Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
دو ہزار اٹھارہ الیکشن والی تاریخ ایک مرتبہ پھر ۲۰۲۱ میں دہرائی گئی ن لیگ جو ۲۰۱۸ الیکشن میں جیت رہی تھی آخری وقت میں ہار گئی یا ہروا دی گئی بالکل اسی طرح ۲۹ اپریل کو ہونے والے کراچی الیکشن میں ن لیگ آخر تک لیڈ حاصل کیے ہوئے تھی اور پھر اچانک اسکی لیڈ کم ہونا شروع ہوئی اوروہ الیکشن ہارگئی یا ہروا دی گئی
دو ہزار اٹھارہ انتخابات اور ۲۰۲۱ کے ضمنی انتخابات میں مشترکہ بات یہ رہی کہ دونوں مرتبہ ن لیگ تقریبا 700 ووٹوں سے الیکشن ہاری فرق یہ تھا کہ ۲۰۱۸ میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی یا کروائی گئی اور اس مرتبہ پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی یا کروائی گئی
جب پیپلز پارٹی کی جیت کا اعلان ہوا تو مریم نواز نے سماجی رابطے کی سائیٹ پرٹویٹ کیا اور کہا کہ کراچی اورخصوصا این اے 249 کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انھوں نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا اور مفتاح اسماعیل کو منتخب کیا
کراچی اورخصوصا NA 249 کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کے انھوں نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا اور مفتاح اسماعیل کو منتخب کیا۔یہ ہم سب کے لیے ایک بہت اہم فتح ہے۔عوام کے جاگنے کا بھی شکریہ آپ کے ووٹ چوری کرنے والے جلد آپ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے انشاءاللّہ یہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے!
مریم نواز کے اس پیغام سے یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ مسلم لیگ ن اس حلقہ سے خود کو کامیاب تصور کرتی ہے اور مزید یہ کہ وہ اس الیکشن رزلٹس کو قبول نہیں کرتی
کراچی الیکشن کے حیران کن نتیجہ نے دھاندلی کے بیانیہ کوایک مرتبہ پھرتقویت عطا کردی ہے یہاں پر پیپلز پارٹی کی جیت پربڑے شک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے کئی صحافیوں نے اس پر بات بھی کی ہے
معروف صحافی اور کالم نگار عمار مسعود لکھتے ہیں کہ جب نتائج آنے میں تاخیر ہوتی ہے تو کہیں دھند چھا رہی ہوتی ہے
یاد رکھیں جب نتائج آنے میں تاخیر ہو تی ہے تو کہیں دھند چھا رہی ہوتی ہے #NA249
معروف صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ ابھی ابھی خبر آئ ہے کہ کراچی میں ن لیگ کی جیت سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے وقت کم ہے اور کام زیادہ۔
ابھی ابھی خبر آئ ہے کہ کراچی میں ن لیگ کی جیت سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اب چونکہ ہندوستان کے ساتھ دوستی اور طالبان کو امن پر راضی کرنے جیسی مصروفیات کی وجہ سے PTI کو ووٹ نہیں پڑ رہے اس لئے اب PPP کو جیتنے کا موقع فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔ وقت کم ہے اور کام زیادہ۔
معروف صحافی حامد میر نے لکھا کہ الیکشن کمیشن نے تو کمال کر دیا 11 گھنٹے گذرنے پر بھی پورا رزلٹ نہیں آیا تاخیر کی وجہ پوری دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ این اے ۲۴۹ میں سب ہار گئے اور دھاندلی بیگم سحری کے بعد جیت گئی
الیکشن کمیشن نے تو کمال کر دیا 29 اپریل شام 5 بجے این اے 249 میں پولنگ بند ہوئی ٹرن آؤٹ بمشکل 10فیصد رہا 11 گھنٹے گذرنے پر بھی پورا رزلٹ نہیں آیا تاخیر کی وجہ پوری دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ این اے 249 میں سب ہار گئے اور دھاندلی بیگم سحری کے بعد جیت گئی ?
کراچی الیکشن میں ایک سب سے حیران کن بات تحریک انصاف کا پہلے تین نمبرز پر بھی نہ آنا رہا واضع رہے کہ یہ سیٹ تحریک انصاف کے ایم این اے اور وفاقی وزیرفیصل واوڈا کے سینیٹر بننے کے بعد خالی ہوئی تھی
پہلے پختونخواہ پھر پنجاب اور اب کراچی میں پے درپے ناکامیاں تحریک انصاف کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہیں لگتا ہے عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ بری طرح پٹ رہا ہے جسکی بنیادی وجہ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور لاقانونیت ہے تحریک انصاف حکومت کی ساری توجہ اپوزیشن خصوصا مسلم لیگ ن کو زیرعتاب رکھنے پر مرکوز لگتی ہے جسکی وجہ سے ملکی معاملات پر انکی گرفت کمزور نظر آتی ہے
اینکر منیب فاروق لکھتے ہیں مطلب کہ پی ٹی آئی نے تماشہ ہی بنا لیا ہے۔ ہر بائی الیکشن میں چھترول۔ آج تو ناک ہی کٹوا دی۔
مطلب کہ پی ٹی آئی نے تماشہ ہی بنا لیا ہے۔ ہر بائی الیکشن میں چھترول۔ آج تو ناک ہی کٹوا دی۔ ??۔ حکومتی ترجمانوں کی فوج جن کی سیاست کو ماظی کی داستان اور جن کو “irrelevant” , چور، ڈکیت کہتے تھکتی نہیں انھی سے اپنی سیاسی گت بنوائے چلے جا رہے ہیں۔
عمران خان حکومت نے تین برس تو جیسے تیسے کرکے نکال لیے لیکن آنے والے بقیہ دوبرس انکے لیے خاصے مشکل نظرآرہے ہیں مریم نواز کا رویہ ہر گزرتے دن کیساتھ جارحانہ ہوتا جارہا ہے میاں نواز شریف کا موڈ بھی جارحانہ ہے شہباز شریف بھی رہا ہوگئے ہیں اور حمزہ شہبازبھی اب پس دیوار زنداں نہیں اسلئے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کیلئے آنے والا وقت ہر گزرتے دن کیساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتا جائیگا
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔