موجودہ حکومت مجھے قتل کروانا چاہتی ہے، عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان جان کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانوی آئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی۔
تھرسڈے ٹائمز کے نیوز ڈیسک سے تازہ ترین خبریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان جان کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانوی آئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

یہ فوج قومی فوج ہے ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی لیڈر قابل احترام ہیں افواج پاکستان کا کسی خاص سیاسی جماعت اور سوچ کی طرف جھکاو نہیں ہے۔

جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اگر آپ الیکشن چاہتے ہیں تو اپنی حکومتیں گرادیں تو ہم نے اپنی حکومتیں ختم کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب میری حکومت ختم ہورہی تھی تو میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ ہماری حکومت نہ گراو ہم تمہیں ایکسٹیشن دے دیے ہیں۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف بھی شریک تھییں۔

برطانوی جریدے "دی ٹیلی گراف" میں 21 اکتوبر 2007 کو عمران خان نے بینظیر بھٹو کو خود کارساز بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سانحہ ناگزیر تھا اور اس کا سب کو انتظار تھا۔

تحرک عدم اعتماد کے موقع پر جنرل باجوہ نے ہمیں بلایا اور کہا کہ اگرآپ تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں تو میں عمران خان کو استعفی دینے پر راضی کرلونگا جس پر ہم نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ پھر میں پانچ منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں۔

حریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور بشریٰ نامی خاتون کا نکاح غیر شرعی تھا کیونکہ اس وقت تک بشریٰ کی خاور مانیکا سے طلاق کے بعد عدت کا وقت مکمل نہیں ہوا تھا۔ مفتی سعید نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ سے لاعلم رکھا گیا اور جھوٹ بولا گیا کہ نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ حقیقت سے واقف تھے۔

عمران خان نے دعوی کیا کہ ان کے دور میں میڈیا آزاد تھا اور میڈیا کو جتنی آزادی تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ملی، اتنی پہلے کبھی نہیں ملی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہراکبر نقوی، جسٹس منیب اختراور جسٹس اعجازالاحسن کیخللف ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا کام قوموں کوبحرانوں سے سے نکالنا ہوتا ہے بحرانوں میں دھکیلنا نہیں ہوتا۔
