Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
The EU formally commended Pakistan's Iran mediation, supported Pakistan's Kashmir position, called for action against Afghan terrorist groups and backed a two-state solution for Palestine in joint communiqué. Kallas met PM Shehbaz and Field Marshal Munir.
ڈسکہ کا ضمنی الیکشن ہوگیا اور نتیجہ الیکشن کی رات ہی آگیا نہ اس بار دھند پڑی نہ آر ٹی ایس سسٹم بیٹھا نہ ریٹرننگ افسران کے موبائل فون آف ہوئے اور نہ ہی وہ خود گمشدہ ہوئے
عوام نے اس بار نہ صرف ووٹ دیا بالکہ ووٹ پر ڈٹ کر پہرہ بھی دیا اورنتیجہ سب کے سامنے ہے ن لیگ نے بڑے واضع مارجن سے این اے 75 ڈسکہ کی سیٹ اپنے نام کرلی اس جیت کا سہرا جہاں ڈسکہ کی عوام کو جاتا ہے وہاں یہ سہرا مقامی عہدیداروں سوشل میڈیا رضاکاروں اور خصوصا مریم نواز کو جاتا ہے جنہوں نے مسلم لیگ ن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے وہ جماعت جودائیں بازو کی جماعت کے طور پر دیکھی جاتی تھی آج اسکا امیج یکسر بدل چکا ہے پیپلز پارٹی جو مزاحمت کی نشانی سمجھی جاتی تھی وہ جگہ آج مسلم لیگ نے لے لی ہے میاں نواز شریف اور مریم نواز کا مزاحمتی بیانیہ ہر گزرنے والے دن کیساتھ عوام میں پذیرائی حاصل کرتا جارہا ہے اور ڈسکہ کے الیکشن کا نتیجہ اسکا واضع ثبوت ہے جس طرح ن لیگ میں اب خواتین رہنما ابھر کرسامنے آرہی ہیں اسکا کریڈٹ بھی مکمل طور پر مریم نواز کو جاتا ہے جو خواتین کو پارٹی میں خصوصی پذیرائی دے رہی ہیں
ڈسکہ الیکشن کے رزلٹس دیکھ کراب یہ یقین ہوگیا ہے کہ اگر 2018 کے انتخابات میں آرٹی ایس سسٹم نہ بیٹھتا تو الیکشن رزلٹس بہت مختلف ہوتے
کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو نااہل کروا کراسکو سزا دلوا کر اسکی سیاست ختم کردی گئی ہے لیکن یہ کیسی سیاست ختم ہوئی ہے کہ کہا جارہا ہے کہ ڈسکہ الیکشن کی نگرانی میاں نواز شریف لندن سے بیٹھ کر خود کررہے تھے لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ مرکزمیں عمران خان وزیراعظم مرکزمیں انکی حکومت پنجاب میں انکا اپنا وزیراعلی اور انکی حکومت لیکن یہ کیسی سیاست ختم کی گئی ہے کہ ملک سے باہر بیٹھا ہوا ایک نااہل سزا یافتہ نوازشریف جسکے سر پر ہاتھ رکھ رہا ہے وہ الیکشن جیت رہا ہے اور ملک میں موجود صادق و امین جس کے سر پر ہاتھ رکھ رہا ہے وہ الیکشن پر الیکشن ہارتا چلا جارہا ہے
اگر تھوڑا سا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ صورتحال 2018 الیکشن میں بھی یہی تھی نواز شریف کا ٹکٹ جیت کی نشانی تھا لیکن جب کچھ نہ ملا تو آرٹی ایس سسٹم کو تھکا کر بٹھا دیا گیا اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے گئے جسکا نتیجہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے ملکی ترقی کا پہیہ الٹی جانب گامزن ہے مہنگائی کا پہیہ تیزی سے آگے کی جانب گامزن ہے عوام کی پریشانی کا پہیہ پوری رفتار سے آگے کی جانب گھوم رہا ہے جسکے رکنے کے آثار نظر نہیں آرہے ابھی اس حکومت کے ڈھائی برس میں یہ صورتحال ہوگئی ہے اگر یہ حکومت بقیہ ڈھائی برس بھی پورے کرگئی تو پھر ترقی مہنگائی اور عوامی پریشانی کا پہیہ جس تیزی سے گھوم رہا ہے اس کا شاید بہت جلد دھڑن تختہ ہو جائے اور صورتحال وہاں نہ پہنچ جائے جہاں سے واپسی ناممکن ہوجائے اللہ نہ کرے ایسا وقت آئے اللہ پاکستان کے حال پر رحم فرمائے آمین
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔