اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع شاہ اللہ دتہ کے بدھ غاروں میں تحفظ کے منصوبے کا بدھ کو باضابطہ افتتاح کر دیا گیا، اور حکام کو امید ہے کہ یہ مقام خاندانوں اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچے گا۔
سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے منصوبے کا افتتاح کیا، جس کی تقریب میں بدھ ممالک کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ حکومت پاکستان بھر میں بدھ مقامات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے کہا کہ وہ ملک اور بیرون ملک ان غاروں کو متعارف کرائے۔
ان غاروں کو عام طور پر تقریباً 2,400 سال پرانا بتایا جاتا ہے، تاہم وہاں ملنے والے کچھ آثار کو آٹھویں صدی کا بھی قرار دیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ سب سے پہلے بدھ راہبوں نے انہیں مراقبے کے لیے استعمال کیا، ان کے بعد ہندو سادھوؤں نے اور پھر مغل دور میں مسلمان صوفیوں نے۔ دیواروں پر بدھ کی شبیہیں موجود ہیں، اور قریبی گاؤں کا نام مغل دور کے ایک درویش کے نام پر ہے جن کا مزار یہیں ہے۔
یہ غار اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 سے متصل شاہ اللہ دتہ گاؤں کے پاس ہیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ یہاں تک بہتر اور زیادہ سیدھی سڑک کی ضرورت ہے اور وزیر سے کہا کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ تقریب کی تفصیلات میں منصوبے کی لاگت، اوقات کار یا کسی داخلہ فیس کا ذکر نہیں تھا، اس لیے جانے سے پہلے معلوم کر لیں۔
تحفظ کے منصوبوں کی کہانی پرانی ہے: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اکتوبر 2010 میں ان غاروں اور ساتھ کے باغ، جسے سادھو کا باغ کہا جاتا ہے، کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی۔



