دمشق (تھرسڈے ٹائمز) — شام کے وزیرِ دفاع میجر جنرل مرہف ابو قصرہ نے پاکستان کے ملٹری اتاشی بریگیڈیئر عرفان مقبول احمد سے ملاقات کی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی عسکری تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ یہ بات شام کی وزارتِ دفاع نے بتائی۔
وزارت نے منگل کو بتایا کہ دونوں فریقوں نے مشترکہ تعاون کے امکانات اور "مختلف شعبوں" میں عسکری تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ بریگیڈیئر احمد، جو دمشق اور بغداد دونوں میں پاکستان کے ملٹری اتاشی ہیں، ایک وفد کے ہمراہ ملاقات میں شریک ہوئے، جبکہ شام کے متعدد افسران بھی موجود تھے۔ وزارت نے بات چیت کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز پہلے شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا تھا کہ دمشق مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو باہم جوڑتا ہے۔ ہفتے کو بحرین میں ایک سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "مکہ اتحاد میں شام کے داخلے کا جائزہ لینے کے لیے اس وقت بات چیت جاری ہے۔"
7 اگست کو دستخط ہونے والے اس معاہدے کے تحت کسی بھی رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے عسکری ترجمان کہہ چکے ہیں کہ معاہدے کے الفاظ نئے اراکین کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ شام کے بیان میں اس معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔



