Political

Pakistan ready to host and facilitate US-Iran talks in coming days, says Ishaq Dar

Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.

پاکستان آئندہ چند روز میں امریکا ایران مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے، اسحاق ڈار

امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس کو عہدے سے برطرف کرنے کا ریفرنس دائر

ریفرنس کے مطابق چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اپنی مرضی کا فیصلہ اکثریت کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے ایک متنازع بینچ تشکیل دیا۔

چیف جسٹس کا انتخابات از خود نوٹس کیس 4/3 سے مسترد ہوا، جسٹس اطہر من اللہ

چیف جسٹس کا انتخابات ازخود نوٹس کیس 4/3 سے مسترد ہوگیا میں نے نہ سماعت سے معذرت کی اور نہ ہی بینچ سے الگ ہوا، جسٹس اطہر من اللہ

چند ججز جرنیلوں اور میڈیا ٹائیکون نے مل کر پاکستان کیخلاف سازش اور چین سے دور کرنے کی کوشش کی، ابصار عالم

جب میں پیمرا کا چیئرمین تھا تو کچھ جرنیلوں اور ججز نے پاکستان کے خلاف سازش تیار کی اور یہ سازش پاکستان کو چین سے دور کرنے کیلئے تھی، یہ پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل کرنے کیلئے تھی، یہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے تھی۔

تین رکنی بنچ کا فیصلہ آئین اور قانون کیساتھ سنگین مذاق اور کھلواڑ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

تین رکنی بنچ نے جس طرح آئین قانون کیساتھ کھلواڑ کیا ایسا بھیانک منظر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، وزیراعظم شہباز شریف

چیف جسٹس صاحب آپ اسوقت جذباتی کیوں نہیں ہوئے جب قوم کی ایک بیٹی کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا گیا، مریم نواز

جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے۔ آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا، اقامے پر سزا دی، بیٹی کو باپ کا ساتھ دینے پر موت کی چکیوں میں ڈالا، رانا ثناء اللّٰہ پر منشیات اسمگلنگ کیس ڈالا گیا، طلال چودھری پر ظلم و جبر کیا گیا۔

تین رکنی بنچ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے، نواز شریف

چیف جسٹس وزیراعظم بھی بن چکا ہے، وزیرِ داخلہ بھی بن چکا ہے، وزیرِ دفاع بھی بن چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر بھی بن چکا ہے، پارلیمنٹ بھی بن چکا ہے۔ ایک لاڈلے کیلئے ریاست کو مفلوج کر کے سب کچھ تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے، پاکستان دردناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ اس سہولتکاری کو آہنی ہاتھوں سے روک دے، مریم نواز

جو کام 2018 میں جنرل فیض، جسٹس کھوسہ اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے انجام دیا تھا، وہ ذمہ داری اب اس موجودہ بنچ نے اٹھا لی ہے۔

تحریک انصاف حکومت کے بیشتر معاملات جنرل فیض اور جنرل آصف غفور چلاتے تھے، ندیم افضل چن

عمران خان کے دورِ حکومت میں بیشتر حکومتی معاملات اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور چلاتے تھے، عمران خان انھی دو لوگوں پر انحصار کرتے تھے کیونکہ یہ عمران خان کیلئے آنکھ اور کان تھے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب کے خلاف ریفرنس بھجوانے پر غور کیا جارہا ہے، رانا ثنااللہ

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں موجود چیف جسٹس عمر عطا بندیال  جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کے خلاف ریفرنس بھجوانے پر غور کیا جارہا ہے۔

ہمیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں، حکمران اتحاد

وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

فل کورٹ تشکیل دیا جائے، نہ تین رکنی بنچ قبول ہے اور نہ ہی انکا فیصلہ، میاں نواز شریف

عدالتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ مجھے 2017 کا تسلسل لگتا ہے کیونکہ 2017 میں ایسا ہی ایک بینچ بنا تھا جس نے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا تھا۔ قوم آنکھیں کھولے، قوم کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہو رہا ہے۔

پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہی موصول ہو چکا تھا، سینئر صحافی

نواز شریف کی نااہلی سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول ہو چکا تھا۔ یہ فیصلے غیر سیاسی ذرائع سے معلوم ہوئے تھے اور اس سے ان ججز کی شفافیت، ان کی عدالت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کھل کر سامنے آ چکے ہیں جو انصاف کے تقاضوں کے منافی اور نامناسب چیز تھی اور یہ ایک فکسڈ ارینجمنٹ تھی۔
error: