29.9 C
Islamabad
Sat, 1 October 2022

جنگلی جمہوریت اور راستہ

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data use policy
- Advertisement -

+ other posts

Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com

ہزاروں مسائل جن پر لکھنے کو جی تو چاہتا ہے مگر اپنی محبتیں ایسا کرنے سے روکتی ہیں مگر یہ لازم ہے کہ اندھی محبت میں گرفتار ہو کر محبوب کو یہ حق نا دیا جائے کہ وہ میری ذات تک روند کر چلتا بنے بالخصوص ان خواہشات کو تو کم از کم پس دیوار نہیں کرنے دیا جا سکتا، جو خود اسی محبوب کی پیدا کردہ ہیں۔ 

یہ سیاستدان جو چکی پیستے ہیں یہ اس آرام اور سکون کی سزا ہے یہ جو اقتدار میں لیتے ہیں، عوام تو دونوں صورتوں میں پستی ہے ان کے اقتدار میں بھی اور ان کے احتجاج میں بھی۔ بہرحال امید ہر وقت قائم و دائم رہتی ہے کہ اس بار کچھ اچھا ہوگا

جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ ملک پاکستان میں اس وقت جنگلی جمہوریت رائج ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ جنگل میں کسی قسم کا قانون نہیں ہوتا، اور پاکستان میں جس قسم کی جمہوریت اس وقت رائج ہے اسے جنگلی جمہوریت کہنا بےجا نہ ہوگا۔ کیونکہ اس وقت حالات یہ ہیں کہ آئین قانون تو ہے لیکن عملداری نہ ہونے کے برابر ہے، ایک ڈمی پرائم منسٹر کرسی پہ براجمان ہے، ڈمی اس لئے کہ اس پرائم منسٹر کی ڈوریاں کوئی اور ہلا رہا ہے، آپ نظر دوڑائیں تو آپکو معلوم پڑے گا کہ تقریبا ہر ادارے کا سربراہ یا تو ریٹائررڈ فوجی ہے یا حاضر سروس جرنیل ہے، اسٹیبلشمنٹ (بلیک میلرز) نے پاکستان کے نظام کو بہت مضبوطی سے جکڑ رکھا ہے، ایسے حالات میں 20 ستمبر 2020 کو اپوزیشن جماعتوں کا ایک الائنس بنا، جس نے عوامی احتجاج کا راستہ اپنایا اور پاکستان کے ہر بڑے شہر میں کافی کامیاب اور متاثرکن جلسے کئے، اپوزیشن کے قائدین نے بےباک تقاریر بھی کیں، پہلے جو باتیں صرف ڈرائنگ رومز کی حد تک تھیں، اب چوکوں، چوراہوں اور کسی حد تک مین سٹریم میڈیا تک آ چکی ہیں، یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سخت باتیں اب زبان زد عام ہو چکی ہیں، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں خاص طور پہ ن لیگ اور جے یو آئی نے بہت مشکل راستہ چنا ہے، اس راستے میں بہت سے امتحان ابھی بھی باقی ہیں، پی ڈی ایم کا اتحاد میں رہنا ہی انکی سب سے بڑی جیت ہوگی، ابھی بہت سے لیڈران اور کارکنان کی گرفتاریاں ہوں گی، میڈیا پہ بے نیاز الزامات لگائے جائیں گے، اتحاد توڑنے کی سر توڑ کوشش کی جائیگی، اپنی اپنی جماعت کے بیانئے کے فرق کو اجاگر کیا جائیگا، غرض یہ کہ پی ڈی ایم کو سخت ترین حالات سے گزرنا ہوگا، اگر پی ڈی ایم میں اتحاد قائم رہتا ہے (جس کی توقع کم ہے) تو جیت پکی ہے چاہے دیر سے ہی نتائج ملیں لیکن نتائج پی ڈی ایم کے حق میں ہی ہوں گے، جب سے پی ڈی ایم کا اتحاد بنا ہے شروع سے موقف سخت رکھنے کے بعد اب جنوری کے مہینے میں موسم کی مناسبت سے موقف ذرا ٹھنڈا ہو گیا ہے، لیکن شاید حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے۔

اس وقت سوچنے کی بات ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ جس نظام کو توڑنے کی امیدیں پی ڈی ایم نے باندھی ہوئی ہیں اسے توڑنا بہت مشکل اور کٹھن ہے، کیونکہ نظام کو بہت بری طرح جکڑا جا چکا، ایسے میں سوائے ڈائیلاگ کے کوئی راستہ باقی نہیں بچتا، اور میرے نزدیک ڈائیلاگ ہی اس ملک کو بھنور سے نکال سکتا ہے، ڈائیلاگ ہمیشہ انہی سے ہوتا ہے جو طاقت میں ہو، اور طاقت میں کون ہے؟ یہ آپ سب جانتے ہیں۔ اور سب سے برا سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈائیلاگ کیوں کرے گی؟

اے جو لٹکے نے سولی اے لتھنے نہیں 

راج بدلن گئے سورج چڑھن لین گے

اگر آئین پہ عملدرآمد آج سے شروع ہو جائے تو یہ حکومت چند دنوں میں گر سکتی ہے، آئین سے عملدرآمد سے مراد اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں اور حکومتی اتحادیوں کی پشت پناہی چھوڑ دے تو راستہ نکل سکتا ہے، اور معاملات نئے الیکشن کی طرف جاسکتے ہیں ، صرف اور صرف نئے اور صاف شفاف الیکشن ہی اس ملک کو اس بھنور سے نکال سکتے ہیں۔

دوسری صورت میں جس کے چانسز زیادہ ہیں  دھیرے دھیرے اپوزیشن کو گولیاں دے کر پانچ سال پورے کئے جائیں گے اور اگلے الیکشن میں مائنس اولڈ فیسز ہائبرڈ جمہوریت 1988 والی جو ایک بار پھر تمغہ جمہوریت کا اعلان کریگی۔ عوام کوہلو کے بیل کی مانند آنکھوں پر پٹی بندھی دائروں میں گھومتی رہیگی۔ بلیک میلرز اور بلیک میل ہونے والے پھر سےمل بانٹ کھائینگے۔ راستہ بہت کٹھن اور حالات گھمبیر ہیں، بلیک میلرز کبھی بھی آسانی سے آپکے لئے راستہ نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ جس دن اس ملک میں حقیقی جمہوریت آ گئی اس دن بلیک میلرز کرپشن نہیں کر سکیں گے انکا دانہ پانی بند ہو جائیگا،

اپوزیشن کو چاہئے کہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر ڈٹی رہے، تو ہی نتائج انکے حق میں جا سکتے ہیں۔


The contributor, Ghulam Mustafa, can be reached @gm_uaegm.

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES

FRESH OFF THE PRESS

ٹرمپ کے گھر چھاپہ کی طرز پر بنی گالہ پر بھی چھاپہ مار کر سائفر برآمد کیا جائے، مریم نواز

جن لوگوں نے عمران خان کے کہنے پر ایبسلیوٹلی ناٹ کے اسٹیکرز لگائے ہوئے تھے انہیں اب عمران خان سے پوچھنا چاہیے اب ان اسٹیکرز کا کیا کرنا ہے

ملک ایک ناہنجار، نااہل اورغدار کے ہاتھوں گروی رکھا گیا، مریم نواز

ن لیگی نائب صدر نے مزید لکھا کہ اگر آج ہر طرح کا سنگین جرم ثابت ہونے کے بعد بھی اس غدار عمران کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا تو پھر ملک کی تباہی کا ذمہ دار ہم سب کو سمجھا جائے گا۔

اسحاق ڈار کی واپسی

سینیٹر اسحاق ڈار کی فوری ملک واپسی ہورہی ہے اور وہ آئیندہ چند دنوں میں ملک کے نئے وزیرخزانہ کا حلف اٹھانے جارہے ہیں۔

نظام کی تبدیلی یا سوچ کی تبدیلی

ہم پچھتر سال کے سود و خسارے کا حساب لگانے بیٹھیں تو خسارے کا تناسب سود سے زیادہ ہی ہو گا اور بتدریج یہ خسارہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

سیلاب، دہشتگردی، اسلاموفوبیا، بھارتی مسلمانوں پر ظلم، شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پر پاکستان پر آئی اس بڑی آفت بارے خود آپ کو بتانے آیا ہوں جس آفت کی وجہ سے پاکستان ایک تہائی پانی کے نیچے ہے۔

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں

جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ "پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔" پھر جب پڑھنے پڑھانے سے واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ ہمارے والدین نے بھی ایسے ہی دور میں ہوش سنبھالا تھا جب "پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا تھا۔"

مہنگائی کا جن بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے، اسحاق ڈار

مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بجائےاسکے ہمارا سارا فوکس معیشت مہنگائی پر ہو ہم ایکسٹینشن جیسی چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں جس پر اتنا وقت صرف کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ ایکسٹینشن دینی ہے نہیں دینی مانگی جائیگی یا نہیں یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے جب وقت آئیگا حکومت فیصلہ کر لے گی

لز ٹرس برطانیہ کی تیسری خاتون وزیراعظم بننے جارہی ہیں

لزٹرس نے برطانوی ٹوری جماعت کی قیادت کا مقابلہ جیت لیا ہے اور وہ اب ٹوری پارٹی کی نئی رہنما اور اگلی برطانوی وزیراعظم ہونگی لز ٹرس نے ٹوری پارٹی کی قیادت کیلئے رشی سوناک کو شکست دے دی ہے۔

آئی ایم ایف رپورٹ تحریک انصاف حکومت کیخلاف کھلی چارج شیٹ ہے، اسحاق ڈار

پاکستان کی تاریخ میں میں آئی ایم ایف کا پروگرام صرف ایک مرتبہ کامیابی سے مکمل ہوا جو میاں نواز شریف کی آخری حکومت میں بطور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کیا تھا