ وطن واپس بھیجے جانے سے پہلے مقامی جیل میں اپنی سزا کاٹے گا۔
اب تک ایسے مراکز سے پکڑے جانے والے غیر ملکی شہریوں کو "ناپسندیدہ افراد" قرار دے کر پاکستان میں کوئی سزا کاٹے بغیر ملک بدر کر دیا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ملک بدر کیے جانے والوں میں سب سے بڑی تعداد چینی شہریوں کی تھی، جبکہ ان مراکز کو چلانے میں ملوث افراد میں انڈونیشیا اور ویتنام کے شہری بھی شامل تھے۔
ایجنسی نے گزشتہ ماہ سات غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مارے اور 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔ ذرائع کے مطابق اس بار ایجنسی نے ملزمان کو ملک بدر کرنے کے بجائے ان کے خلاف چالان تیار کیے اور انہیں جیل بھیج دیا۔



